میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فکرِ رومی اور عصر حاضر کا روحانی بحران اور اس کا حل

فکرِ رومی اور عصر حاضر کا روحانی بحران اور اس کا حل

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

عصرِ حاضر کی دنیا بے پناہ سائنسی ترقی اور مادی آسائشوں کے باوجود ایک گہرے روحانی بحران کا شکار ہے ۔ انسان بظاہر آزاد اور سہولت یافتہ ہے مگر اندر سے بے سکون، پریشان اور معنوی طور پر خالی دکھائی دیتا ہے ۔ زندگی کی تیز رفتاری، مقابلے کی دوڑ، شہرت اور دولت کے پیچھے بھاگتی ہوئی انسانیت نے خود کو اپنے ہی باطن سے دور کر لیا ہے ۔ انسان کے پاس معلومات کی بہتات ہے لیکن حکمت ناپید ہے ۔سہولیات بے شمار ہیں مگر ذہنی سکون ایک نایاب دولت بن چکا ہے ۔ یہی بحران دنیا بھر میں ذہنی دباؤ، اضطراب، بے چینی، تنہائی اور عدم اطمینان کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔ ایسے میں مولانا جلال الدین رومی کی فکر ایک شفا بخش نسخے کی طرح سامنے آتی ہے ، کیونکہ ان کا پیغام انسان کو اس کی اصل طرف لوٹنے کا راستہ دکھاتا ہے ، یعنی وہ راستہ جو دل سے شروع ہو کر خدا تک جاتا ہے ۔

رومی کی فکر کا پہلا اہم نکتہ خودشناسی ہے ۔ وہ بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ انسان جس کائنات کی تلاش میں دنیا بھر میں بھٹکتا ہے وہ دراصل اس کے اپنے اندر موجود ہے ۔ جدید دور کا انسان بیرونی کامیابیوں، مرتبے اور شہرت کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنی اصل ذات کو بھول چکا ہے ، اور یہی روحانی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔رومی کہتے ہیں کہ سچا سکون دل کی گہرائی میں ہے ، باہر کی دنیا محض ایک عکاس سطح ہے ۔ جب انسان اپنی خامیوں، خوبیوں، کمزوریوں اور اندر کے زخموں کا سامنا کرتا ہے ، تبھی وہ اپنے حقیقی وجود تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ اسی خودشناسی کے بعد خدا شناسی کا دروازہ کھلتا ہے ، اور یہ وہ دروازہ ہے جو انسان کو بے چینی سے نجات دے کر باطنی اطمینان عطا کرتا ہے ۔

رومی کی فکر کا دوسرا بنیادی ستون محبت ہے ۔ ان کے نزدیک محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک روحانی قوت ہے جو انسان کو اس کی اصل حقیقت تک پہنچاتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ محبت وہ پل ہے جو انسان کو دنیا کی الجھنوں سے نکال کر حقیقت کے ساحل تک پہنچا دیتی ہے ۔ آج کے دور میں جہاں نفرت، تعصب، تقسیم اور عدم برداشت نے انسانی معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ، رومی کا پیغام محبت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کو انسان سے جوڑنے والی سب سے بڑی طاقت دل کی وسعت ہے ، عقل کی دلیل نہیں۔ محبت دوسروں کو گلے لگانے ، ان کی کمزوریوں کو قبول کرنے ، اور ان کے دکھ کو سمجھنے کا نام ہے ۔ اگر معاشروں میں محبت پیدا ہو جائے تو یہ خود بخود نفرت کی دیواروں کو گرا دیتی ہے ، دلوں کو قریب کرتی ہے اور انسان کو انسانیت کی طرف لوٹا دیتی ہے ۔ رومی کے مطابق انسان کی اصل جنگ بیرونی حالات سے نہیں بلکہ اپنے نفس سے ہوتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو انسان خود کو بدل لے وہ پوری دنیا بدلنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے ۔ جدید دور کے انسان نے یہ جنگ بھلا دی ہے ؛ وہ اپنی کمزوریوں کا تجزیہ کرنے کے بجائے دوسروں کو الزام دیتا ہے ۔ رومی کی تعلیم یہ ہے کہ اصل تبدیلی اندر سے شروع ہوتی ہے ۔ جب انسان اپنے نفس کی صفائی کرتا ہے ، اپنے رویّوں اور ارادوں کو بہتر بناتا ہے ، جب محبت، صبر، حوصلہ اور شکر جیسے اوصاف کو اپناتا ہے تو اس کی حیات میں ایک نئی معنویت جنم لیتی ہے ۔ اسی باطنی تربیت کے بغیر نہ فرد کا سکون ممکن ہے نہ معاشرے کی اصلاح۔

رومی کی فکر کا ایک اور اہم پہلو درد اور آزمائش کی حقیقت ہے ۔ عصر عصرِ حاضر کا انسان تکلیف اور مشکلات سے بھاگتا ہے ، وہ ہر دکھ کا فوری حل چاہتا ہے ، مگر رومی ہمیں سکھاتے ہیں کہ درد انسان کے لیے رحمت بھی ہو سکتا ہے ۔ ان کے نزدیک زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے ۔ یہ ایک نہایت گہرا روحانی نقطہ ہے ۔ انسان جب تکلیف سے گزرتا ہے تو اس کی روح نرم ہوتی ہے ، اس کے اندر جھانکنے کا عمل شروع ہوتا ہے ، اور وہ اپنی حقیقت کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے ۔ آزمائشیں انسان کو مضبوط بھی کرتی ہیں اور خدا کے قریب بھی لاتی ہیں۔ آج کے نفسیاتی بحرانوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان مشکلات کو دشمن سمجھتا ہے ، حالانکہ وہ اس کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رومی کی فکر کو عصرِ حاضر کے بحران حل کرنے میں کیسے استعمال کیا جائے ؟ سب سے پہلے ہمیں خاموشی اور مراقبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ آج کا انسان شور، معلومات اور نیٹ ورکنگ میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ اسے اپنے ہی دل کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ رومی خاموشی کو روح کی غذا قرار دیتے ہیں، کیونکہ اسی میں انسان اپنے اندر کے سوالوں کا جواب پاتا ہے ۔ چند منٹ کی خاموشی، سانس کی مشق یا مراقبہ ذہنی سکون، خود آگاہی اور باطنی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے ۔ دوسرا حل انسان دوستی اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے ۔ رومی کا حلقہ عشق مذہب، نسل، قومیت اور زبان کے امتیاز سے بالاتر ہے ۔ آج کے تقسیم شدہ معاشرے میں یہ فکر ہمیں بتاتی ہے کہ انسان ہونا سب سے اہم شناخت ہے ، اور دوسروں کے لیے دل میں جگہ بنانا روح کو وسعت دیتا ہے ۔ اس رواداری کے بغیر معاشرتی ہم آہنگی ممکن نہیں۔

تیسرا حل مادیت کے مقابلے میں معنویت کا احیاء ہے ۔ رومی بار بار یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کی اصل دولت دل کے اندر ہے ، بازاروں میں نہیں۔ دولت، طاقت اور شہرت زندگی کے مقاصد نہیں بلکہ اس کا محض ایک حصہ ہیں۔ جب انسان زندگی کو محبت، اخلاقیات، ہمدردی اور روحانی اقدار سے خالی کر دیتا ہے تو وہ بے سکون ضرور ہو جاتا ہے ، چاہے اس کے پاس دنیا بھر کی آسائشیں موجود ہوں۔ رومی کی فکر ہمیں مقصدیت عطا کرتی ہے ، اور یہی مقصدیت روحانی بحران کا بہترین علاج ہے ۔ چوتھا حل روحانی تربیت ہے ۔ رومی صوفیانہ طریقت کو محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں رکھتے بلکہ وہ دل کی تطہیر اور اخلاق کی درستی پر زور دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انسان اپنے اندر کا سفر کرے ، اپنے نفس کی خامیوں کو پہچانے اور ان پر قابو پائے ۔ یہی تربیت فرد کو مضبوط اور معاشرے کو بہتر بناتی ہے ۔ پانچواں حل فطرت کے ساتھ تعلق کی بحالی ہے ۔ رومی اکثر فطرت کی مثالوں سے روحانی حقائق کھولتے ہیں۔ جدید دور کا انسان فطرت سے دور ہو گیا ہے ، اور یہی دوری اس کے ذہنی و روحانی بحران کو بڑھا رہی ہے ۔ فطرت کے قریب رہنا انسان کے اندر سکون پیدا کرتا ہے ، اس کے دل میں شکرگزاری اور عاجزی پیدا کرتا ہے ، اور اسے اپنے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔

اختتامیہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ عصرِ حاضر کا روحانی بحران ایک عمیق مسئلہ ہے ، مگر رومی کی فکر آج بھی اسی طرح روشن ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ ان کا پیغام انسان کو اپنے باطن سے جوڑتا ہے ، محبت سکھاتا ہے ، درد کی حقیقت سمجھاتا ہے ، اور زندگی میں مقصدیت پیدا کرتا ہے ۔ اگر انسان رومی کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف اسے سکون اور اطمینان نصیب ہو سکتا ہے بلکہ پوری انسانیت ایک بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے ۔ رومی کا پیغام آج بھی ہمیں پکارتا ہے کہ خود کو پہچانو، محبت اختیار کرو، اور اپنے اندر کے سفر پر روانہ ہو جاؤاسی میں اس دور کے تمام بحرانوں کا حل پوشیدہ ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں