دو کردار
شیئر کریں
یہاں سچے کو دھوکہ ملتا ہے اورجھوٹے کو موقع۔ سچ سیدھا ہوتا ہے ،اس لئے ٹھوکر کھا جاتا ہے ،جھوٹ چالاک ہوتا ہے ،اس لئے آگے نکل جاتا ہے ۔پھر وقت سب دیکھ رہا ہے ،آج جو شورمیں جیت رہا ہے ،کل وہی خاموشی سے ہارجائے گا۔اس لئے سچ چھوڑنا مت،بھلے راستہ لمبا ہی ہو،یاد رکھو !! ہارعارضی ہوتی ہے ،پرجھوٹ کی جیت مستقل نہیں ہوسکتی۔سچائی کو دبایا ضرور جا سکتا ہے ، لیکن اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ عارضی کامیابی حاصل کرنے والا جھوٹ آخر کار بے نقاب ہو کر مٹ جاتا ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بادل سورج کو کچھ دیر کے لیے چھپا دیتے ہیں اوراندھیرا چھا جاتا ہے ۔ بادلوں کو لگتا ہے کہ وہ جیت گئے ، لیکن یہ جیت عارضی ہوتی ہے ۔ جیسے ہی ہوا چلتی ہے ، بادل چھٹ جاتے ہیں اورسورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دوبارہ چمکنے لگتا ہے ۔
جھوٹ کتنا ہی طاقتورکیوں نہ ہو، اس کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے ۔آخرعزت سچائی کی ہوتی ہے ،سچ ہی ایسا ساتھی ہے جو اکیلے میں بھی تمہاری پیٹھ تھپتپھاتا ہے ۔
عدالت نے جھوٹے گواہوں اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پرسقراط کو مجرم قرار دیا اور انہیں زہر کا پیالہ پینے کی سزا سنائی۔ بظاہر جھوٹ جیت گیا، سقراط کے مخالفین جشن منا رہے تھے اور سچائی کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا۔ سقراط نے ہنستے ہوئے زہر پی لیا اور دنیاوی طور پر وہ یہ جنگ ہار گئے ، وقت کا پہیہ گھوما اورتاریخ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ آج سقراط کو زہر دینے والے ججوں اور حکمرانوں کے نام تک لوگ بھول چکے ہیں، اور اگر کوئی انہیں یاد بھی رکھتا ہے تو صرف ظالم اور جھوٹے کے طور پر۔ دوسری طرف، سقراط آج ڈھائی ہزار سال بعد بھی دنیا بھر کے انسانوں کے دلوں اور فلسفے کی کتابوں میں زندہ ہیں۔ ان کی عارضی ہار دراصل سچ کی وہ ابدی جیت بن گئی جس نے جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا۔ گلیلیو نے کہا زمین سورج کے گرد گھومتی ہے ، مذہبی اور سیاسی طاقتوں نے اسے اپنے عقائد کے خلاف بغاوت سمجھا، اسے عدالت میں بلایا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور اپنے نظریے سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ وہ اپنے زمانے کی طاقت کے سامنے خاموش تو ہوگیا، مگر زمین نے اپنی گردش نہیں چھوڑی۔ حکمرانوں کے فیصلے بدل گئے ، عدالتوں کے حکم ماضی کا حصہ بن گئے ، لیکن گلیلیو کا سچ آج بھی سائنس کی بنیادوں میں زندہ ہے ۔ یہ تاریخ کا عجیب انصاف ہے کہ جس شخص کو ایک زمانے میں مجرم سمجھا گیا، اسی کے نظریے کو بعد میں علم کی روشنی تسلیم کرلیا گیا۔
سچ اورجھوٹ کی جنگ صرف عدالتوں، ایوانوں یا حکمرانوں کے درمیان نہیں ہوتی، یہ جنگ گھروں، دفتروں، بازاروں اور رشتوں میں بھی جاری رہتی ہے ۔ کبھی ایک ایماندار ملازم اپنے افسر کی خوشامد نہ کرنے پر ترقی سے محروم رہ جاتا ہے ، کبھی ایک سچا دوست کڑوی بات کہنے کی وجہ سے تنہا ہوجاتا ہے ، کبھی ایک دیانت دار تاجر ملاوٹ نہ کرنے کی وجہ سے منافع کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے ۔ دوسری طرف خوشامد کرنے والا، دھوکا دینے والا اور دوسروں کا حق مارنے والا کچھ عرصہ بڑی کامیابی سے زندگی گزارتا دکھائی دیتا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام ہے یا اس مقام پر پہنچنے کا نام بھی ہے جہاں انسان اپنی ہی نظروں میں شرمندہ نہ ہو؟
اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔ آسانی کے دنوں میں سچائی کا دعویٰ ہر کوئی کرسکتا ہے ، لیکن جب سچ بولنے سے عہدہ، دولت، تعلق یا اقتدار خطرے میں پڑ جائے تو بہت کم لوگ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچ بولنے والا کبھی کبھی اپنی منزل دیر سے پاتا ہے ، مگر جھوٹ بولنے والا اپنی منزل پر پہنچ کر بھی سکون سے محروم رہتا ہے ۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ شور مچانے والوں کے حق میں نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک خاموش انسان کی سچائی صدیوں کے شورپربھاری پڑ جاتی ہے ۔ اس لیے حالات جیسے بھی ہوں، اپنے لفظوں کی حرمت اورکردار کی سچائی مت بیچیں۔ کیونکہ دنیا آپ کو کچھ عرصے کے لیے شکست خوردہ قرار دے سکتی ہے ، مگر وقت کے پاس ہرچہرے سے نقاب اتارنے کا اپنا طریقہ ہوتا ہے ۔
جھوٹ کی ایک اورخطرناک خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ خوبصورت لباس پہن کرآتا ہے ۔ کبھی اسے مصلحت کا نام دیا جاتا ہے ، کبھی حکمت عملی کا، کبھی سیاسی بصیرت کا اور کبھی حالات کی مجبوری کا۔ انسان اپنے مفاد کیلئے سچ کو اتنے نام دے دیتا ہے کہ اسے اپنی بے ایمانی بھی اصول پسندی دکھائی دینے لگتی ہے ۔ لیکن نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ زہر کو شہد کہہ دینے سے اس کی تاثیر ختم نہیں ہوتی، اسی طرح جھوٹ کو مصلحت کا نام دینے سے وہ سچ نہیں بن جاتا۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ سچائی کو ثابت کرنے کیلئے وقت درکار ہوسکتا ہے ، مگرجھوٹ کو چھپانے کے لیے پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے ۔ جھوٹا انسان ہر نئے دن کے ساتھ اپنے لیے ایک نئی کہانی لکھتا ہے ، جبکہ سچا انسان اپنی ایک ہی بات پر قائم رہتا ہے ۔ یہی دونوں کے کردار کا سب سے بڑا فرق ہے ۔ جھوٹ اقتدارحاصل کرسکتا ہے ، شہرت خرید سکتا ہے ، لوگوں کو خاموش کرا سکتا ہے ، مگر تاریخ میں عزت کا مقام صرف سچ کو ملتا ہے ۔حرف آخر یہی ہے ، جھوٹ کتنا ہی طاقتورکیوں نہ ہو، اس کی عمرمختصر ہوتی ہے ۔آخرعزت سچائی کی ہوتی ہے ،سچ ہی ایسا ساتھی ہے جو اکیلے میں بھی تمہاری پیٹھ تھپتپھاتا ہے ۔


