میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی مسلمانوں کی آزادی سلب

بھارتی مسلمانوں کی آزادی سلب

جرات ڈیسک
جمعه, ۶ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کے ہندوتوا نظریے کے زیر اثر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے کا عمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی کے علاقے شالیمار باغ میں واقع مدینہ مسجد کو رات کی تاریکی میں حکام نے مسمار کر دیا۔عینی شاہدین اور مقامی رہائشیوں نے اس کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مسجد کے اندر عبادت گزاروں اور رہائشیوں کی موجودگی کے باوجود انہدامی عمل کو انتہائی عجلت اور غیر قانونی انداز میں مکمل کیا گیا جس سے مقامی مسلمانوں میں خوف پھیل گیا ہے۔ بھارت بھر میں مسلمانوں کی عبادت گاہیں اور نجی املاک مسلسل خطرے میں ہیں۔ حکومتی سرپرستی میں چلنے والی یہ کارروائیاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور انہیں ان کے مذہبی مراکز سے محروم کرنے کا ایک منظم سلسلہ معلوم ہوتی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے مسلم نیٹ ورک ٹی وی کی ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ میں مزید ہوشربا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 6 برسوں کے دوران بی جے پی کی متنازع بلڈوزر مہم کے نتیجے میں 2100 سے زائد مسلم عبادت گاہیں اور عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس کر دی گئی ہیں۔یہ کارروائیاں صرف دہلی تک محدود نہیں بلکہ پورے بھارت میں جاری ہیں۔ سال 2020 کے دہلی فسادات کے دوران بھی مذہبی تعصب کی انتہا دیکھی گئی، جب کم از کم 17 مساجد، مدارس اور قدیم مزارات کو حملوں کے بعد نذرِ آتش کر دیا گیا۔ اس طرح کے واقعات سے بھارت میں اقلیتوں کا تحفظ سنگین سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم املاک کے خلاف جاری یہ مہم بھارت کے سیکولر تشخص کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے مذہبی مقامات کا تقدس یقینی بنائے۔

بھارت میں ہندوتوا نظریے اور ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تحت اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور ان کی مذہبی عبادت گاہوں کے خلاف پْرتشدد واقعات اور امتیازی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔اکتوبر 2026 میں بھارتی ریاست بہار میں ہندوتوا عناصر نے ایک مسجد پر حملہ کیا، جہاں نمازیوں پر تشدد کیا گیا اور املاک کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ستمبر اور اکتوبر 2026 میں نئی دہلی اور دیگر علاقوں میں قدیم مساجد اور اسلامی تاریخی مقامات کو رات کی تاریکی میں شہید کرنے، مسمار کرنے یا ان کی بنیادی سہولیات (جیسے پانی اور بجلی) منقطع کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، موجودہ حکومتی دور میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی سرپرستی کے باعث بھارت میں اقلیتیں شدید خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران تاریخی مساجد، مزارات اور مسلم ثقافتی ورثے کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ستمبر 2026 میں بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 600 سال قدیم شاہی مسجد کے انہدام کی کوشش کی گئی، جس کے خلاف مقامی مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور یہ کارروائی ناکام بنا دی۔ اکتوبر 2026 کے دوران قدیم "جونا کنڈلا” مسجد کو مسمار کر دیا گیا، جو کہ 1965 سے باضابطہ طور پر وقف بورڈ کے ریکارڈ کا حصہ تھی۔ یکم جولائی 2026ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر وارانسی کے علاقے دال منڈی میں سڑک کی توسیع کے بہانے کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران مسلم املاک اور تاریخی ورثے کو متاثر کیا گیا بھارت میں مسلم ثقافتی ورثے کو درپیش چیلنجز۔مختلف عدالتوں میں تاریخی مساجد کے حوالے سے مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ مثلاً کچھ مقامات پر 700 سال پرانی مساجد یا تاریخی عبادت گاہوں کو مندر قرار دینے یا دعوے سامنے آئے ہیں، جن کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کو شدید تشویش لاحق ہے۔

بیشتر تاریخی مساجد کو بغیر کسی ٹھوس تاریخی ثبوت کے "غیر قانونی” قرار دیا جاتا ہے۔ سڑکوں کی چوڑائی (Road Widening) یا شہر کی خوبصورتی کے نام پر تاریخی مساجد اور مزارات کو گرایا جا رہا ہے۔ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، یہ اقدامات حکمران جماعت اور ہندوتوا نظریے کے تحت اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کی ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہیں۔بھارت میں کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں عطیات کے غبن پر خاموش رہنے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بھارت بھر میں کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقیدے پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ یہ تنقید ایک نئے سیاسی تنازعے کے بعد اس وقت سامنے آئی جب اتر پردیش کانگریس کے سربراہ اجے رائے نے کہا کہ انہیں پولیس نے پارٹی وفد کے ہمراہ ایودھیا میں رام مندر جاتے ہوئے گرفتار کیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ مندر کا انتظام سنبھالنے والا ٹرسٹ مناسب طریقہ کار کے بغیر تشکیل دیا گیا تھا اور اسے حق معلومات (آر ٹی آئی) کے قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔

جے رام رمیش نے کہا کہ شری رام مندر میں لوٹ مار پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی ملک کے کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقیدے پر براہ راست حملہ ہے۔ مودی حکومت نے بغیر کسی شفافیت یا عوامی مشاورت کے ٹرسٹ بنایا، اس میں آر ایس ایس کے ارکان بھی شامل ہیں۔ پھر پورے ٹرسٹ کو آر ٹی آئی سے باہر رکھا گیا۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاست گجرات میں حکام نے ضلع کچ میں ایک تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا ہے، جس پر مقامی باشندوں اور مسلم تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ گاندھی دھام کے علاقے میں جونا کنڈا مسجد کو 29 جون کوبلڈوزر مہم کے دوران مسمار کر دیا گیا۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسماری سے قبل مسجد کی انتظامیہ کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ مسجد اپنی تاریخی اہمیت اور مخصوص فن تعمیر کے لیے مشہور تھی۔ مسجد کے صدر محمد ثمر نے کہا کہ مسجد 1965 سے سرکاری وقف اراضی کے ریکارڈ میں درج تھی لیکن اس کے باوجود حکام نے اسے مسمار کردیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے اس دوران مسلمانوں کو احتجاج سے روکا۔

یادر ہے کہ بی جے پی کی ہندو توا حکومت میں بھارت بھر میں مسلمانوں کے گھروں مساجد، مدارس، مزارات، گھروں اور تجارتی عمارتوں کی مسماری کا مذمومسلسلہ اپنے زورروں پر ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں