میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پر آتے

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پر آتے

منتظم
هفته, ۲۲ اپریل ۲۰۱۷

شیئر کریں

فراز کو خود سے یہ گلہ بہت تسلسل سے رہا کہ وہ اپنے دل کے حالات سب سے بیاں کرتے پھرتے تھے اور انہیں محبتیں کرنا نہیں آتیں تھیں۔ان کے محبوب بھی پریانکا چوپڑہ کی مشہور سیریز Quantico جیسے ہوتے تھے۔ ابتدا میں تو بالکل پلے نہ پڑتے تھے کہ چاہتے کیا ہیں۔ اسی لیے ہر وہ عاشق جو دیگر پاکستانیوں کی طرح پاناما کے فیصلے کی طرح ان کا منتظر رہتا تھا ان میں سے کچھ شکر، تو کچھ شکایتوں کے انبار لگادیتے تھے۔
ہمارا خود اس فیصلے پر تبصرہ ہماری ایک جاننے والی کو بہت پسند آیا ۔ہم سے پوچھنے لگی کہ فیصلہ کیسا لگا تو ہم نے اصغر گونڈوی کا وہ شعر سنا دیا کہ
آئے تھے سبھی طرح کے جلوے میرے آگے
میں نے مگر اے دیدہ حیراں ، نہیں دیکھا
ہمارے ایڈیٹر صاحب کو اعتراض تھا کہ ہم اس شعر میں وہ معنی خیز سکتہ اڑا دیں جو حیراں کے بعد ہم نے شرارتاً ڈالا ہے تو ہم نے بھی دھمکی دی کہ ایسا ہوا تو ہم آئندہ مفت میں کالم نہیں لکھیں۔وہ پیسے کا مذاق برداشت نہیں کرتے۔ہماری چیتاؤنی کارگر ہوئی ۔جہان اہل وفا ویران ہونے سے بچ گیا اور ہم ہیں کہ بدستور مثل ِغبار جیتے ہیں۔
پاناما پیپرز اسکینڈل جیسے عوامی دلچسپی کے مقدمات آئینی عرض داشت بحوالہ نمبر 29 بسال 2016 کے آغاز میںشاید یہی وجہ تھی کہ ایک اہل اقتدار کے باب میں ایسے باعث آزار ادبی حوالے کا سہارا لیا جسے میمن اور گجراتی کولہے کا ڈام (چوٹ) کہتے ہیں۔ یہ ایسی چوٹ ہوتی ہے جس کا دکھانا مضروب کے لیے باعث خفت ہو تا ہے۔ فیصلے کے کاتب فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے اور جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے، جن کا مطالعہ ادب بہت متاثر کن حد تک وسیع ہے قانون کی کسی پرانی کتاب کی گرد جھاڑ کر کوئی جواہر پارہ نکالنے کی بجائےMario Puzo کے 1969 کے ناول دی گاڈ فادر کا حوالہ دیا۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ یہ جرائم اور تشدد پر مبنی مافیا کے ایسے گھرانے کی کہانی ہے جس کی دولت کو فرانسیسی مصنف بالزاک کا یہ جملہ کہ
Behind every great fortune there is a crime.(دولت کے ہر عظیم ڈھیر کے پیچھے جرم کی ایک عظیم داستان ہوتی ہے)۔یہ ماریو پیزو کا امریکا میں رہنے کا کمال ہے کہ اس نے اسے بہت سادہ کرکے بیان کیا ورنہ بالزاک نے یوں لکھا تھاLe secret des grandes fortunes sans cause apparente est un crime oublié, parce qu‘il a été proprement fait.
(The secret of a great success for which you are at a loss to account is a crime that has never been found out, because it was properly executed)
”کامیاب خوشحالی کا راز یہ ہے آپ وہ جرم تلاش نہ کرپائیں اس لیے کہ اس کا ارتکاب بہت مہارت سے کیا گیا ہے۔“یہ تقدیر کا مضحکہ خیز اتفاق ہے کہ موجودہ مقدمے کا وجود بھی اسی جملے کے گرد طواف کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ اس آئینی عرض داشت میں عمران خان نیازی نے یہی الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور اس کے اہل خانہ کے پاس موجود دولت اپنے مختلف سرکاری عہدوں کی وساطت سے چرائی ہوئی دولت ہے۔
عدالت عالیہ اور عدالت عظمی میں چلنے والے وہ مقدمات جن سے عوام کو بڑی توقعات ہوں اور جن توقعات کو خود اہل انصاف بھی گاہے بہ گاہے اپنے لائق تحسین طرز عمل سے آتش وصل کی مانند بھڑکاتے رہے ہوں ان سے یہ خطرات ہمیشہ سے وابستہ ہوتے ہیں کہ صرف مقدمہ ہی عوامی نہیں ہوتا فیصلے اور رد عمل بھی عوامی ہوتے ہیں۔
خلق خدا جس کو پاکستان میںراج کرنے کے جھوٹے پر فریب خواب شاعر فیض احمد فیض نے دکھائے ۔چودھری افتخار عدالت کی بحالی اور اس موجودہ فیصلے پر عوام کی ان توقعات پر دسمبر کی رات میں کسی نے چھت سے گھڑے کا ٹھنڈا پانی الٹ دیا تب ہوش ٹھکانے آئے کہ یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو ۔انہیں پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ ہر دو دفعہ اس ناگہانی غسل یخ بستہ کی پشت پر لہرا لہرا کر ”ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“کی سریلی بین کے پیچھے یہ نون لیگ ہی تھی۔اس نے عوام کے لیے اسے بطور Swan Songیعنی نغمہءہلاکت بجانا سیکھ لیا ہے۔
پہلی محبت کی ستائی دوشیزہ کی طرح جھوٹے موٹے خواب دیکھنے کی عادی ہماری عوام الناس ( ہماری والدہ کہتی تھیں یہ ناس عربی کا نہیں ہندی کا ستیا ناس والاہے ) کی توقعات سے کچھ ذرا کم فیصلہ بھی آجائے تو پھر نہ ان کی فریاد کی کوئی لے ہوتی ہے نہ ہی ان کے نالے پابندِ ِنے (بانسری)رہتے ہیں۔ اس میں ہم سمیت محاسبے اور کرپٹ عناصر کی دھبڑ دھوس کی امیدوں کا آخری ٹمٹماتا چراغ ڈاکٹر شاہد مسعود ہوں یا ارشد شریف اول الذکر کو تو یہ سارا فیصلہ ہی اپنے کل کے پروگرام میں Irrelevant لگا اور انہیں اپنی چھوٹی بہن مریم نواز کا سرے سے ذکر ہی نہ ہونا بہت عجیب لگا۔ کفالت ، بینفیشل اونر ایسی کئی اصطلاحات تھیں جن کا مذکور ہونا لازم تھا۔ خوبرو اور خوش گفتار ارشد شریف نے ٹویٹ کیا ” دو میں فیل، تین میں سپلی اور پپو پاس ہوگیا“۔
ہمارے سندھی دہلی والے دوست شیخ عبد الغنی جو حالات سے بددل ہوکر کینیڈا اپنی سندھی اہلیہ سمیت ہجرت کرگئے ہیں اور ہم انہیں چھیڑتے ہیں کہ
سندھی بھی کینیڈا میں پناہ گیر ہوگئے
انہیں ہمارے بیٹے کے کسی دوست کایہ تبصرہ بہت پسند آیا کہ ”دو ججوں نے کہا بکرا ذبح کرڈالو اور تین نے کہا نہیں چھریاں ابھی اور تیز کرنے کی ضرورت ہے“۔شیخ صاحب کا بقر عید کے تین دن مکمل طور پر گھر پر کنٹرول ہوتا ہے۔باقی تین سو باسٹھ دن ان کی بیگم مہاجروں کا گڈاپ اور ریوینو ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ کی طرح استحصال کرتی رہتی ہیں وہ کہنے لگے” ہائے ہائے JIT پر کیا ٹکا کر چوٹ ماری ہے۔یہ جو اناڑی قصائی ہوتے ہیں ان کا سارا زور بقر عید والے دنوں میں تیزچھریوں پر ہوتا ہے۔بھلے سے گردن کے علاوہ کچھ اور گوشت بنانا نہ آتا ہو“۔شوشل میڈیا پر چلنے والے ایک پیغام میں لکھا تھا کہ 544صفحات کے تفصیلی فیصلے میں درج ہے کہ جے آئی ٹی کیسے بنائی جائے یعنی” گھوڑا کیسے دوڑتا ہے ۔ دگڑ ،دگڑ ،دگڑ ،دگڑ“ پہلی قسط میں رائے ونڈ کا درخشاں ستارہ باجی مریم فارغ ہوئیں، اگلی قسط میں منا بھائی ایم بی بی ایس کو کلین چٹ مل جائے گی۔کمیشنوں اور جے آئی ٹی کا پاکستان میں تاریخی حوالہ دیوار میں چنی جانے والی گستاخ کنیز انارکلی کا ہے جسے مغل اعظم اکبر جینے نہیں دیتے اور شیخو یعنی شہزادہ جہانگیر مرنے نہیں دیتا۔
فیصلے والے دن ہم سر شام شیشے کے متوالے ایک دوست کے ساتھ ذرا انگریز ی زبان کے Hip -Joint پر چلے گئے۔دھیمی روشنی میں کیا رومان پرور ماحول تھا۔آج کوئی مانچسٹر لیگ یا بارسلونا میڈرڈ کی فٹ بال ٹیموں پر بات نہیں کررہا تھا ۔تقریباً سبھی نوجوان شیشے سے لہراتے مرغولوں کے پیچھے فیصلہ پر بحث کررہے تھے۔نیم خوابیدہ آنکھوں والی bulimia کی شکار ایک دوشیزہ نے اپنے چاہنے والے کو لقمہ دیتے ہوئے کہا But Januu after court found out that Qatri Khat a piece of shit, was it not open and shut case of proven corruption”
(جانوُ جب کورٹ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ قطری خط تو ایک ردی کا ٹکڑا تھا تو کرپشن کا فیصلہ تو اسی وقت ہوگیا تھا۔)
اس گم گشتہ سرور پرور ماحول کی مایوسی کچھ ویسی ہی تھی جیسی امریکا کے مشہور ترین مقدمے میں سیاہ فام کھلاڑی او جے سمپسن کے اپنی اداکارہ گوری اہلیہ کے قتل میں الزامات کے 1995 میںبری ہوجانے پر امریکی عوام کو ہوئی تھی۔کچھ دن بعد جب مقتولہ کے اہل خانہ نے چراغ پا ہوکر سول سوٹ فائل کیا تو 33.5 ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔امریکا کا کرمنل جسٹس سسٹم اس ایک مقدمے میں بہت بدنام ہوا۔
امریکا کی ہی بات چل رہی ہے تو وہاں کے ایک اداکار Lenny Bruce کو فحاشی کے ایک مقدمے میں 1964 میںسزا ہوئی تھی۔وہ کامیڈین تھا اور کچھ الفاظ جو اس نے اپنے شوز میں استعمال کیے تھے ان کو اس وقت غیر اخلاقی سمجھا گیا۔ 2003 میں نیویارک کی تاریخ میں بعد از مرگ پہلی معافی اس گورنر جارج پتاکی نے اس اعتراف کے ساتھ اسے دی کہ اخلاقیات اور اقدارہمہ وقت یکساں اور عالمی حیثیت کی حامل ہوتی ہے ۔جن الفاظ پر لینی کو سزا ملی وہ اب عام بول چال کا حصہ ہیں۔اس وقت نیویارک کی عدلیہ شاید ذہنی بلوغت کے اس معیار پر نہ تھی جس پر معاشرہ ان دنوں دکھائی دیتا ہے۔ اپنا فیصلہ سن کر لینی بروس نے وہ مشہور جملہ کہا جو اب نصاب قانون کا حصہ ہے کہ
In the Halls of Justice the only justice is in the halls.
”ایوان عدل میں صرف عدل ہی ایوان میں بھٹک رہاہوتا ہے“۔
٭٭….٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں