نیوٹن کا سیب، شہباز کا نصیب!
شیئر کریں
نیوٹن نے کششِ ثقل دریافت کی تھی، مگر اُسے کیا خبر تھی کہ تین صدیوں بعد پاکستان میں ایک ایسی‘‘ کشش’’ دریافت ہوگی جس کے سامنے کششِ ثقل بھی پانی بھرے گی۔ اس نئی قوت کا نام ہے ‘‘کششِ اقتدار’’، جس کے زیرِ اثر سیب زمین پر نہیں گرتے بلکہ تعریفیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔
اس عظیم سائنسی دریافت کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان کے سر ہے ، جنہوں نے انکشاف فرمایا کہ وزیراعظم کا آئی کیو آئزک نیوٹن کے قریب ہے ۔
وزیراعظم کے معیار پر کابینہ کے پچپن وزیروں میں سے صرف دو تین پورے اترتے ہیں۔ البتہ ان خوش نصیبوں میں حذیفہ صاحب خود بھی شامل ہوں گے ، کیونکہ ان کا آئی کیو بھی وزیراعظم کے قریب قریب ہے ۔سبحان اللہ! ایک ہی ٹیلی وژن پروگرام میں پاکستان کو دو ‘نیوٹن’ مل گئے ۔ ایک وزیراعظم ہاؤس میں اور دوسرا ان کی خدمت میں!
نیوٹن نے ساری زندگی ریاضی اور طبیعات میں کھپا دی، مگر ہمارے ہاں ذہانت ناپنے کا طریقہ کہیں زیادہ آسان ہے ۔ وزیراعظم کی تعریف کیجیے ، اپنا نام بھی ذہین افراد کی فہرست میں شامل کیجیے اور سائنس کو اللہ حافظ کہہ دیجیے ۔لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ شہباز شریف کے ان کارناموں پر بھی نظر ڈالی جائے جنہیں ان کے مداح شاید نیوٹن کی دریافتوں کے ہم پلہ سمجھتے ہوں۔
پہلا کارنامہ سیاسی ریاضی کا ہے۔ 2024کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو اپنے بل بوتے پر اکثریت نہیں ملی، مگر شہباز شریف اتحادی جماعتوں کی مدد سے وزیراعظم بن گئے ۔ مخالفین اسے فارم 47کی حکومت کہتے ہیں اور انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہیں۔سیاسی حساب کا یہ دلچسپ باب ضرور ہے کہ اپنی جماعت کے پاس اکثریت نہ ہو، پھر بھی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی حاصل ہوجائے ۔نیوٹن نے ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کیے تھے ، یہاں اتحادی سیاست کی جمع تفریق نے وزیراعظم پیدا کردیا۔ شاید اسے سیاسی الجبرا کہتے ہیں، جس میں اپنی نشستیں کم ہوں تو دوسروں کی نشستیں جمع کرکے مطلوبہ جواب حاصل کیا جاتا ہے ۔
دوسرا کارنامہ عدالتی تاریخ سے متعلق ہے ۔ شہباز شریف مختلف مقدمات کا سامنا کرتے رہے اور بعد میں متعدد مقدمات میں بری بھی ہوئے ۔ سیاست اور عدالت کے درمیان اتفاقات کی یہ تاریخ طنز نگاروں کے لیے خاصی زرخیز ہے ۔نیوٹن نے وقت اور حرکت کا مطالعہ کیا تھا، ہمارے سیاسی نظام میں وقت کی اہمیت کچھ اور ہی ہے ۔ کبھی مقدمات کی تاریخیں چلتی ہیں، کبھی حکومتوں کی، اور کبھی سیاست کا موسم بدلتے ہی اخبارات کی سرخیاں بدل جاتی ہیں۔
تیسرا کارنامہ مائیکروفون کی طبیعات ہے ۔ شہباز شریف کی پرجوش تقریروں میں مائیک گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ نیوٹن نے بتایا تھا کہ قوت لگانے سے جسم کی حرکت بدلتی ہے ۔ شہباز شریف کی تقریروں نے دکھایا کہ سیاسی جوش میں مائیکرو فون کی سمت بھی بدل سکتی ہے ۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مائیکروفون تقریر سننے کے بجائے خود احتجاجاً اسٹیج چھوڑ رہے ہوں۔ نیوٹن زندہ ہوتے تو شاید مائیک بنانے والی کمپنیوں کو مشورہ دیتے کہ شہباز شریف کی تقریروں کے لیے خصوصی جھٹکا برداشت کرنے والے اسٹینڈ تیار کیے جائیں۔
چوتھا معاملہ صحت اور اقتدار کا ہے ۔ سیاست دانوں کی بیماریوں، علاج اور غیر ملکی سفر پر ہمارے ہاں ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے ۔ شہباز شریف بھی ان مباحث سے محفوظ نہیں رہے ۔ کسی کی بیماری کو سیاسی موسم کے تابع قرار دینا طبی حقیقت نہیں۔مگر یہاں معاملہ نیوٹن والے آئی کیو رکھنے والے شہباز شریف کا ہے، طبیعا ت میں توانائی ایک موضوع ہے، مگر اقتدار سے توانائی کا تعلق تو حقیقت ہے، یقین نہ آئے تو ہمارے سیاسی ماحول کو دیکھ لیجیے، اقتدار ملتے ہی توانائی کے قصے اور اقتدار سے دور ہوتے ہی علالت کی خبریں اتنی نمایاں ہیں کہ طبیعات کی توانائی بھی اقتدار کی توانائی کی شدت اور رفتار دونوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔کاش نیوٹن کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد کرجاتے جو سیاسی بیانات میں صحت، مصروفیت اور اقتدار کے باہمی تعلق کی پیمائش کرسکتا۔مگر فکر نہ کریں اب نیوٹن خود نہیں تو کیا ہوا؟ نیوٹن جیسے دو تو یہاں موجود ہیں، یہ کام شہباز شریف ، اپنے معاون نیوٹن یعنی حذیفہ کی مدد سے کر دکھائیں گے۔
پانچواں کارنامہ بین الاقوامی سفارت کاری کا ہے ۔ شہباز شریف کے بیرونی دوروں، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور تعریفی خطابات کا اپنا رنگ ہے ۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ان کے تعریفی کلمات اور نوبل امن انعام کی نامزدگی نے خاصی توجہ حاصل کی۔ نیوٹن نے کششِ ثقل دریافت کی، شہباز شریف کی سفارت کاری نے عالمی طاقتوں کے ساتھ قربت کی کشش کو موضوعِ بحث بنادیا۔ اب سائنسدانوں کو تحقیق کرنی چاہیے کہ عالمی سیاست میں تعریف کی مقدار اور سفارتی فائدے کے درمیان کوئی مستقل تناسب بھی ہوتا ہے یا نہیں۔اس میں یہ تحقیقات بھی ضروری ہے کہ شہباز شریف کی طرف سے کی جانے والی ٹرمپ کی ‘‘سائنسی خوشامد’’ کا ،ریپبلکن کی غیر سائنسی شکست سے کوئی تعلق بھی بنتا ہے یا نہیں؟ یوں سیاسی سائنس میں خوشامد اور شکست کے درمیان تعلق کا کوئی سائنسی اصول بھی دریافت ہو سکتا ہے، جس کا سہرا نیوٹن سا آئی کیو رکھنے والے وزیراعظم کے سر ہی جائے گا۔
چھٹا واقعہ مئی 2025کی پاک بھارت فوجی کشیدگی سے متعلق ہے ۔ شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ وہ صبح تیراکی کررہے تھے اور محفوظ فون بھی ان کے پاس تھا، جب انہیں فوجی قیادت کی طرف سے اہم اطلاع ملی۔یہاں نیوٹن کے قوانین میں ایک نئے باب کی گنجائش پیدا ہوتی ہے :‘‘آبی سفارت کاری اور محفوظ ٹیلی فون’’۔
تصور کیجیے ، ایک طرف سرحدوں پر غیر معمولی کشیدگی، دوسری طرف وزیراعظم سوئمنگ پول میں، اور ساتھ محفوظ فون! یہ منظر کسی سیاسی مزاحیہ فلم کا حصہ ہوتا تو ناظرین شاید مبالغہ سمجھتے ، مگر وزیراعظم نے خود اس صبح کا ذکر کیا۔البتہ کسی بحران کے دوران تیراکی کرنا بذاتِ خود غفلت کا ثبوت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس وقت فیصلوں اور رابطہ کاری کا نظام کس طرح کام کررہا تھا۔
یاد آیا کہ شہباز شریف کی تقریروں، حرکات، انگریزی خطابات اور عوامی انداز پر بننے والی میمز بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ مظہر ہیں۔ نیوٹن کو شہرت کے لیے کتابیں لکھنا پڑیں، تجربات کرنا پڑے اور قوانین دریافت کرنا پڑے ۔ ہمارے عہد میں وزیراعظم نے ایک مائیک گرا کر، سوئمنگ پول میں ڈبکی لگا کر اور فارم 47 سے حکومت بنا کر یہ کر دکھایا۔
حذیفہ رحمان کے بیان کا سب سے بڑا سائنسی معمہ ابھی باقی ہے ۔اگر وزیراعظم کے معیار پر پچپن میں سے باون یا ترپن وزیر پورے نہیں اترتے تو وہ کابینہ میں موجود کیوں ہیں؟کیا وزیراعظم اپنی کابینہ کے انتخاب میں آزاد نہیں؟ کیا اتحادی سیاست اہلیت کے معیار سے زیادہ طاقتور ہے ؟ یا معاون خصوصی نے تعریف کے جوش میں اپنے ہی حکومتی ساتھیوں کی کارکردگی پر سوال کھڑا کردیا؟نیوٹن کا تیسرا قانون کہتا ہے کہ ہر عمل کا مساوی اور مخالف ردعمل ہوتا ہے ۔ لیکن سیاسی خوشامد میں بعض اوقات عمل تعریف کا ہوتا ہے اور ردعمل سوالات کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔حذیفہ صاحب نے وزیراعظم کی ذہانت ثابت کرنا چاہی، مگر ساتھ ہی کابینہ کی اہلیت کا معاملہ چھیڑ بیٹھے ۔ اپنی ملازمت محفوظ ہونے کا اعتماد بھی ظاہر کردیا۔ گویا تعریف کا سیب اُچھالا تو تھا وزیراعظم کی طرف، مگر گرتے گرتے پوری کابینہ کے سر پر منڈلانے لگا۔
آخر میں ایک گزارش ہے ۔ نیوٹن کی عظمت کا پیمانہ اس کے سائنسی کارنامے تھے ۔ کسی وزیراعظم کی کارکردگی کا پیمانہ بھی قابلِ تصدیق نتائج، بہتر حکمرانی اور عوام کو ملنے والی سہولتیں ہونی چاہئیں، نہ کہ کسی معاون خصوصی کے مقرر کردہ آئی کیو کے اعداد۔نیوٹن نے سیب گرتے دیکھا تو کششِ ثقل پر غور کیا۔ ہمارے سیاسی ماحول میں تعریفوں کے سیب گرتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں اچھالنے والے کی نظر آسمان پر ہے یا اپنی کرسی پر؟اور حذیفہ صاحب کے لیے آخری سائنسی مشورہ یہ ہے کہ وزیراعظم کو نیوٹن ثابت کرنے سے پہلے اپنی کابینہ کے پچپن میں سے باون یا ترپن وزیروں کی اہلیت کا معمہ حل کرلیجیے ۔ کیونکہ نیوٹن نے تو کششِ ثقل کا قانون دریافت کیا تھا، آپ نے ایک ہی بیان میں کششِ اقتدار اور کششِ خوشامد کے دو نئے قوانین متعارف کرادیے ہیں!
٭٭٭


