میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کشمیری خواتین لاپتہ

کشمیری خواتین لاپتہ

جرات ڈیسک
جمعرات, ۵ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ سے حقِ معلومات (RTI) کے تحت حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2019 سے لے کر 2026 کے دوران وادی میں 16,397 خواتین اور کم عمر لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں اور ان میں سے 4,271کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق سال 2025 خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثرہ سال رہا، جس میں 2,595 بالغ خواتین اور 289 کم عمر لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔ ان واقعات کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ علاقے میں سیکیورٹی اور انسانی حقوق کی صورتحال سے جوڑا جاتا ہے۔اس ضمن میں مجموعی اعداد و شماریوں ہیں کہ کل لاپتہ خواتین و لڑکیاں: 16,397، تلاش کی گئی تعداد: 12,126، تاحال لاپتہ یا غیر مطالعہ شدہ کیسز: 4,271 (جو کہ کل تعداد کا 26 فیصد سے زائد ہے) ذیلی زمرہ جات (بالغ خواتین اور کم عمر لڑکیاں) بالغ خواتین (2019 سے جون 2026 تک)۔یہ اعداد و شمار مقبوضہ جموں و کشمیرکے محکمہ داخلہ سے معلومات تک رسائی کی درخواست (آر ٹی آئی)کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ 2019 سے جون 2026 تک مقبوضہ علاقے میں 14,593بالغ خواتین لاپتہ ہوئیں۔ان میں سے 11,338 خواتین کا سراغ لگا لیا گیا، جبکہ 3,255تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی طرح 2019 سے اگست 2026 تک 1,804کم عمر لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔ ان میں سے 788 کو تلاش کر لیا گیاجبکہ 1,016کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔مجموعی طور پر لاپتہ ہونے والی 16,397خواتین اور لڑکیوں میں سے 12,126کا سراغ لگایا گیا۔ یوں 26فیصد سے زائد کیسز تاحال حل طلب ہیں۔2019 میں لاپتہ ہونے والی بالغ خواتین کی تعداد 1,388تھی۔ 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,398ہو گئی۔ 2021 میں 1,854 خواتین لاپتہ ہوئیں۔ 2022 میں یہ تعداد معمولی کمی کے ساتھ 1,766رہی۔ تاہم اگلے سال اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔

2023 میں 2,242 خواتین لاپتہ ہوئیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2025 میں بالغ خواتین کے لاپتہ ہونے کے سب سے زیادہ یعنی 2,595واقعات درج ہوئے۔ ان میں سے 2,102خواتین کا سراغ لگا لیا گیا جبکہ 493تاحال لاپتہ ہیں۔کم عمر لڑکیوں کے معاملے میں بھی یہی رجحان سامنے آیاہے۔2019 میں 150لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔ 2020 میں یہ تعداد کم ہو کر 122رہ گئی۔ تاہم 2021 میں 221اور 2022 میں 249لڑکیاں لاپتہ ہوئیں۔ 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 261ہو گئی۔ 2024 میں یہ کم ہو کر 226رہی، جبکہ 2025 میں 289تک پہنچ گئی۔18 سال سے کم عمر لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے 289واقعات 2025 میں رپورٹ ہوئے، ان میں سے 166لڑکیوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔ رواں سال اگست تک 286لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں۔ ان میں سے 158تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔2019 سے اب تک لاپتہ ہونے والی کم عمر لڑکیوں کے نصف سے زائد کیسز تاحال حل نہیں ہوئے۔جرائم کے ریکارڈ بیورو کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کو شادی پر مجبور کرنے کے لیے اغوا، زبردستی لے جانے یا آمادہ کرنے کے 1,202مقدمات درج ہوئے۔

مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور اس کی حمایت یافتہ غیر سرکاری تنظیمیں تنازعے سے متاثرہ خواتین کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کو ملازمتوں اور دیگر مراعات کا لالچ دیا جاتا ہے۔ بعدازاں انہیں نئی دہلی اور بھارت کے دوسرے شہروں میں لے جایا جاتا ہے۔ وہاں انہیں جبری مشقت، جبری شادیوں اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں پر مجبور کیاجاتا ہے۔حریت قیادت اور علمائے دین نے عالمی برادری سے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے تنازعے سے متاثرہ علاقے میں خواتین کے استحصال کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل بھارتی قبضے اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث کمزور طبقات، خصوصا خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خواتین بھارتی ریاستی دہشتگردی،ناانصافی، مظالم، خوف اور اذیت کا بدستور شکار ہیں ۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت کی طرف سے 5اگست2019کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے کشمیر ی خواتین پر بھی بھارتی فوجیوں کے مظالم میں تیزی آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیاکہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں 1989 سے اب تک 2 ہزار 3سو52 خواتین کو شہید اور 11 ہزار 2سو59 کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا ،بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باعث گزشتہ 34 برس میں 22 ہزار 9سو67 کشمیری خواتین بیوہ ہوئیں۔ 64 سالہ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت دو درجن سے زائد خواتین گزشتہ پانچ برس سے بدنام زمانہ تہاڑ جیل اور دیگر بھارتی جیلوں میں غیر قانونی حراست کا سامنا کر رہی ہیں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری، شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر نامی دو خواتین کی عصمت دری اور قتل اور کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کے واقعات اس کی واضح مثالیں ہیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں خواجہ فردوس، سید بشیر اندرابی اورمحمد شفیع لون ، زمرودہ حبیب، یاسمین راجہ اور فریدہ بہن جی نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ غیر قانونی بھارتی تسلط کیوجہ سے کشمیری خواتین مسلسل عدم تحفظ ، خوف و دہشت اور اذیت کا شکار ہیں۔

کشمیری خواتین بھارتی درندگی کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہیں ، جدوجہد آزادی میں ان کا ایک اہم کردار ہے اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنے لخت جگر قربان کررہی ہیں بھارتی فوج کشمیری خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں