سندھ بلڈنگ، لطیف آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا ذمہ دار کون؟
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی اپنے ہی محکمے کے عملے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے
پلاٹ نمبر 221-Aپر تعمیراتی لاقانونیت توجہ کا مرکز، شفاف تحقیقات کا مطالبہ
لطیف آباد یونٹ نمبر 02 آٹو بھان روڈ پر واقع پلاٹ نمبر 221-Aپر مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور 500 گز سے زائد اضافی اراضی کے استعمال سے متعلق خبر کی اشاعت کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ حلقوں میں ہلچل پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
معاملے کی نشاندہی منظرعام پر آنے کے بعد ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے اپنے ہی محکمے کے عملے اور فیلڈ ورکرز کو شک و شبہات کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق پلاٹ نمبر 221-A پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں، مبینہ اضافی اراضی کے استعمال اور رہائشی پلاٹ کی کمرشل حیثیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد محکمہ جاتی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے ۔
تاہم اب معاملہ صرف مبینہ غیر قانونی تعمیرات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ خبر کی اشاعت کے بعد محکمہ اپنے اندرونی عملے کے حوالے سے کس نوعیت کی صورت حال سے دوچار ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ پلاٹ پر تعمیرات قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں تو متعلقہ افسران کو اصل ریکارڈ، منظور شدہ نقشہ اور قانونی دستاویزات سامنے لا کر تمام شکوک و شبہات دور کرنے چاہئیں، جبکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 221-A کا فوری موقع معائنہ کرایا جائے ، اضافی اراضی کی قانونی حیثیت معلوم کی جائے اور تعمیراتی اجازت ناموں سمیت تمام متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے ۔
مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ جاتی عملے پر شکوک و شبہات کے بجائے اصل معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ مبینہ غیر قانونی تعمیرات کس کی اجازت یا غفلت کے باعث جاری رہیں۔


