میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات، ریپبلکن پارٹی کو بڑا دھچکا

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات، ریپبلکن پارٹی کو بڑا دھچکا

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیا، سپیکر مائیک جانسن انتخابی نتائج پر مایوس

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے اعتراف کیا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کے باعث ان کی جماعت کو ملک بھر میں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ریپبلکن رہنماؤں نے انتخابی نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایوانِ نمائندگان پر اکثریت برقرار رکھنا ان کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوا۔ ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے انتخابی نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ناکامی سے حوصلہ نہیں ہاریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول برقرار رکھنے اور اپنی اکثریت بچانے کے لیے انہیں وسط مدتی انتخابات کی ایک صدی سے زیادہ پر محیط تاریخی روایت کے برخلاف کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔

ریپبلکن سینیٹر رون جانسن نے بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جنگ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی عوام کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ رون جانسن 2011 سے ریاست وسکونسن کی نمائندگی کر رہے ہیں، تاہم وہ ان وسط مدتی انتخابات میں دوبارہ انتخاب کے امیدوار نہیں تھے۔

دوسری جانب ٹیکساس میں سینیٹ کی اہم نشست ہارنے والے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن نے بھی انتخابی نتائج کو اپنی جماعت کے لیے مشکل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز کو ملک بھر میں ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاسی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی انتخابی ناکامی پر غیر معمولی طور پر محتاط ردعمل ظاہر کیا۔ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار کے مطابق صدر ٹرمپ نے انتخابی نتائج کی ذمہ داری براہ راست ریپبلکن امیدواروں پر عائد کی، جن میں بعض امیدواروں کا انتخاب خود صدر نے کیا تھا۔

ایک ریپبلکن معاون نے بی بی سی سے گفتگو میں انتخابی نتائج کو اپنی توقعات سے بھی زیادہ خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تباہ کن صورتحال ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کو نہ صرف کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ایران جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں جیسے معاملات بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوئے۔ تاہم پارٹی رہنماؤں نے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں