میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عقل گئی کھمبے گننے!

عقل گئی کھمبے گننے!

جرات ڈیسک
منگل, ۳ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کھمبے کہیں کھڑے ہو، سندھ حکومت کی منطق کہاں کھڑی ہے، یہ عریاں ہو گیا!
سندھ حکومت کی دلدل میں کھڑی منطق اپنے پاؤں تلاش کر رہی ہے، اور وہ بھی کہاں؟ حیدرآباد کی ایک سڑک کے بیچ کھڑے کھمبے کے اوپر! جہاں سندھ حکومت کی آبرو کی دھجیاں لٹکی ہوئی ہیں۔

عوام کے سینے میں کھمبے کی طرح گڑی پیپلزپارٹی کی حکومت کیسے مونگ دَل رہی ہے۔ اس سوال کا جواب کسی اور نے نہیں، حیدرآباد کے علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک زیر تعمیر ایک سڑک نے دیا ہے۔ جہاں بجلی کے کھمبے بیچ سڑک کھڑے ہیں۔ سڑک اور سندھ حکومت کی عزت دونوں ہی وائرل ہیں۔ اللہ دے اور بندہ لے!!
سڑک نے سمجھایا کہ ہمارے ہاں ترقی کا پہیہ کیسے گھومتا ہے، سرکاری ادارے کیسے کام کرتے ہیں اور دو محکموں کے درمیان معاملات پھنسے ہوں تو عوام کس طرح ‘‘عظیم قومی تجربے’’ کا حصہ بنا دیے جاتے ہیں۔دنیا بھر میں پہلے بجلی کے کھمبے ہٹائے جاتے ہیں، پھر سڑک تعمیر ہوتی ہے ۔ لیکن حیدرآباد میں، وزیراعلیٰ سندھ کی بیان کردہ حکمت ِ عملی کے مطابق، پہلے سڑک بنائی گئی تاکہ کھمبے ہٹانے والوں پر دباؤ پڑے۔سبحان اللہ!یہ تو وہ انتظامی فلسفہ ہے جس کے سامنے نیوٹن کے قوانین بھی شرمندہ ہوجائیں۔ نیوٹن نے کہا تھا کہ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمرانوں نے اس میں ایک تاریخی ترمیم کردی ہے کہ پہلے ایسا عمل کرو جس سے عوام کو خطرہ لاحق ہو، پھر انتظار کرو کہ متعلقہ محکمہ ردعمل دے !
حیدرآباد کے علمدار چوک سے قاسم چوک کی طرف جانے والی زیرِ تعمیر سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے کھڑے نظر آئے تو سوشل میڈیا پر شور مچ گیا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کیسی انجینئرنگ ہے ، یہ کیسی منصوبہ بندی ہے اور یہ کیسی سڑک ہے جس میں گاڑیوں کو کھمبوں سے بچ کر گزرنے کے لیے ڈرائیونگ کے ساتھ کرتب بازی بھی سیکھنا پڑے ۔لیکن پھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی وضاحت سامنے آئی، جس نے معاملے کو ایک نئی جہت عطا کردی۔وزیراعلیٰ کے مطابق حیسکو کو کھمبے منتقل کرنے کے لیے رقم بھی فراہم کی گئی، ہدایات بھی دی گئیں، مگر کھمبے نہ ہٹے ۔ چنانچہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ سڑک پہلے تعمیر کردی جائے تاکہ متعلقہ ادارے پر دباؤ بڑھے ۔گویا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ حکومت کو کھمبے نظر نہیں آرہے تھے ۔ مسئلہ یہ تھا کہ کھمبے پوری طرح نظر آرہے تھے ، لیکن انہیں ہٹوانے کے لیے ایک نئی قسم کی سرکاری حکمت ِعملی اختیار کی گئی۔

اب ذرا اس حکمتِ عملی کے امکانات پر غور فرمائیے ۔فرض کیجیے کسی شہر میں سیوریج لائن بند ہوجاتی ہے اور متعلقہ محکمہ اسے کھولنے سے انکار کردیتا ہے ۔ اس فلسفے کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ پہلے پورے شہر میں گندا پانی پھیلنے دے ، تاکہ محکمہ نکاسئ آب پر دباؤ پڑے ۔کسی پل کی مرمت درکار ہو اور متعلقہ ادارہ کام نہ کرے تو پل پر ٹریفک جاری رکھی جائے ،یہاں تک کہ ایک دو گاڑیاں پلوں کے نیچے سے گر بھی جائیں تاکہ عوام کی لاشیں دیکھ کر ادارے کے ضمیر کو جھٹکا لگے ۔کسی اسپتال میں آکسیجن کی فراہمی کا مسئلہ ہو تو مریضوں کو انتظار کی آزمائش اور موت کے خطرے میں ڈالا جائے تاکہ سپلائر پر دباؤ بڑھایا جائے ؟

سندھ حکومت کی کھمبوں کے ساتھ کھڑی منطق کے لیے یہ طنز نہیں، کرتب دکھاتی حکمت عملی ہے۔ لیکن یہ ایک پیچیدہ سوال کے ساتھ گتھی ہوئی ہے، کیا سرکاری اداروں کی باہمی کشمکش میں شہریوں کی حفاظت دباؤ ڈالنے کا ایک آلہ بن کر استعمال کی جائے گی ؟وزیراعلیٰ کی وضاحت میں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے ۔ ان کے بقول حیسکو کو رقم فراہم کردی گئی تھی۔تو حضور، اب معاملہ محض کھمبوں کا نہیں رہا، حساب کتاب کا بھی ہوگیا۔رقم کتنی تھی؟ کب دی گئی؟ کس مد میں دی گئی؟ کھمبے منتقل کرنے کی آخری تاریخ کیا مقرر ہوئی؟ اس تاریخ کے گزرنے پر کس افسر نے کس افسر کو خط لکھا؟ کس نے جواب دیا؟ کس نے فائل آگے بڑھائی؟ کس نے روک لی؟ اور اگر کام نہیں ہوا تو ذمہ داری کے تعین کے لیے کیا کارروائی کی گئی؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب مل جائیں تو شاید معلوم ہوجائے کہ کھمبے زمین میں گڑے ہوئے تھے یا سرکاری فائلوں میں۔

ہمارے ہاں سرکاری فائل بھی عجیب مخلوق ہے ۔ اسے چلانے کے لیے کئی دستخط، متعدد یاددہانیاں، درجنوں ملاقاتیں اور بعض اوقات وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی درکار ہوتی ہے ۔ مگر پھر بھی یہ اپنی رفتار سے چلتی ہے ۔ دوسری طرف عوام کی گاڑی اگر سڑک کے درمیان کھڑے کھمبے کے سامنے آجائے تو اسے فیصلہ کرنے کے لیے چند سیکنڈ بھی میسر نہیں ہوتے ۔کسی انتظامی منصوبے کی شعبدہ بازی میں اس فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ابتدا میں زمین کے حصول میں بھی مشکلات تھیں اور چیف سیکریٹری نے کنٹونمنٹ بورڈ اور متعلقہ حکام سے رابطے کرکے مسئلہ حل کرایا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے میں مختلف اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کی ضرورت کا علم تھا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب زمین کا مسئلہ حل ہوسکتا تھا تو بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کو سڑک کی تکمیل سے پہلے یقینی بنانے کا انتظام کیوں نہ ہوسکا؟کیا تعمیراتی ٹھیکے میں یہ شرط موجود تھی کہ متعلقہ رکاوٹیں ہٹائے بغیر سڑک کا وہ حصہ مکمل نہیں کیا جائے گا؟ کیا کام کے مختلف مراحل کی منظوری دینے والے انجینئروں نے اعتراض کیا؟ اگر کیا تو اس اعتراض پر کیا فیصلہ ہوا؟اور اگر کسی وجہ سے کھمبے فوری طور پر ہٹانا ممکن نہیں تھا تو کیا متاثرہ حصے کو ٹریفک سے محفوظ رکھنے کے لیے مناسب رکاوٹیں، انتباہی نشانیاں اور متبادل راستے فراہم کیے گئے ؟یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کے جواب حکومت سندھ اور حیسکو دونوں کو دینے چاہئیں۔

اس پوری داستان میں سب سے قابلِ غور کردار خود بجلی کے کھمبے ہیں۔بے چارے برسوں سے اپنی جگہ کھڑے ہوں گے ۔ نہ انہوں نے کسی سے ٹھیکہ مانگا، نہ بجٹ کی منظوری دی، نہ کسی فائل پر دستخط کیے ۔ پھر ایک دن ان کے اردگرد سڑک بننے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ قومی سطح پر انتظامی بحث کا مرکز بن گئے ۔کھمبوں کو کیا خبر تھی کہ ان کی قسمت میں بجلی کی تاریں اٹھانے کے ساتھ حکومتی حکمت ِعملی کا بوجھ اٹھانا بھی لکھا ہے !اگر ان کھمبوں کو زبان مل جائے تو شاید وہ کہیں‘‘صاحبو! ہم تو پہلے سے یہاں کھڑے تھے ۔ سڑک آپ نے ہمارے گرد بنائی ہے۔ اب ہمیں مجرم کیوں ٹھہرا رہے ہیں’’؟
اور اگر سڑک بول سکتی تو شاید جواب دیتی:میرا کیا قصور؟ مجھے تو جہاں جگہ ملی، بچھا دیا گیا’’!
یوں کھمبے اور سڑک دونوں بے قصور نکلیں گے ، اور اصل سوال ان فیصلوں کا رہ جائے گا جن کے نتیجے میں یہ منظر پیدا ہوا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی حکمت عملی میں ایک ایسی الٹی ترتیب موجود ہے جو پیپلزپارٹی کے وجود کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ پہلے تعمیر، پھر عوامی توجہ، پھر دباؤ، پھر کھمبوں کی منتقلی کی امید۔یہ وہ طریقہ ہے جس میں مسئلے کا حل آنے سے پہلے مسئلے کی نمائش شروع ہوجاتی ہے ۔اور نمائش بھی ایسی کہ ٹکٹ کوئی نہیں خریدتا، مگر خطرہ ہر گزرنے والے کو اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔

حیدرآباد کی اس سڑک کے کھمبے آج نہیں تو کل ہٹائے جاسکتے ہیں۔ تاریں منتقل ہوسکتی ہیں، سڑک کی سطح درست ہوسکتی ہے اور ٹریفک بھی معمول پر آسکتی ہے ۔لیکن ایک سوال اپنی جگہ کھڑا رہے گا، بالکل اسی کھمبے کی طرح، اگر حکومت کو دوسرے سرکاری ادارے سے کام کروانے کے لیے پہلے عوام کے راستے میں موجود خطرہ برقرار رکھنا پڑے تو پھر حکومت اور عوام میں سے اصل دباؤ کس پر پڑ رہا ہے ؟اس کا درست جواب شاید مراد علی شاہ کی حکومت نہ دے سکے کیونکہ وہ بھی عوام کی امیدوں کی سڑک پر کھمبوں کی طرح کھڑی ہے! ایک مکمل خطرے کی طرح بالکل بیچوں بیچ!!
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں