میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سالک بمقابلہ مریم

سالک بمقابلہ مریم

جرات ڈیسک
جمعرات, ۵ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ میں کئی ایسے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک حکومت کی، بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں اوراپنے عہد پرگہرے نقوش چھوڑے ۔ لیکن ان بادشاہوں کی کامیابی کے پیچھے صرف ان کی اپنی ذہانت نہیں تھی، بلکہ ان لوگوں کا بھی بڑا کردار تھا جو انہیں مشورے دیتے ، فیصلوں کے راستے دکھاتے اورمشکل وقت میں درست سمت کا تعین کرتے تھے ۔ بادشاہ تخت پربیٹھتا تھا، مگر سلطنت چلانے میں اس کے مشیروں کا کردار بھی کسی سے کم نہیں ہوتا تھا۔

مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ جلال الدین اکبر کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اکبرنے تقریباً پچاس سال ہندوستان پرحکومت کی۔ وہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے تھے ، لیکن ان کے پاس ایسے غیرمعمولی ذہین، قابل اور اپنے اپنے شعبوں کے ماہر لوگ موجود تھے جنہوں نے ان کی سلطنت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ انہیں اکبر کے نورتنوں کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ ابوالفضل، غیرمعمولی دانشور، مؤرخ اورمنتظم تھے ۔ اکبرکے سیاسی نظریات، سلطنت کے انتظام اورحکومتی پالیسیوں کی تشکیل میں ان کا اہم کردار تھا۔ راجہ ٹوڈرمل، سلطنت کے مالیاتی نظام کے ماہر تھے ۔ انہوں نے زمینوں کی پیمائش، محصولات کی وصولی اورآمدنی کے نظام کو منظم کیا۔راجہ بیربل، اپنی حاضر جوابی، ذہانت اور معاملہ فہمی کیلئے مشہور تھے ۔ وہ مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی اپنی عقل اور گفتگو سے راستہ نکال لیتے تھے ۔راجہ مان سنگھ ، ایک قابل سپہ سالار تھے ۔ انہوں نے سلطنت کی فوجی مہمات میں اہم کردار ادا کیا۔عبدالرحیم خانِ خاناں، سپہ گری کے ساتھ علم و ادب میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے ۔تان سین، موسیقی کے ایسے عظیم استاد تھے ۔فیضی بلند پایہ شاعر اور ادیب تھے ۔ ملا دو پیازہ، نہایت ذہین، حاضر جواب مشیر۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اکبر کے دربار کو محض خوشامدیوں کا مجمع نہیں بننے دیا تھا۔ وہاں علم بھی تھا، تجربہ بھی، اختلافِ رائے بھی اور اپنے شعبے کی مہارت بھی۔ بادشاہ ان کی بات سنتا تھا، ان سے مشورہ کرتا تھا اور سلطنت کے معاملات میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتا تھا۔

اکبر کی کامیابی کا ایک بڑا راز یہی تھا کہ اس نے اپنے اردگرد ایسے لوگ جمع کیے جو اسے خوش کرنے کے بجائے سلطنت چلانے میں مدد دیتے تھے ۔ کیونکہ بادشاہ کا منصب اسے فیصلے کرنے کا اختیار تو دیتا ہے ، لیکن ہر فیصلہ درست کرنے کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس کے لیے اچھے مشیروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔اوریہی بات آج پاکستان کی سیاست میں بھی ایک بڑا سوال بن کر سامنے آ رہی ہے ۔خاص کر پنجاب کی وزیراعلیٰ کے بارے میں۔ جس کا جواب شاید مریم نواز کے سیاسی مستقبل کیلئے بھی اہم ہو۔ سوال یہ نہیں کہ سالک حسین نے الزام کیوں لگایا، سوال یہ ہے کہ مریم نواز کو ہرالزام کا جواب اسی شدت سے دینے کا مشورہ کون دیتا ہے ؟ کیا ان کے اردگرد ایسے لوگ موجود نہیں جو انہیں سمجھا سکیں کہ سیاست میں ہرتنقید کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، ہرپتھر اٹھا کرواپس پھینکنا دانش مندی نہیں ہوتی اورہرمخالف کو قانونی نوٹس بھیجنا سیاسی حکمت عملی نہیں کہلاتا۔ انہیں کس نے سمجھایا کہ خاموشی کمزوری اور سخت ردعمل بہادری ہوتا ہے ؟ مریم نوازچاہتیں تو خاموش رہ کراس الزام کو نظراندازکرسکتی تھیں۔ ممکن تھا اگلے روز کوئی نیا سیاسی واقعہ اس خبرکو پیچھے دھکیل دیتا اور چند دن بعد لوگ اسے بھول جاتے ، لیکن سخت ردعمل، جوابی بیانات اورقانونی نوٹس نے اس معاملے کو مزید نمایاں کر دیا۔ اب سالک حسین دوسری مرتبہ بھی اپنے الزام کو دہرا چکے ہیں اور اپنے مؤقف پرقائم ہیں۔میرے سورس بتاتے ہیں چند دنوں تک سالک حسین تمام ترثبوت لیکر پریس کانفرنس کرسکتے ہیں، اگر مریم نوازعدالت جاتی ہیں،توسالک حسین وہاں ثبوت لیکرجائیں گے ،مریم کا عدالت جانے کا مطلب‘‘آبیل مجھے مار’’۔یوں لگتا ہے مریم نوازکو ٹریپ کیا گیا ہے ، یہ محض دو سیاست دانوں کے درمیان الزام تراشی نہیں ،اس کے پیچھے بڑی سیاسی بساط بچھائی گئی ہے ۔ایک بات ذہن میں رکھیں اوراس پرخصوصی غورکیا جائے ۔ سالک حسین اورمحسن نقوی ہم زلف ہیں،دونوں اشرف مارتھ کے داماد ہیں۔ اوراشرف مارتھ چوہدری پرویز الہٰی کے بہنوئی تھے ،چوہدری پرویزالہٰی،چوہدری شجاعت کے چچا زاد ہیں،سالک حسین،چوہدری شجاعت کے بیٹے ہیں۔ایک اور اہم بات،گزشتہ دنوں لاہور قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان نے سری لنکا سے فائنل جیتا،محسن نقوی نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو بلا کران سے ٹرافی دلوائی تھی،بنتا تومریم نواز کا تھا۔آگے چلتے ہیں،سات ماہ بعد کپتان سے ملاقات بھی کرادی گئی ہے ،بیرسٹر گوہرکا جنرل باجوہ سے مصافحہ بھی ایک ‘‘ خبر’’دے رہا ہے ۔یہ بھی سنا ہے 15نومبر کو اٹھائیسویں ترمیم آرہی ہے ،بہرحال کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔

یہیں اکبر کے نورتنوں کی مثال دوبارہ یاد آتی ہے ۔ اکبر کے دربارمیں ایسے لوگ موجود تھے جو بادشاہ کو صرف خوش کرنے کیلئے نہیں بیٹھے تھے ، بلکہ اسے مشکل فیصلوں کے نتائج بھی سمجھاتے تھے ۔ اچھا مشیر وہ نہیں ہوتا جو ہر بات پر سر ہلائے ، اچھا مشیر وہ ہوتا ہے جو وقت پر بادشاہ کو روک دے ، اسے بتائے کہ خاموشی کب طاقت بنتی ہے اور جواب دینا کب اپنی کمزوری ظاہر کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ نوازشریف صاحب !! اکبر بادشاہ نے نصف صدی حکومت کی تو اس کے پیچھے اس کے نورتن تھے ، مریم نواز کو بھی ایسے مشیر دیجیے جو انہیں ہرجنگ لڑنے کا نہیں، کچھ جنگیں نہ لڑنے کا مشورہ دے سکیں۔ کیونکہ حکمران کو ہمیشہ دشمن ہی نہیں گراتے ، اکثران کے اپنے مشیر ہی اسے لے ڈوبتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں