میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بابر اعظم کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ کیا اسٹار بلے باز میچ جتوانے کی صلاحیت کھو رہا ہے؟

بابر اعظم کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ کیا اسٹار بلے باز میچ جتوانے کی صلاحیت کھو رہا ہے؟

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کرکٹ میں بابر اعظم کا نام کبھی اعتماد، مستقل مزاجی اور عالمی معیار کی بلے بازی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ان کے دلکش کور ڈرائیوز، شاندار ٹائمنگ اور مشکل حالات میں بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت نے انھیں دنیا کے ممتاز بلے بازوں میں شامل کیا۔ مگر آج یہی بابر اعظم اپنے کیریئر کے ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ان کے بلے سے رنز کیوں نہیں نکل رہے ، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا وہ جدید کرکٹ کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں ناکام ہو رہے ہیں؟کیا ان کی تکنیک میں خامیاں پیدا ہو گئی ہیں؟ کیا مسلسل کرکٹ، کپتانی کے دباؤ اور غیر معمولی توقعات نے ان کا اعتماد متاثر کیا ہے ؟ یا پاکستانی کرکٹ کا ماحول ایک مرتبہ پھر اپنے بڑے کھلاڑی کو سنبھالنے کے بجائے تنقید کی نذر کر رہا ہے ؟ان سوالات کے جواب بابر کے مستقبل ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بیٹنگ حکمتِ عملی کے لیے بھی اہم ہیں۔

سہ فریقی سیریز: فتح کے باوجود بابر کی ناکامی
پاکستان نے حالیہ سہ فریقی ٹورنامنٹ کے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹرافی جیت لی، لیکن بابر اعظم کی غیر متاثر کن کارکردگی نے اس کامیابی کے باوجود کئی سوالات پیدا کر دیے ۔ اعدادوشمار کے مطابق بابر نے پانچ اننگز میں صرف 118رنز بنائے ۔ سری لنکا کے خلاف پہلے میچ میں 45، انگلینڈ کے خلاف دو مقابلوں میں بالترتیب 34 اور 10، پھر سری لنکا کے خلاف 29 رنز بنائے ، جبکہ فائنل میں پانچ گیندیں کھیل کر صفر پر آؤٹ ہو گئے ۔ان کی بیٹنگ اوسط محض 23.60رہی اور وہ ایک بھی نصف سنچری نہ بنا سکے ۔کسی عام بلے باز کے لیے یہ محض ایک ناکام ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے ، لیکن بابر جیسے کھلاڑی کے لیے ، جس سے ٹیم مشکل حالات میں بڑی اننگز کی توقع رکھتی ہے ، یہ کارکردگی تشویش پیدا کرتی ہے ۔تاہم پانچ اننگز کسی کھلاڑی کی مجموعی صلاحیت جانچنے کے لیے کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ناکامی ایک عارضی دور ہے یا طویل عرصے سے سامنے آنے والی کمزوریوں کا تسلسل؟

عروج سے زوال تک:کیا بدلا ہے ؟
بابر اعظم کی بین الاقوامی کامیابیاں غیر معمولی رہی ہیں۔2019کے عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ناقابلِ شکست 101رنز ان کی بہترین اننگز میں شمار ہوتے ہیں۔ مشکل پچ، بڑے مقابلے کا دباؤ اور اہم فتح کی ضرورت، بابر نے اس موقع پر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کو کامیابی تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔2021میں برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف 158رنز کی اننگز ان کی تکنیکی مہارت اور طویل اننگز کھیلنے کی صلاحیت کا ثبوت تھی۔ اسی طرح 2023کے ایشیا کپ میں نیپال کے خلاف 151رنز ان کی نمایاں کارکردگی رہی۔لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے ۔بڑی اننگز کھیلنا اور بڑے مقابلوں کا نتیجہ تبدیل کرنا ہمیشہ ایک جیسی بات نہیں۔نیپال جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے خلاف سنچری یقیناً اہم ہے ، لیکن مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف، مشکل حالات میں یا فیصلہ کن مقابلے میں ایسی کارکردگی کی اہمیت مختلف ہوتی ہے ۔بابر کے ناقدین اسی فرق کو بنیاد بناتے ہیں۔ ان کے مطابق بابر کے انفرادی ریکارڈ متاثر کن ہیں، لیکن پاکستان کو بعض اہم مواقع پر ان سے مطلوبہ میچ وننگ کارکردگی نہیں مل سکی۔یہ اعتراض مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، مگر صرف چند ناکامیوں سے ان کی سابقہ فیصلہ کن اننگز بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔

تکنیکی مسئلہ:کیا کور ڈرائیو کمزوری بن گئی؟
بابر کی بیٹنگ کا سب سے خوب صورت پہلو ان کا کور ڈرائیو رہا ہے ۔ بہترین توازن، گیند کی لائن میں آنے کی صلاحیت اور غیر معمولی ٹائمنگ انھیں دوسرے بلے بازوں سے ممتاز کرتی تھی۔لیکن کرکٹ میں بعض اوقات کھلاڑی کا پسندیدہ شاٹ ہی اس کی کمزوری بن جاتا ہے ۔آف اسٹمپ کے باہر جاتی گیندوں کو کھیلتے ہوئے اگر بلے باز کا اگلا قدم مناسب جگہ نہ پہنچے یا بلا جسم سے دور ہو تو سلپ میں کیچ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔بابر کی حالیہ ناکامیوں کے تناظر میں آف اسٹمپ کے باہر گیندوں کے انتخاب، فٹ ورک اور شاٹ کھیلنے کے وقت کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ایک اور اہم پہلو اننگز کی رفتار ہے ۔جدید ون ڈے کرکٹ میں صرف وکٹ محفوظ رکھنا کافی نہیں۔ بلے باز کو اسکور بورڈ متحرک رکھنے ، ڈاٹ بالز کم کرنے اور ضرورت کے مطابق جارحانہ انداز اختیار کرنے کی صلاحیت بھی دکھانا ہوتی ہے ۔بابر کی حالیہ سیریز میں سست رفتار بیٹنگ نے اس بحث کو مزید تقویت دی کہ کیا ان کا انداز موجودہ کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ہے ؟

محمد یوسف کا مشورہ:پہلے تکنیک درست کریں
سابق پاکستانی کپتان محمد یوسف نے بابر کی مشکلات کو سنجیدہ تکنیکی مسئلہ قرار دیتے ہوئے خصوصی کوچنگ کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ان کے مطابق بابر کو اپنی خامیاں درست کیے بغیر فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپس نہیں جانا چاہیے ، کیونکہ وہاں مزید ناکامیاں ان کے اعتماد اور کیریئر کو متاثر کر سکتی ہیں۔یوسف نے تجویز دی کہ بابر کو انگلینڈ یا آسٹریلیا کی کسی معیاری کرکٹ اکیڈمی میں بھیجا جائے ، جہاں ماہر کوچز ان کی تکنیک پر کام کریں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یوسف بابر کی صلاحیت کے منکر نہیں۔ وہ اب بھی انھیں پاکستان کے بہترین بلے بازوں میں شمار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مناسب رہنمائی انھیں دوبارہ عروج پر پہنچا سکتی ہے ۔لیکن اس تجویز کا دوسرا پہلو بھی ہے ۔کئی عظیم کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں لمبی اننگز کھیل کر اعتماد بحال کرتے رہے ہیں۔ اگر مسئلہ تکنیکی ہو تو خصوصی تربیت ضروری ہے ، جبکہ اعتماد کی کمی میں میچ پریکٹس زیادہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔لہٰذا بابر کے لیے درست راستہ مکمل تکنیکی تشخیص کے بعد ہی متعین ہونا چاہیے ۔

ذہنی دباؤ اور مسلسل توقعات
بابر کی مشکلات کا ایک ممکنہ سبب ذہنی دباؤ بھی ہو سکتا ہے ۔پاکستان میں کسی بڑے کرکٹر کی ناکامی محض کھیل کی خبر نہیں رہتی۔ ٹیلی ویژن پروگراموں، سوشل میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کے تبصروں میں ہر اننگز کو اس کے پورے کیریئر کا فیصلہ بنا دیا جاتا ہے ۔بابر طویل عرصے تک قومی ٹیم کی کپتانی کرتے رہے ۔ قیادت کی ذمہ داریاں، مسلسل بین الاقوامی کرکٹ اور غیر معمولی عوامی توقعات کسی بھی کھلاڑی کے لیے مشکل ہو سکتی ہیں۔کھیلوں کی نفسیات کے مطابق مسلسل ناکامی بعض اوقات بلے باز کی فیصلہ سازی متاثر کرتی ہے ۔ وہ فطری انداز میں کھیلنے کے بجائے غلطی سے بچنے پر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے ۔تاہم بابر کے بارے میں ذہنی تھکن یا اعتماد کے بحران کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا درست نہیں۔یہ ممکنہ عوامل ہیں جن کا جائزہ ماہرین کی مدد سے لیا جانا چاہیے ۔مناسب آرام، محدود مدت کی خصوصی تربیت اور غیر ضروری دباؤ سے دوری ان کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔

عماد وسیم اور عابد علی:تنقید ہو، کردار کشی نہیں
بابر پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے ان کا بھرپور دفاع کیا ہے ۔عماد کے مطابق بابر پاکستان کے بہترین ون ڈے بلے بازوں میں شامل ہیں اور تقریباً ایک دہائی کی اعلیٰ کارکردگی کو خراب فارم کے ایک دور کی وجہ سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے واضح کیا کہ کسی کھلاڑی کی تکنیک اور کارکردگی پر سوال اٹھانا درست ہے ، لیکن ذاتی حملوں، حسد اور کردار کشی کو کرکٹ تجزیہ نہیں کہا جا سکتا۔عابد علی نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک اپنے بڑے کھلاڑیوں کا مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں اکثر انھیں مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔یہ مؤقف ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے ۔بابر کو ماضی کی کامیابیوں کی بنیاد پر ٹیم میں مستقل جگہ نہیں ملنی چاہیے ، لیکن حالیہ ناکامیوں کے باعث ان کی تمام سابقہ خدمات بھی بے معنی نہیں ہو جاتیں۔محمد یوسف نے ایک اور بحث میں یاد دلایا کہ بابر کے دور میں فخر زمان، محمد رضوان، محمد حفیظ، اظہر علی اور اسد شفیق جیسے کھلاڑی بھی پاکستان کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ۔لہٰذا کسی ایک بلے باز کو تمام کامیابیوں کا واحد معمار یا تمام ناکامیوں کا ذمہ دار بنانا غیر منصفانہ ہے ۔

کیا بابر اب میچ ونر نہیں رہے ؟
یہ پوری بحث کا سب سے اہم سوال ہے ۔کسی بلے باز کی میچ جتوانے کی صلاحیت صرف سنچریوں یا مجموعی رنز سے نہیں جانچی جا سکتی۔اس کے لیے دیکھنا ہوگا کہ اس نے کتنے مشکل اہداف حاصل کرنے میں کردار ادا کیا، مضبوط حریفوں کے خلاف کتنی اہم اننگز کھیلیں، دباؤ میں رن ریٹ کیسے برقرار رکھا اور اس کی بیٹنگ نے ٹیم کی کامیابی کے امکانات کس حد تک بہتر بنائے ۔2019میں نیوزی لینڈ کے خلاف بابر کی سنچری اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ وہ مشکل حالات میں میچ جتوانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔لیکن موجودہ کرکٹ میں انھیں یہ صلاحیت دوبارہ مستقل بنیادوں پر دکھانا ہوگی۔اگر کوئی بلے باز طویل وقت کریز پر گزارنے کے باوجود مطلوبہ رفتار برقرار نہیں رکھ پاتا تو اس کی اننگز ٹیم کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے ۔دوسری طرف ہر شکست کا ذمہ دار صرف ایک بلے باز کو ٹھہرانا بھی درست نہیں۔کرکٹ اجتماعی کھیل ہے اور میچ کا نتیجہ بولنگ، فیلڈنگ، شراکتوں اور مجموعی حکمتِ عملی سے تشکیل پاتا ہے ۔

سلیکشن کا امتحان:شہرت یا کارکردگی؟
کپتان شاہین شاہ آفریدی نے بابر کی واپسی پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ کے ذریعے فارم بحال کرنے کی امید دلائی ہے ۔
دوسری جانب بعض اسپورٹس تجزیہ کاروں نے عالمی کپ کے لیے بابر کے انتخاب پر سوال اٹھائے ہیں۔یہ بحث جائز ہے ۔کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں کھلاڑی کا انتخاب حالیہ کارکردگی، ٹیم کی ضرورت اور دستیاب متبادل کھلاڑیوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے ۔بابر کی شہرت انھیں احتساب سے بالاتر نہیں بناتی، لیکن ان کی عارضی ناکامی بھی مستقل اخراج کی دلیل نہیں ہو سکتی۔

بابر اعظم کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے ؟کیا اسٹار بلے باز میچ جتوانے کی صلاحیت کھو رہا ہے ؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کو واضح معیار مقرر کرنا ہوگا تاکہ انتخاب ذاتی پسند، عوامی دباؤ یا سوشل میڈیا مہمات کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر ہو۔

واپسی کا راستہ کیا ہے ؟
بابر کے لیے ایک مربوط بحالی پروگرام ناگزیر دکھائی دیتا ہے ۔سب سے پہلے ان کی حالیہ اننگز کا تکنیکی تجزیہ کیا جائے ۔ آف اسٹمپ کے باہر گیندوں کے انتخاب، فٹ ورک، اسٹرائیک روٹیشن اور مختلف رفتار کی گیندوں کے خلاف کارکردگی پر خصوصی توجہ دی جائے ۔اس کے بعد ضرورت کے مطابق انگلینڈ یا آسٹریلیا میں ماہر کوچنگ فراہم کی جا سکتی ہے ۔محدود اور منصوبہ بند میچ پریکٹس کے ذریعے ان کی اصلاحات کا عملی جائزہ لیا جائے ۔ان کی کارکردگی جانچتے وقت صرف مجموعی رنز نہیں بلکہ اسٹرائیک ریٹ، ڈاٹ بال فیصد، مضبوط حریفوں کے خلاف کامیابی اور اہم مواقع پر شراکتوں کو بھی اہمیت دی جائے ۔

نتیجہ:بابر کا بہترین دور ختم ہوا یا نئی شروعات ممکن ہے ؟
بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی یقیناً تشویش ناک ہے ، لیکن یہ کہنا کہ وہ میچ جتوانے کی صلاحیت مکمل طور پر کھو چکے ہیں، قبل از وقت ہوگا۔ان کی تکنیکی مہارت، بین الاقوامی تجربہ اور ماضی کی فیصلہ کن اننگز ثابت کرتی ہیں کہ ان کے پاس دوبارہ کامیاب ہونے کی بنیاد موجود ہے ۔ البتہ واپسی صرف سابقہ ریکارڈ کے سہارے ممکن نہیں۔بابر کو اپنے کھیل کی خامیاں تسلیم کرنا ہوں گی، جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں لانا ہوں گی اور مشکل حالات میں اپنی افادیت دوبارہ ثابت کرنا ہوگی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو انھیں مناسب کوچنگ اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، جبکہ سلیکٹرز کو جذبات کے بجائے کارکردگی پر فیصلے کرنا ہوں گے ۔اصل سوال یہ نہیں کہ بابر اعظم کبھی عظیم بلے باز تھے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود کو بدل کر ایک مرتبہ پھر پاکستان کے لیے فیصلہ کن میچ ونر بن سکتے ہیں؟اس سوال کا جواب نہ ان کے مداح دیں گے ، نہ ناقدین۔اس کا جواب بابر اعظم کو خود اپنے بلے سے دینا ہوگا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں