ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی
شیئر کریں
ریاست ‘‘دماغ ’’کا کام ‘‘ہاتھ’’ سے لینے لگے تو اس کے پاس سے ایک چیز خاموشی سے کھسک جاتی ہے، اور وہ ہے دلیل!! ہاتھ استعمال کرنے والوں کی یوں بھی اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خود سات پردوں میں چھپی ہو تو پولیس بولنے لگتی ہے۔ سیاسی اختلاف کا جواب کبھی مقدمے سے ملتا ہے ، کبھی احتساب کے نوٹس سے اور کبھی تجاوزات کی پیمائش سے ۔ قانون کی کتاب وہی رہتی ہے ، صرف اس کے کھلنے کا وقت بدل جاتا ہے ۔ جس دن کوئی سیاست دان طاقت کے مراکز کی مرضی سے اختلاف کرے ، اسی دن انتظامیہ کو اپنے فرائض یاد آنے لگتے ہیں۔ یہ محض اتفاقات کا سلسلہ نہیں، ایک ایسے نظمِ اجتماعی کی موذی بیماری ہے جس میں فیصلے دماغ نہیں، طاقت کے پٹھے کرتے ہیں۔ یہاں ریاستی ادارے قانون کے محافظ کم اور اقتدار کی ناراضی کے ترجمان زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان اور موجودہ حکومتی بندوبست کا تصادم اسی بیماری کا تازہ مظہر ہے ۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف مولانا، تحریک کے قائدانہ کرداروں میں شامل تھے ۔ یوں وہ اس نظام کے بنیادی معماروں میں ہیں۔آج کے حکمران کل ان کے اتحادی تھے ۔ لیکن 2024ء کے انتخابات کے بعد فارم 47کے بندوبست میں مولانا کے لیے کوئی نمایاں جگہ نہ نکلی۔ یہ محض سیاسی رفاقت کی ناکامی نہیں، اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کی تقسیم کا فیصلہ ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات نہیں کرتے ۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ طاقت کے فیصلہ ساز کس کردار کو کس حد تک کارآمد سمجھتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد مولانا اور حکومت کے درمیان تعلقات کو مزید دھچکا لگا۔ وہ تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان دونوں ہی فریقین کی رضامندی سے ثالثی فرما رہے تھے۔ مگر ان کی کوششوں کو سبوتاژ کر دیا گیا، مولانا اسے حکمرانی کے پس پردہ جاری کھیل کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ جس میں گورنر راج کا نفاذ پہلے سے طے شدہ تھا۔ یہ مولانا کے متعلق جہاں غیر حکومتی یا حکومت مخالف حلقوں میں مزید بدگمانیاں پیدا کرنے کا سبب بنا، وہیں خود مولانا فضل الرحمان کے دل میں حکومتی حلقوں اور ان کے پیچھے موجود بندوبستی قوتوں کے خلاف مزید بدگمانیاں پیدا کرنے کا بھی محرک ثابت ہوا۔ مولانا نے فارم 47 کے‘ رجے پجے’ بندوبست کو بالواسطہ ہدف بنایا اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے بدنام زمانہ فقرے کو خود اُن کی طرف ہی لوٹا دیا ‘‘کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہیــ’’۔ اگلے روز خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت حکومتی شخصیات کے سخت جوابات سامنے آئے ۔
وزیر داخلہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب جمعیت علمائے اسلام کو ریاست سے نوکریاں، فنڈز اور ٹکٹ نہیں ملیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان پر ایک یلغار ہے، مگر مولانا بھی حکومت کے دامن پر موجود ساری چادریں نوچنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ یہ بیانات محض سیاسی تلخی نہیں، دراصل ریاست کے تصور پر ایک سنگین سوال ہے۔ وزیر داخلہ آخر کس اختیار سے ریاستی وسائل کو سیاسی موافقت کے ساتھ مشروط کر رہے تھے ؟ کیا ریاست کی سہولتیں حکمرانوں کی ذاتی جاگیر ہیں، جن کی تقسیم وفاداری کی بنیاد پر ہوگی؟ اس بیان میں غیر ارادی طور پر اس پورے نظام کی نفسیات بے نقاب ہوگئی جس میں ریاست اور حکومت کے درمیان فرق مٹا دیا جاتا ہے ۔ حکمران کی ناراضی ریاست کی ناراضی اور اس کی خوشنودی قومی مفاد قرار پاتی ہے ۔پھر پولیس مولانا کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئی اور سی ڈی اے نے مبینہ تجاوزات کا نوٹس جاری کردیا۔اسلام آباد پولیس کا موقف ہے کہ سوشل میڈیا پر انصار الاسلام کے کارکنوں کی جانب سے لوگوں کی چیکنگ سے متعلق ایک ویڈیو کی تصدیق کے لیے پولیس وہاں گئی تھی، لیکن ایسا کچھ نہیں ملا۔ پولیس نے اسے غلط فہمی قرار دیا۔ دوسری جانب سی ڈی اے نے گارڈ پوسٹس، جنریٹر اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف پندرہ روز میں کارروائی کی ہدایت کی۔ جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان کا مؤقف تھا کہ اسی گلی میں دیگر گھروں کے باہر بھی ایسی تنصیبات موجود ہیں مگر نوٹس صرف مولانا کی رہائش گاہ کو ملا۔ سی ڈی اے اس امتیازی سلوک کی تردید کرتا ہے ۔یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ پولیس کو غلط فہمی اسی سیاسی کشیدگی کے دوران کیوں ہوئی؟ اور سی ڈی اے کی قانونی مستعدی کا وقت اس قدر معنی خیز کیوں نکلا؟ واقعات کی یہ زمانی قربت بدنیتی کی چغلی کھاتی ہے۔ اسی رہائش گاہ کو 2019ء میں بھی تجاوزات سے متعلق ہدایت جاری ہوئی تھی۔جب مولانا ایک دوسرے دور کی نفسیات کے ساتھ اسی طرح بروئے کار تھے۔ سوال وہی ہے کہ ایسے نوٹس مخصوص سیاسی حرکیات سے کیوں جڑے ہوئے ہیں؟ اگر خلاف ورزی پرانی ہے تو کارروائی کی رفتار کا تعین کس نے کیا؟ اگر دوسرے گھروں میں بھی ایسی تنصیبات ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ کہاں ہے ؟ ریاست کو اپنی غیر جانب داری محض دعوے سے نہیں، قابلِ جانچ شواہد سے ثابت کرنا ہوتی ہے ۔
جدید سیاسی فکر میں اسے قانون کی حکمرانی اور قانون کے ذریعے حکمرانی کا فرق کہا جاتا ہے ۔ پہلی صورت میں قانون طاقت کو محدود کرتا ہے ۔دوسری میں طاقت قانون کو استعمال کرتی ہے ۔ پہلی میں ادارے خلاف ورزی تلاش کرتے ہیں، دوسری میں پہلے مخالف منتخب ہوتا ہے، پھر اس کے خلاف دفعات تلاش کی جاتی ہیں۔ قانون کا متن بظاہر غیر جانب دار رہتا ہے ، مگر اس کے نفاذ کا اختیار سیاسی ترجیحات کا اسیر بن جاتا ہے ۔یہ طرزِ حکمرانی عام آمریت سے زیادہ پیچیدہ ہے ۔ آمریت قانون کو معطل کرتی ہے ، جبکہ یہ نظام قانون کو برقرار رکھ کر اس کی روح معطل کر دیتا ہے ۔ یہاں جبر ،وردی کے ساتھ ساتھ دفتری فائل، سرکاری مہر اور قانونی نوٹس کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ شہری کو عدالت جانے کا حق حاصل رہتا ہے ، مگر اس سے پہلے اسے ریاستی اختیار کی پوری قیمت چکانا پڑتی ہے ۔
اس نظام کی ایک اور خصوصیت احتساب کی موسمی بیداری ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کے خلاف الزامات اور ابلاغی مہمات کو بھی اسی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے ۔ مولانا کوئی مقدس شخصیت نہیں۔ ان کے سیاسی اتحاد، اقتدار سے تعلقات، مذہبی سیاست اور مالی معاملات سب سخت ترین تنقید کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کی مبینہ خرابیاں حکومتی اتحاد کے زمانے میں کیوں غیر اہم تھیں؟ خواجہ آصف اگر آج ان کے ماضی کے معاملات جانتے ہیں تو یہ معلومات پہلے کیوں سامنے نہیں لائے ؟ کیا مبینہ بدعنوانی کا علم رکھنے والے حکومتی منصب دار کی خاموشی بھی جواب طلب نہیں؟یہاں الزام لگانے والے کا کردار خود ایک سوال بن جاتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے سیاسی ساتھی کی مبینہ بدعنوانی جانتے ہوئے خاموش رہے اور اختلاف پیدا ہونے پر اسے افشا کرنے کی دھمکی دے تو وہ احتساب نہیں کر رہا، معلومات کو سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے ۔ ایسی صورت میں اصل سوال صرف ملزم کا کردار نہیں، الزام کو برسوں محفوظ رکھنے والے کی اخلاقی حیثیت بھی ہے ۔
ابلاغی اداروں کے بعض حلقے اس کھیل کو مزید مکروہ بناتے ہیں۔ کسی سیاست دان کے طاقت کے قریب ہونے پر اس کی خامیاں نظرانداز کرنا اور اختلاف کے بعد اس کے خلاف یکایک اخلاقی محاذ کھول دینا صحافت کی نہیں، درباری خدمت کی علامت ہے ۔ ایسی صحافت میں خبر کی قدر اس کی صداقت سے نہیں، اس کے سیاسی استعمال سے متعین ہوتی ہے ۔ نتیجتاً عوام حقیقی الزام کو بھی انتقامی کارروائی سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں احتساب کی ساکھ اس کے دشمن نہیں، اسے سیاسی ہتھیار بنانے والے تباہ کرتے ہیں۔اس تنقید سے مولانا کی اپنی سیاسی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ انہیں بھی بتانا چاہیے کہ جب یہی ہتھکنڈے دوسرے سیاسی کرداروں کے خلاف استعمال ہوتے رہے تو ان کی اصولی مزاحمت کہاں تھی؟ طاقت کے نظام سے فائدہ اٹھانے والا جب اس کے نشانے پر آتا ہے تو اس کی شکایت بجا ہو سکتی ہے ، مگر اس کا ماضی سوالات سے آزاد نہیں ہو جاتا۔
اصل المیہ کسی ایک سیاست دان کی مظلومیت نہیں، اس ریاستی ساخت کا اخلاقی دیوالیہ پن ہے جس میں اداروں کی قانونی قوت کو سیاسی وفاداری کی خدمت پر لگا دینے کا اندیشہ مستقل موجود رہتا ہے ۔ ایک مہذب ریاست میں پولیس کا اختیار جرم سے ، انتظامیہ کی کارروائی ضابطے سے اور احتساب کا آغاز شواہد سے ہوتا ہے ، سیاسی ناراضی سے نہیں۔ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے مخالف کو کتنا دبا سکتی ہے ، بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اس کے ساتھ کتنا انصاف کر سکتی ہے ۔جس معاشرے میں یہ امتحان مسلسل ہارا جائے ، وہاں آئین محض عبارت، قانون محض ہتھیار اور ادارے طاقت کے کرائے کے بازو بن جاتے ہیں۔ پھر پولیس کی غلط فہمی بھی سیاسی معنی رکھتی ہے اور تجاوزات کا نوٹس بھی اقتدار کی زبان بولتا محسوس ہوتا ہے ۔یہ ریاست کی قوت نہیں، اس کی فکری مفلسی ہے ۔ کیونکہ جس نظام کو ایک سیاسی تقریر کا جواب دینے کے لیے پولیس، انتظامیہ اور ابلاغی لشکر کی ضرورت پڑ جائے ، اس کے پاس طاقت تو بہت ہوتی ہے ، مگر دلیل ختم ہو چکی ہوتی ہے ۔ اور جہاں دلیل مر جائے ، وہاں ریاست نہیں، طاقت کا جنگل آباد ہوتا ہے ۔ فرق صرف اتنا رہ جاتا ہے کہ جنگل کے درندے پنجوں سے شکار کرتے ہیں اور یہاں شکار کے لیے قانون کی مہر استعمال ہوتی ہے ۔
٭٭٭


