میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کرپشن کا ناسور، قومی وسائل کی لوٹ مار اور احتساب کا نظام

کرپشن کا ناسور، قومی وسائل کی لوٹ مار اور احتساب کا نظام

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مالی بدعنوانی اور جرائم کے مابین کڑیوں کو بے نقاب کرنا ایک قومی اور سماجی ذمہ داری ہے ۔کرپشن کسی بھی ملک کی ترقی، معاشی استحکام اور قومی اداروں کو کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ پاکستان میں بدعنوانی کا مسئلہ محض رشوت ستانی تک محدود نہیں بلکہ قومی وسائل کے ضیاع، اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی بے ضابطگیوں اور کمزور احتسابی نظام سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ اس ناسور نے ریاستی اداروں کی کارکردگی، عوام کے اعتماد اور ملکی معیشت کو متاثر کیا ہے ۔

قومی خزانے میں جمع ہونے والا سرمایہ عوام کی امانت ہوتا ہے ، جسے تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونا چاہیے ، لیکن جب یہی سرمایہ بدعنوانی، اقرباپروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نذر ہو جائے تو ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے ۔ ایک طرف عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں تو دوسری طرف قومی وسائل سے چند افراد کے ذاتی مفادات پورے کیے جاتے ہیں۔ اس صورت حال سے معاشی ناہمواری اور احساسِ محرومی بڑھتا ہے ۔کرپشن صرف رشوت لینے یا دینے کا نام نہیں بلکہ اس کی متعدد شکلیں ہیں۔ سرکاری عہدوں کا ذاتی مفادات کے لیے استعمال، ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن، ٹھیکوں کی غیر شفاف تقسیم، سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے ، ٹیکس چوری، جعلی بھرتیاں اور قومی اداروں میں مالی بے ضابطگیاں بھی بدعنوانی میں شامل ہیں۔ جب کسی ادارے میں میرٹ کی جگہ سفارش اور قانون کی جگہ اثرورسوخ لے لے تو بدعنوانی پورے نظام کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔نتیجتاً اہل افراد مواقع سے محروم اور اقرباپروری کو فروغ ملتا ہے ۔

مالی بدعنوانی اور جرائم کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے ۔ ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت اکثر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ منی لانڈرنگ، جعلی مالی لین دین، ٹیکس چوری، غیر قانونی اثاثوں کی خریداری اور سرکاری رقوم میں خردبرد ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کو بھی تقویت دیتی ہیں۔ بعض اوقات بدعنوانی سے حاصل ہونے والی رقم کاروباری سرگرمیوں کی آڑ میں چھپائی جاتی ہے یا بیرون ملک منتقل کر دی جاتی ہے ۔ اس لیے مشکوک مالی لین دین کی نگرانی، غیر قانونی اثاثوں کی تحقیقات اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے ۔ ان روابط کو بے نقاب کرنا قومی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے ۔

پاکستان میں کرپشن کے فروغ کی ایک بڑی وجہ احتسابی نظام کی کمزوریاں ہیں۔ اگر کسی سرکاری محکمے میں مالی بے ضابطگی ہو یا ترقیاتی منصوبے میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جائے تو تحقیقات میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ بدقسمتی سے بعض معاملات برسوں تک تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اس دوران قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی مشکل ہو جاتی ہے اور عوام کا احتسابی اداروں پر اعتماد متاثر ہوتا ہے ۔ سرکاری محکموں کا پیچیدہ طریقۂ کار، اختیارات کا ارتکاز اور نگرانی کا فقدان بھی بدعنوانی کو فروغ دیتا ہے ۔عام شہری کو ایک معمولی سرکاری کام کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ بعض مقامات پر رشوت کے بغیر جائز کام بھی تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے ۔ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی خلاف ورزی، تبادلوں اور تعیناتیوں میں سفارش اور ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم انتظامی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے ۔ جب شہری کو اپنے قانونی حق کے حصول میں مشکلات پیش آئیں تو ریاستی اداروں پر اس کا اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے ۔

قومی وسائل کے ضیاع کا ایک بڑا سبب ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی اور ناقص نگرانی ہے ۔ سڑکوں، پلوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے مختص رقوم کا درست استعمال یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر منصوبوں کی لاگت بڑھائی جائے، ناقص تعمیراتی سامان استعمال ہو یا کام مکمل کیے بغیر ادائیگیاں کر دی جائیں تو نقصان براہِ راست عوام کو پہنچتا ہے ۔ اس لیے منصوبوں کی لاگت، معیار اور مدتِ تکمیل کی نگرانی ضروری ہے ۔پاکستان میں احتساب کے لیے قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، صوبائی اینٹی کرپشن محکمے اور آڈیٹر جنرل جیسے ادارے موجود ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد سرکاری وسائل کی حفاظت، بدعنوانی کی روک تھام اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے ۔ تاہم ان اداروں کی کامیابی کا معیار صرف مقدمات درج کرنا یا گرفتاریاں کرنا نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، بروقت فیصلے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی ہے ۔

احتساب کا نظام اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہو۔ کسی شخص کا تعلق حکمران جماعت سے ہو یا حزب اختلاف سے ، وہ سرکاری افسر ہو یا بااثر کاروباری شخصیت، سب کے لیے قانون ایک جیسا ہونا چاہیے ۔ اگر بااثر شخص کو رعایت اور کمزور شہری کو سخت سزا ملے تو انصاف کا تصور مجروح ہوتا ہے ۔ احتساب کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانے کے بجائے غیر جانب دار قانونی عمل کی شکل دینا ضروری ہے ۔ محض الزام کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے اور ہر ملزم کو صفائی کا پورا موقع ملنا چاہیے ۔ جرم ثابت ہونے پر کسی کو عہدے یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر رعایت نہیں ملنی چاہیے ۔

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے صرف گرفتاریوں اور مقدمات سے کام نہیں چلے گا۔ سرکاری خریداری، ترقیاتی منصوبوں، ٹھیکوں اور مالی ادائیگیوں کا نظام شفاف بنانا ہوگا۔ سرکاری ٹھیکوں کی تفصیلات، منصوبوں کی لاگت، مختص فنڈز اور مکمل ہونے والے کاموں کی معلومات عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہییں۔ منصوبوں کی نگرانی میں آزاد ماہرین اور شہری نمائندوں کو شامل کیا جائے ۔ پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھی آڈٹ اعتراضات کا بروقت جائزہ لے کر متعلقہ محکموں سے جواب طلب کرنا چاہیے ۔ ٹیکس چوری قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ جب بااثر اور صاحبِ حیثیت افراد اپنی اصل آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کرتے تو اس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے ، چھوٹے تاجروں اور عام صارفین پر پڑتا ہے ۔ حکومت کو ٹیکس نظام میں شفافیت، آسانی اور مساوات پیدا کرنا ہوگی۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ساتھ عوام کو یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ ان کی ادا کردہ رقم تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی
سہولیات پر خرچ ہو رہی ہے ۔

کرپشن کے خاتمے میں سیاسی قیادت کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ حکمرانوں کو اپنے طرزِ عمل سے دیانت داری اور جواب دہی کی مثال قائم کرنی چاہیے ۔ وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں، آمدنی اور مفادات کے بارے میں واضح اور قابلِ تصدیق معلومات کا نظام ہونا چاہیے ۔ سرکاری عہدے کو ذاتی کاروبار، خاندان یا سیاسی حامیوں کے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ عدالتی نظام میں مقدمات کے غیر ضروری التوا کو ختم کرنے ، مالی جرائم کی تحقیقات میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور گواہوں کے تحفظ کی ضرورت ہے ۔ آزاد ذرائع ابلاغ اور تحقیقاتی صحافت کو بھی بدعنوانی کی نشاندہی کرنے کی مکمل آزادی ملنی چاہیے ۔

عصر حاضر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کرپشن کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے ۔ سرکاری خدمات کو آن لائن منتقل کرنے ، زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ بنانے اور ٹیکس ادائیگیوں، سرکاری خریداری اور ترقیاتی فنڈز کی نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف کرانے سے انسانی مداخلت اور غیر ضروری رابطوں میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ اس سے شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکروں سے نجات مل سکتی ہے اور مالی معاملات کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ تاہم ڈیجیٹل نظام کی نگرانی اور معلومات کا تحفظ بھی ضروری ہے ۔کرپشن ایک سماجی اور معاشی عارضہ ہے جو معاشرتی اقدار اور قومی تشخص کو متاثر کرتا ہے ۔ جب بدعنوانی معمول کا حصہ بن جائے تو دیانت داری، اصول پسندی اور قانون کی پاسداری اپنی اہمیت کھونے لگتی ہے ۔ اس کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں کو نئی نسل میں دیانت داری، قانون پسندی اور قومی ذمہ داری کا شعور اجاگر کرنا ہوگا۔ بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ رشوت لینا اور دینا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، ٹیکس چوری کرنا اور دوسروں کا حق مارنا بدعنوانی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اخلاقی تربیت اور مؤثر قانون سازی ساتھ ساتھ چلیں تو اس جدوجہد کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے ۔ عوام کا کردار بھی اس جدوجہد میں اہم ہے ۔ شہریوں کو رشوت دینے سے گریز، بدعنوانی کی مستند شکایات
متعلقہ اداروں تک پہنچانے ، ووٹ کے ذریعے دیانت دار نمائندوں کا انتخاب کرنے اور سرکاری وسائل کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے ۔ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ بدعنوانی صرف سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ ہر شہری کے حقوق اور بہتر زندگی کے امکانات بھی متاثر کرتی ہے ۔

پاکستان کی معاشی بحالی اور ترقی کے لیے کرپشن کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنانا ناگزیر ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ احتسابی اداروں کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد اور خود مختار بنائے ، مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل کرے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں سے قانون کے مطابق وصولیاں یقینی بنائے ۔ سرکاری محکموں میں میرٹ، شفافیت اور جواب دہی کو فروغ دینے کے ساتھ ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو بدعنوانی کے امکانات کو ابتدا ہی میں محدود کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے غیر مؤثر استعمال، بدانتظامی اور بدعنوانی جیسے مسائل سے دوچار ہے ۔ دلاور فگار نے اپنے طنزیہ اشعار میں رشوت اور بدعنوانی کے فرسودہ نظام پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے جو آج بھی ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

حاکم رشوت ستاں فکر گرفتاری نہ کر
کر رہائی کی کوئی آسان صورت چھوٹ جا
میں بتاؤں تجھ کو تدبیر رہائی مجھ سے پوچھ
لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں