سندھ بلڈنگ، لیاقت آبادمیں بلند عمارتوں کے سائے تلے گنجان آبادی
شیئر کریں
پلاٹ نمبر 3/432 اور 4/794 پر پرانی عمارتوں میں اضافی منزلیں تعمیر
قمر قائم خانی، ضیاء کالا کا گٹھ جوڑ، ٹھیکداروں کو رعایت، مکینوں کو خطرات لاحق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں پرانی اور کمزور عمارتوں پر مبینہ طور پر اضافی منزلوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہنے سے مکینوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پلاٹ نمبر 3/432 اور 4/794 پر موجود پرانی عمارتوں میں اضافی تعمیرات کی جا رہی ہیں، جس سے عمارتوں کی ساخت اور رہائشیوں کی سلامتی کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گنجان آبادی اور انتہائی تنگ گلیوں کے باعث کسی بھی حادثے یا عمارت کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کو رسائی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اضافی منزلوں کی تعمیر سے قبل عمارتوں کی ساخت، بنیادوں اور منظور شدہ نقشوں کی مکمل جانچ کی جائے۔
دوسری جانب اسسٹنٹ ڈائریکٹر قمر قائم خانی اور ضیاء کالا کے مبینہ گٹھ جوڑ کے ذریعے خلافِ ضابطہ تعمیرات میں بعض ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر رعایت فراہم کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
شہری حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت ملے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد میں پہلے ہی آبادی کا دباؤ، پارکنگ اور تنگ راستوں کے مسائل موجود ہیں، ایسے میں پرانی عمارتوں پر غیرمجاز اضافی منزلوں کی تعمیر شہری مسائل میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔
شہریوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 3/432 اور 4/794 سمیت علاقے کی مشتبہ عمارتوں کا فوری سروے کرایا جائے ، تعمیراتی اجازت ناموں اور نقشوں کی جانچ کی جائے اور خلافِ ضابطہ تعمیرات ثابت ہونے پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
متاثرہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ کسی ممکنہ حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے حفاظتی اقدامات فوری طور پر یقینی بنائے جائیں۔


