میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایک ہی جائیداد کی دو لیزیں، سندھ ہائی کورٹ کے کے ایم سی کے لینڈ نظام پر سوالات

ایک ہی جائیداد کی دو لیزیں، سندھ ہائی کورٹ کے کے ایم سی کے لینڈ نظام پر سوالات

جرات ڈیسک
اتوار, ۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈبل لیز کے اعتراف پر عدالت برہم، میونسپل کمشنر 7 اکتوبر کو طلب؛ لینڈ ریکارڈ، نگرانی اور شفافیت کا نظام کٹہرے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں ایک ہی جائیداد کی دو الگ الگ لیزیں جاری اور رجسٹرڈ ہونے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا، جہاں دورانِ سماعت ادارے کے لیزنگ اور لینڈ ریکارڈ نظام کی شفافیت اور مثریت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔

سندھ ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ اگر کے ایم سی کے پاس جائیدادوں کے ریکارڈ کی جانچ اور نگرانی کا مثر نظام موجود ہے تو ایک ہی جائیداد کے لیے دو مختلف لیزیں کس طرح جاری اور رجسٹرڈ ہو گئیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر کے ایم سی میں لیزنگ کا شفاف اور مربوط نظام موجود نہیں، جس کے باعث شہری اپنے حقوق اور جائیدادوں کے تحفظ کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔

دورانِ سماعت کے ایم سی کے متعلقہ افسر کی جانب سے ایک ہی جائیداد کی دو الگ لیزیں جاری اور رجسٹرڈ ہونے کا اعتراف بھی سامنے آیا، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے میونسپل کمشنر کے ایم سی کو 7 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ادارے کے لیزنگ نظام، ریکارڈ کی جانچ اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق مکمل وضاحت پیش کی جائے۔

اس کیس نے متعدد اہم سوالات کو جنم دیا ہے، جن میں یہ شامل ہے کہ دوسری لیز جاری کرنے سے قبل سابقہ ریکارڈ کی تصدیق کیوں نہیں کی گئی، رجسٹریشن کے مراحل میں تضاد کیوں سامنے نہ آیا اور ڈبل لیز کے عمل سے ممکنہ فائدہ کس کو پہنچا۔

قانونی اور انتظامی حلقوں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک جائیداد تک محدود نہیں بلکہ پورے لینڈ ریکارڈ اور لیزنگ سسٹم کی کارکردگی اور شفافیت کا امتحان بن چکا ہے۔

کے ایم سی کے لینڈ معاملات ماضی میں بھی مختلف تحقیقات اور تنازعات کا حصہ رہے ہیں۔ نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں کی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آنے والے اس نئے معاملے نے ادارے کے اندرونی احتساب، نگرانی اور ریکارڈ مینجمنٹ کے نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مبصرین کے مطابق موجودہ تنازع نے اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، قابلِ تصدیق اور مربوط بنایا جائے تاکہ ایک ہی جائیداد پر دوبارہ لیز، منتقلی یا دیگر دستاویزات کے اجرا کا امکان ختم ہو سکے۔

اب تمام نظریں 7 اکتوبر کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں میونسپل کمشنر کی وضاحت اور عدالت کے ریمارکس اس اہم معاملے کی آئندہ سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ ڈبل لیز کا یہ کیس محض ایک جائیداد کا تنازع نہیں بلکہ کے ایم سی کے پورے لینڈ مینجمنٹ نظام کی ساکھ اور شفافیت کا امتحان بن چکا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں