سندھ بلڈنگ، بوسیدہ عمارتوں کی چھتوں پر غیر قانونی تعمیرات
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 5-E، پلاٹ نمبر 9 پر منہدم کی گئی چھٹی منزل کی تعمیر دوبارہ شروع
اسسٹنٹ ڈائریکٹر زبیر مرتضیٰ پرمبینہ چشم پوشی کے الزامات ، شواہد زمین پر موجود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر کے مختلف علاقوں میں بوسیدہ اور قدیم عمارتوں کی چھتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر کا رجحان شہریوں کے لیے باعثِ تشویش بننے لگا ہے۔ خصوصاً ناظم آباد نمبر 5-E کے پلاٹ نمبر 9 پر واقع خستہ حال عمارت میں مبینہ طور پر چھٹی منزل کی تعمیر دوبارہ شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ عمارت پر چھٹی منزل کی تعمیر کا کام پہلے بھی جاری تھا، جس کے خلاف متعلقہ اتھارٹی کے عملے نے کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیر شدہ حصے کو منہدم کر دیا تھا، تاہم حیران کن طور پر انہدامی کارروائی کے باوجود مبینہ طور پر تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب متعلقہ ادارے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب انہدام کے بعد اسی مقام پر دوبارہ تعمیرات شروع ہونا انتظامی نگرانی کے مؤثر ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔
شہریوں کے مطابق پہلے سے مخدوش عمارت پر اضافی منزل کی تعمیر کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے ۔ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض خلافِ قانون تعمیرات کے خلاف کارروائی میں مبینہ غفلت اور چشم پوشی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
اس ضمن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر زبیر مرتضیٰ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور غیر قانونی تعمیرات کے شواہد زمین پر موجود ہیں ۔تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی متعلقہ افسر کا مؤقف تاحال سامنے آیا ہے۔
شہری حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 9 ناظم آباد نمبر 5-E پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، عمارت کا تکنیکی و ساختی معائنہ کرایا جائے اور تعمیراتی اجازت ناموں کی جانچ پڑتال کی جائے۔
خلافِ ضابطہ تعمیرات کی تصدیق ہونے پر ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے قبل انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


