کوئی بھی شخص ڈرگز ایکٹ کی دفعہ 23(1) سی کے تحت لائسنس کے بغیر دوا فروخت نہیں کرسکتا، وفاقی آئینی عدالت
شیئر کریں
پیشہ یا کاروبار کرنے کا حق قانون کے تحت مقرر کردہ شرائط کے تابع ہے،
عوامی صحت سے متعلق ادویات کے شعبے میں لائسنسنگ نظام آئینی طور پر جائز ہے
پشاور ہائیکورٹ کے ڈی آئی خان بینچ کا 5جون 2023کا حکم کالعدم قرار ،فیصلہ جاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ ڈاکٹر اپنے مریض کو دوا تجویز کرنے کے ساتھ اسے فراہم بھی کرسکتا ہے، تاہم وہ ڈرگز ایکٹ 1976کے تحت مطلوبہ لائسنس کے بغیر میڈیکل سٹور یا ریٹیل ڈرگ آٹ لیٹ نہیں چلا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے ڈی آئی خان بینچ کا 5جون 2023کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے جاری کیا۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کے خلاف میڈیکل سٹورز اور ڈسپنسریاں چلانے کے الزام میں کی جانے والی ضابطہ کار کارروائی روک دی تھی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے 2رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے سیکرٹری کی جانب سے دائر اپیل پر فیصلہ سنایا۔
مقدمے کے فریقین میں ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت سمیت بعض رجسٹرڈ ڈاکٹر شامل تھے، جن کے کلینیکل مراکز میں ڈسپنسریاں اور میڈیکل سٹورز قائم پائے گئے تھے۔
ان پر الزام تھا کہ وہ مطلوبہ ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر ادویات ذخیرہ اور فروخت کررہے تھے۔21جنوری 2020کو متعلقہ حکام نے ان مراکز کا معائنہ کیا اور ادویات قبضے میں لینے کے بعد فارم6-جاری کیا، جبکہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔
متاثرہ ڈاکٹروں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ضابطہ کار کارروائی کے خلاف حکم جاری کردیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے 9صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ میڈیکل ریگولیٹری ادارے میں ڈاکٹر کی رجسٹریشن اور فارمیسی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے قانونی مقاصد مختلف ہیں۔
عدالت کے مطابق ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹریشن اسے ڈرگز ایکٹ کے تحت لائسنس حاصل کرنے کی شرط سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 کی دفعہ 31(4)(a) رجسٹرڈ ڈاکٹر کو صرف اپنے مریض کو دوا دینے یا اپنا نسخہ خود پورا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
اس شق کو میڈیکل اسٹور قائم کرنے یا ادویات کی تجارتی بنیادوں پر فروخت کا اختیار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ڈرگز ایکٹ کی دفعہ 23(1)(c) کے تحت کوئی بھی شخص لائسنس کے بغیر دوا فروخت نہیں کرسکتا اور قانون میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کے لییاس حوالے سے کوئی خصوصی استثنیٰ موجود نہیں۔
ایف سی سی نے ڈرگ انسپکٹر کی کارروائی کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرگز ایکٹ کی دفعات 17اور 18کے تحت انسپکٹرز کو معائنہ، ادویات کے نمونے لینے، تلاشی اور ادویات قبضے میں لینے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 18کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ یا کاروبار کرنے کا حق قانون کے تحت مقرر کردہ شرائط کے تابع ہے اور عوامی صحت سے متعلق ادویات کے شعبے میں لائسنسنگ نظام آئینی طور پر جائز ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ شوکاز نوٹس کے مرحلے پر ہائیکورٹ کی جانب سے آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنا قبل از وقت تھا، لہٰذا ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر معاملہ متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت نمٹانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔


