مکہ مکرمہ ریڈ لائن
شیئر کریں
مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت، عبادت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے ۔ خانہ کعبہ اور مسجد الحرام کی نسبت سے مکہ مکرمہ کو اسلام میں وہ مقام حاصل ہے جس سے اربوں مسلمانوں کے جذبات وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقدس شہر کی طرف کسی بھی میزائل، ڈرون یا فوجی خطرے کو محض سعودی عرب کی سلامتی کا مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حرمین شریفین کی حفاظت پوری مسلم دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ ستمبر 2026 میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک تازہ یاد دہانی ہے ۔
16 ؍ستمبر 2026 کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ سعودی فضائی دفاع نے 15؍ستمبر کی شام مکہ مکرمہ کے جنوبی علاقے میں ایک ڈرون کو اس وقت روک کر تباہ کر دیا جب وہ مقدس شہر کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے والا تھا۔ سعودی اتحاد نے ڈرون کو حوثیوں کی جانب سے داغا گیا قرار دیا، تاہم حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی۔سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کو ‘‘ریڈ لائن’’ قرار دیا اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کا عندیہ دیا۔ دوسری طرف حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری سے انکار کیا۔ اس لیے اس واقعے کی ذمہ داری کے معاملے میں فریقین کے متضاد مؤقف کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ، تاہم مکہ کے قریب کسی بھی عسکری خطرے کی حساسیت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مکہ مکرمہ میں سال بھر دنیا کے مختلف ممالک سے مسلمان حج اور عمرے کے لیے آتے ہیں۔ حج اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے جبکہ عمرہ بھی لاکھوں مسلمانوں کو ہر سال حرمین شریفین کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ چنانچہ مقدس مقامات کے قریب کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی صرف ایک جغرافیائی علاقے کو متاثر نہیں کرتی بلکہ زائرین کی سلامتی، مذہبی سرگرمیوں اور عالمی مسلم جذبات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے ۔
حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال نمایاں کر دیا ہے کہ بدلتے ہوئے علاقائی سکیورٹی ماحول میں حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے ۔ جدید جنگ میں ڈرون اور میزائل نسبتاً کم لاگت کے ایسے ہتھیار بن چکے ہیں جن سے دور بیٹھا فریق بھی حساس اہداف کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔ اس صورت حال میں صرف روایتی دفاعی نظام کافی نہیں رہتا بلکہ جدید فضائی دفاع، بروقت اطلاعات، انٹیلی جنس تعاون، نگرانی کے مؤثر نظام اور اتحادی ممالک کے درمیان فوری رابطہ بھی ضروری ہو جاتا ہے ۔
اسی پس منظر میں 7اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے ۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے ، کسی ملک کے خلاف نہیں، اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت اور روک تھام کو مضبوط کرنا ہے ۔ معاہدے کے تحت ایک ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول بھی شامل ہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں دفاعی اتحاد کا تعلق علاقائی امن سے براہ راست جڑتا ہے ۔ مضبوط دفاع صرف جنگ لڑنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ جارحیت کو روکنے کے لیے بھی ہوتا ہے ۔ جب تین ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں، تجربات اور وسائل کو باہمی تعاون کے ذریعے مربوط کرتے ہیں تو ممکنہ جارحیت کے مقابلے میں اجتماعی روک تھام کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔ یہی اجتماعی دفاع علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک اہم ستون بن سکتا ہے ۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے 31 اگست 2026 کو استنبول میں ہونے والے پہلے اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ اس پہلو کو مزید واضح کرتا ہے ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے کے دائرے میں تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے ، اجتماعی دفاعی صلاحیت اور روک تھام کی ساکھ مضبوط کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اعلامیے میں تینوں ممالک نے کشیدگی میں کمی، تحمل اور بحرانوں کے پرامن حل کی کوششوں کی حمایت بھی کی۔اس کا مطلب واضح ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کی بنیاد صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ دفاع کے ذریعے امن، اجتماعی روک تھام کے ذریعے استحکام اور سفارت کاری کے ذریعے بحرانوں کے حل پر رکھی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس اتحاد کو صرف فوجی معاہدہ سمجھنا اس کے وسیع تر مقصد کو محدود کر دینا ہوگا۔ تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کے ساتھ دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی، تربیت اور مسلح افواج کے باہمی تعاون کو بھی مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔
پاکستان کے لیے حرمین شریفین کی سلامتی کا معاملہ مذہبی جذبات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کا بھی حصہ ہے ۔ پاکستان نے حالیہ مکہ واقعے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔ دوسری طرف ترکیہ بھی مکہ معاہدے کا فریق ہے ۔ اس طرح پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون اب ایک باقاعدہ مشترکہ فریم ورک کی شکل اختیار کر رہا ہے ۔تاہم علاقائی امن کے لیے دفاعی طاقت کے ساتھ سفارت کاری بھی ضروری ہے ۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ ایک تنازعہ بیک وقت کئی ممالک، سمندری راستوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے ۔ یمن، بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورتحال اس کی واضح مثال ہے ۔ اگر کسی ایک محاذ پر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات دوسرے علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے اجتماعی دفاع کے ساتھ بحرانوں کو ابتدا ہی میں سفارتی طریقوں سے محدود کرنا بھی ضروری ہے ۔
مکہ مکرمہ کو کسی بھی فوجی تنازع کا حصہ بننے سے محفوظ رکھنا عالمی مسلم برادری کی مشترکہ تشویش ہے ۔ سعودی عرب پر یہ بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین اور زائرین کی حفاظت کے لیے مؤثر دفاعی اقدامات کرے ، جبکہ مسلم ممالک اپنے اپنے دائرے میں تعاون اور سفارتی حمایت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مکہ دفاعی معاہدہ ایک ایسے مشترکہ سکیورٹی تصور کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں
سعودی عرب کی سلامتی، پاکستان اور ترکیہ کی دفاعی شراکت اور علاقائی امن ایک دوسرے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔
مکہ کے قریب حالیہ ڈرون واقعے نے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ مقدس مقامات کی سلامتی کے لیے کسی خطرے کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ جدید ٹیکنالوجی نے جنگ کے طریقے بدل دیے ہیں اور ڈرون جیسے ہتھیار نے دفاعی نظام کے لیے نئے چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں بروقت نگرانی، فضائی دفاع، مشترکہ اطلاعات اور فوری فیصلہ سازی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
آج مسلم دنیا کو جذبات کے ساتھ ساتھ عملی سکیورٹی تعاون کی بھی ضرورت ہے ۔ حرمین شریفین کی حفاظت صرف ایک ملک کی ذمہ داری قرار دے کر باقی دنیا لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح دفاعی اتحاد کا مقصد بھی جنگ کو بڑھانا نہیں بلکہ جارحیت کو روکنا، شہریوں اور زائرین کو محفوظ رکھنا اور امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے ۔
مکہ مکرمہ پر کسی بھی مزید حملے یا خطرے کو ریڈ لائن سمجھنے کا مطلب یہی ہے کہ مقدس مقامات کو علاقائی جنگوں اور عسکری کشمکش سے محفوظ رکھا جائے ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی اجتماعی سوچ کو دفاعی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ اگر اس معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی صلاحیت، معلوماتی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، سفارتی رابطے اور بحران سے نمٹنے کے مؤثر نظام کو مزید مضبوط کیا جاتا ہے تو یہ تعاون صرف تینوں ممالک کی سلامتی ہی نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کا اہم ضامن بھی بن سکتا ہے ۔
حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ۔ مکہ مکرمہ امن، عبادت اور مسلم وحدت کی علامت ہے ۔ اس کی طرف اٹھنے والا ہر خطرہ پوری مسلم دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دفاعی طاقت کو امن کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے ، اجتماعی دفاع کو جارحیت کی روک تھام کا ذریعہ بنایا جائے اور سفارت کاری کے ذریعے خطے کو مزید جنگوں سے بچایا جائے ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے مکہ مکرمہ محفوظ، حرمین شریفین پُرامن اور خطہ زیادہ مستحکم رہ سکتا ہے ۔
٭٭٭


