خنزیر کے گوشت پر کشمیریوں کا احتجاج
شیئر کریں
بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں مختلف دینی جماعتوں کے اتحاد ”متحدہ مجلسِ علماء ”( ایم ایم یو) نے علاقے میں آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارم” بلنک اٹ” پر خنزیر کے گوشت سے تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کے حوالے سے شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلس علماء نے ایک بیان میں کہا کہ عوام کی جانب سے شیئر کیے گئے اسکرین شاٹس اس کے نوٹس میں لائے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بلنک اٹ کی جانب سے کشمیر میں خنزیر کے گوشت کی مصنوعات فروخت کے لیے درج کی گئی ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اسلام میں خنزیر کا گوشت نہ صرف حرام ہے بلکہ اس کی خرید و فروخت اور استعمال کے حوالے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات نہایت حساس ہیں۔لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس طرح ایسی مصنوعات کو کشمیر کی مارکیٹ میں فروخت کے لیے لانے کی اجازت دی گئی؟ اس معاملے کی متعلقہ حکام کی جانب سے سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں سخت تنبیہ کی جانی چاہیے۔
مجلس نے بلنک اٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر خنزیر کے گوشت سے متعلق تمام مصنوعات اپنے اسٹاک اور فروخت کی فہرست سے ہٹائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ کشمیر میں نہ ایسی مصنوعات ذخیرہ کی جائیں گی نہ ان کی تشہیر کی جائے گی اور نہ ہی انہیں فروخت کیا جائے گا۔ کشمیر میں کاروبار کرنے والی تمام کمپنیوں اور تجارتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ خطے کی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی حساسیت کا مکمل احترام کریں اور اپنی کاروباری سرگرمیوں میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی فورم نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک اہم سماجی اور اقتصادی مسئلہ قرار دیا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ ہزاروں پڑھے لکھے، ہنر مند اور قابل نوجوان مرد اور خواتین محدود سرکاری ملازمتوں کے مواقع کے انتظار میں اپنی زندگی کے سب سے قیمتی سال ضائع کررہے ہیں۔ اگرچہ سرکاری بھرتی اہم ہے لیکن یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جذب نہیں کر سکتی۔ یہ ذہنیت کہ سرکاری ملازمت ہی وقار، استحکام اور سماجی احترام کا واحد ذریعہ ہے، بدلنی چاہیے۔ نجی ملازمت، صنعت کاری، زراعت، باغبانی، سیاحت، دستکاری، ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، ہنر مند تجارت اور چھوٹے کاروبار یکساں طورپر باوقار اور پائیدار ذریعہ معاش فراہم کر سکتے ہیں۔نوجوانوں کو نئی مہارتیں اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور آن لائن خدمات جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ کیرئیر کونسلنگ کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بننا چاہیے اوراسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور کمیونٹی اداروں کو نوجوانوں میں روزگار کے رجحانات کو تبدیل کرنے کے بارے میں رہنمائی کرنی چاہیے اور انہیں حقیقی کیریئر کے انتخاب میں مدد کرنی چاہیے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کو ہنر اور کاروبار کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کریں نہ کہ صرف سرکاری ملازمتوں کے حصول کی ترغیب دیں۔ فورم اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک سیمینار منعقد کرے گا۔ بے روزگاری کے سنگین نتائج ہیں جن میں تاخیر سے شادیاں، مایوسی اور بڑھتے ہوئے سماجی مسائل شامل ہیں۔یہ نقصان محض معاشی نہیں بلکہ یہ انسانی صلاحیت کا نقصان ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ، ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں ہیں۔ انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ مناسب رہنمائی، ہنر مندی کی نشوونما، مواقع اور کام کے تئیں سماجی رویہ میں تبدیلی ہے۔ انتظار میں گزارا جانے والا ہر سال ایک ایسا سال ہے جس کی واپسی نہیں ہو سکتی۔ انتظار کبھی بھی کیریئر نہیں بننا چاہیے۔ جموں و کشمیر کا مستقبل کافی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ نوجوان نسل کی توانائی اور صلاحیت کو کس حد تک مؤثر طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔
ساوتھ ایشیا جسٹس کمپین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ 2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران بھارت میں کم از کم 44 مسلمانوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 19 افراد ریاستی عناصر اور 25 افرادہندو انتہا پسندوں کے حملوں میں مارے گئے۔ جب سے انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر نے 2022 میں اس طرح کی ہلاکتوں کو دستاویزی شکل دینا کرنا شروع کیا ہے ، 2026 کو مسلم مخالف تشدد کے حوالے سے مہلک ترین سالوں میں سے ایک قرار دیا گیاہے۔ انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر نے مسلسل تشدد ، من مانی گرفتاریوں، پولیس کے جارحانہ رویے اورمسلمانوں کے مذہبی مقامات کومسمار کرنے کے متعدد واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔
جنوری سے اپریل 2026 کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں خاص طور پر اتر پردیش، آسام اور مقبوضہ جموں و کشمیرمیں ریاستی عناصر سنگین زیادتیوں کے مرتکب ہوئیہیں۔ جنوری سے جولائی تک ہونے والی 44 ہلاکتوں میں سے 19 اموات ریاستی کارروائیوں جیسے جعلی پولیس مقابلوں یا دوران حراست ہوئیں اور 25 اموات غیر ریاستی عناصر یعنی مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم سے ہوئیں۔ صرف مئی اور جولائی 2026 کے درمیان 25 مسلمان مارے گئے جن میں ایک 11 سالہ لڑکی اور ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ ان میں سے 15 افراد ریاستی عناصر اور 10 افرادہندو انتہا پسندوں خاص طور پر بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل، وی ایچ پی اور دیگر ہم خیال گروپوں کے ہاتھوں مارے گئے۔سب سے زیادہ اموات اتر پردیش سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ریاستوں میں پولیس کارروائیوں اوردوران حراست ہوئیں۔
٭٭٭


