میر رضا قتل کیس: بزنس پارٹنر احمد سے جوڈیشل کمیشن کی پوچھ گچھ، ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس
شیئر کریں
بزنس پارٹنر نے میر رضا سے دیرینہ تعلق اور واقعے کے روز کی سرگرمیوں سے کمیشن کو آگاہ کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس کراچی میں ہوا، جس میں مقتول کے بزنس پارٹنر احمد سے تفصیلی سوال و جواب کیے گئے، جبکہ گزشتہ سماعت کے موقع پر صحافیوں سے مبینہ بدتمیزی کے معاملے پر کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب طلب کرلیا۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران صحافیوں سے بدتمیزی کی شکایت سامنے آنے پر ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ کمیشن نے انہیں ہدایت کی کہ وہ سات روز کے اندر اپنا جواب جمع کرائیں۔
اجلاس میں میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔ کمیشن کے سامنے پیش ہوکر احمد نے بتایا کہ وہ اور میر رضا پہلی جماعت سے ایک ساتھ پڑھتے تھے، بعد ازاں کالج میں بھی ساتھ تعلیم حاصل کی اور 2020ئ میں دونوں نے مل کر کاروبار شروع کیا۔
کاروبار سے متعلق سوال پر احمد نے بتایا کہ ان کی دو برانچیں تھیں اور کاروبار اچھا چل رہا تھا، جبکہ دونوں کاروبار سے ماہانہ پانچ، پانچ ہزار روپے لیتے تھے۔ احمد نے بتایا کہ واقعے کے روز 28 جولائی کو صبح 8 بجے وہ میر رضا کے گھر گئے تھے۔ وہاں موجود افراد سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کررہے تھے اور وہ بھی اس عمل میں شریک ہوگئے۔
ان کے مطابق میر رضا کے کمرے میں ان کے بھائی، رازق، حیثم، مقتول کی بہن اور والدہ بھی موجود تھیں۔ احمد نے بتایا کہ میر رضا عموماً گھر کی چابی اپنے پاس رکھتے تھے تاکہ والدہ کو کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو، تاہم واقعے کے روز ان کا تمام سامان گھر میں موجود تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سگریٹ کے پیکٹ میں چرس موجود تھی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ وہ سگریٹ کے پیکٹ میں موجود چیز کا ذکر کیوں کررہے ہیں اور کیا وہ خود بھی سگریٹ نوشی کرتے ہیں؟ احمد نے جواب دیا کہ وہ سگریٹ نہیں پیتے اور کمیشن کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرکے خود کو کلیئر کرنے کے لیے یہ تفصیل بتا رہے ہیں۔
کمرے کی تلاشی کے حوالے سے سوال پر احمد نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کی والدہ سے کمرہ دیکھنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ مقتول کے ساتھ ان کا تعلق بہت گہرا تھا۔ کاروباری دستاویزات کے بارے میں احمد نے بتایا کہ 2023ء تک سیل ڈیڈ میر رضا کے پاس تھی، تاہم 2024ء میں سندھ ریونیو بورڈ کے نوٹس کے بعد سے سیل ڈیڈ ان کے پاس تھی۔
ایپل واچ سے متعلق احمد نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے کمرے میں گھڑی دیکھی تھی، جس کے بعد سب نیچے آگئے۔ بعد ازاں علیشبہ نے ایپل واچ کو چارج پر لگایا اور اسے کھولنے کے بعد بتایا کہ اس میں کچھ نوٹس موجود ہیں۔
احمد کے مطابق انہوں نے علیشبہ کو خود فون نہیں کیا تھا اور نہ ہی اسے ایپل واچ کھولنے کا کہا تھا، بلکہ رازق نے اس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ واچ کھولی جائے، شاید اس میں سے کوئی اہم چیز مل جائے۔ احمد نے بتایا کہ وہ اس دوران اپنے دوست کو لینے چلے گئے تھے اور واپسی پر ان کے بھائی نے بتایا کہ علیشبہ کو ایپل واچ سے نوٹس ملے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے میر رضا قتل کیس کی مزید تحقیقات اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔


