سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایچ ایس میں بلڈنگ قوانین نظرانداز
شیئر کریں
بلاک 2کے پلاٹ نمبر 67-Rاور 147-Fپر خلافِ ضابطہ کمرشل تعمیرات
ڈائریکٹر سمیع جملانی کی عدم توجہی سے غیر قانونی تعمیرات کو فروغ ملنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ای سی ایچ ایس میں مبینہ خلافِ ضابطہ تعمیرات نے رہائشیوں کے لیئے خطرے کی گھنٹی بجا دی،
بلاک 2 کے رہائشی پلاٹ نمبر 67-R اور 147-F پر مبینہ کمرشل تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث علاقہ مکینوں نے بلڈنگ بائی لاز اور منظور شدہ نقشوں کی
پابندی پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقے میں تعمیراتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے سے نہ صرف علاقے کی شہری ساخت متاثر ہورہی ہے بلکہ مستقبل میں بنیادی مسائل میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹس پر جاری تعمیرات کے حوالے سے علاقہ مکینوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر تعمیرات کی نوعیت، منظور شدہ نقشوں، کمرشل استعمال کی اجازت اور دیگر متعلقہ ضوابط کی مکمل جانچ نہ کی گئی تو رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔
مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ انتظامی سطح پر مؤثر نگرانی اور بروقت کارروائی کا فقدان تعمیراتی بے قاعدگیوں کے لیئے سازگار ماحول پیدا کررہا ہے۔ شہریوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جملانی کی مبینہ عدم توجہی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شکایات کا فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
شہری حلقوں کے مطابق رہائشی پلاٹس کے استعمال میں مبینہ تبدیلی اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیوں کے نتیجے میں پہلے ہی محدود پارکنگ، ٹریفک کے دباؤ، نکاسئ آب، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں پر اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ تعمیرات مکمل ہونے کے بعد ان مسائل کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے ۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی دباؤ یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہوکر ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے اور خلافِ ضابطہ تعمیر ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
علاقہ مکینوں نے مزید کہا کہ پی ای سی ایچ ایس جیسے گنجان رہائشی علاقے میں تعمیراتی قوانین پر عملدرآمد محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ہر تعمیراتی منصوبے کی نگرانی، منظور شدہ نقشے اور موقع پر ہونے والی تعمیرات کا تقابلی جائزہ لے تاکہ رہائشی علاقے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے سے محفوظ رہے۔
مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری انکوائری کراکے اس کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور تعمیرات کی قانونی حیثیت کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری و انتظامی ریکارڈ سے ہی ہوسکتی ہے ۔ڈائریکٹر سمیع جملانی کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


