حافظ نعیم الرحمن کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف تین ستمبر کو ہڑتال کا اعلان
شیئر کریں
عوام کو ریلیف نہ ملا تو دھرنوں کا جال بازاروں ، سڑکوں تک پھیل جائے گا
حکمرانوں کے پاس عوام کو لوٹنے کے علاوہ کوئی صلاحیت نہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے 3 ستمبر کو ملک گیر پرامن ہڑتال کا اعلان کردیا۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو احتجاج دھرنوں سے نکل کر بازاروں اور سڑکوں تک پھیلایا جائے گا، عوام کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔
حکمرانوں نے عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ ڈال کر بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے، اب ڈرامے بازی ختم کرکے لوگوں کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی وژن (Vision) ہے نہ صلاحیت، ان کا واحد وژن عوام کو لوٹنا ہے۔
لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اب صرف تین نہیں بلکہ ملک کے کئی شہروں میں بیک وقت دھرنے جاری ہیں۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ جدوجہد تیز کریں، کیونکہ حکمران عوام کے صبر کو آزما رہے ہیں۔ دھرنا کے شرکاء سے ڈپٹی سیکرٹری رسل خان بابر اور امیر لاہور ضیا الدین انصاری نی بھی خطاب کیا۔ لاہور ، پشاور ، کراچی میں جاری دھرنوں کے بارہویں روز بھی گرمی اور حبس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہوئی۔
امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر حیدرآباد، اندرون سندھ کے کئی مقامات پر، فیصل آباد اور جنوبی پنجاب میں بھی دھرنے اور احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے سانحہ پمز پر حکمرانوں کی نااہلی اور مہنگائی کی مجموعی صورتحال کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ 3 ستمبر کو تمام دکانیں بند رہیں گی۔ لوگ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرانے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔ ہڑتال کے دوران ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹے گا، تاہم حکومت کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
جماعت اسلامی کی تحریک صرف چند دھرنوں تک محدود نہیں، بلکہ آئی پی پیز، پٹرولیم لیوی اور آٹا مافیا کے خلاف عوامی جدوجہد ہے۔ مارکیٹوں میں دھرنے اور ریلیاں نکالی جائیں گی، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز کے ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں اور تاجروں کے لیے بجلی اور پٹرول کی قیمتیں کم کی جائیں۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے معاملے میں ریلیف ملا ہے اور اب بھی حکومت کو پٹرول پر عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے پمز ہسپتال کے سانحے کو حکمرانوں کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پھول جیسے بچے حکومتی ناکامی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ 14 بچوں کی اموات کرپشن اور نااہلی کے باعث ہوئیں اور سوال اٹھایا کہ حکومت ایک ہسپتال بھی مناسب طریقے سے نہیں چلا سکتی تو ملک کیسے چلائے گی۔
پمز میں حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور کیا ڈاکٹروں و پیرامیڈیکس کو ہنگامی صورتحال یا کسی آفت سے نمٹنے کی تربیت دی گئی؟ ملک میں کسی آفت سے نمٹنے کے لیے تربیت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے بعد پمز کی اپنی کمیٹی بنانا بھی معاملے کو دبانے کی کوشش ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پمز واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور صرف ایک افسر کی معطلی پر معاملہ ختم نہ کیا جائے۔
انہوں نے وزرا اور مشیروں سے استعفے دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران قومی مجرم بن چکے ہیں اور اب ڈرامے بازی ختم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کراچی میں نوزائیدہ بچوں میں ایڈز پھیلنے کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استعمال شدہ سرنجوں کا استعمال اور اس میں مبینہ کرپشن انتہائی تشویشناک ہے۔
صحت کے شعبے کی یہ صورتحال حکومتی نگرانی اور انتظامی نظام کی ناکامی ظاہر کرتی ہے۔ پی ڈی ایم حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم آپس میں نورا کشتی کرتے ہیں جبکہ عوام کو لسانیت اور مختلف نعروں کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔
پی ڈی ایم نے مل کر بانی پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی اور موجودہ حکمران فارم 47 کی پیداوار ہیں۔پنجاب حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، دوسری طرف بنیادی سہولیات عوام سے چھینی جا رہی ہیں۔
چند نمائشی اقدامات کے ذریعے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے 11 ہزار سرکاری سکولز فروخت کر دیے جبکہ بنیادی صحت کے مراکز بھی فروخت کیے گئے اور ان کا نام بدل کر ”مریم نواز کلینک” رکھ دیا گیا۔
صرف نمائشی منصوبوں اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان سب سے بڑا سرمایہ ہیں اور ملک میں آئی ٹی کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن نوجوانوں کو مطلوبہ آئی ٹی تعلیم اور مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے۔
اگر حکومت عوام کے لیے واقعی کچھ کرتی تو ملک میں ڈیٹا سینٹرز بن چکے ہوتے۔ توانائی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ضرورت سے تین گنا زیادہ بجلی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود عوام مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔
آئی پی پیز کو عوام کے پیسوں سے ہزاروں ارب روپے ادا کیے جا رہے ہیں، جس کا بوجھ بجلی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں اور خواتین کے خلاف جرائم کی متعدد شکایات رپورٹ ہی نہیں ہوتیں۔ حکومت عوام کو بنیادی تعلیم اور حقوق سے محروم کرکے ذہنی طور پر غلام بنا رہی ہے، جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبوں میں بھی کرپشن کے الزامات موجود ہیں۔
مسلم لیگ ن عوام کے پیسوں سے اپنے اشتہارات چلواتی ہے، جبکہ عوام ان حکمرانوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے نوجوان تحریک اور نظریے سے وابستہ ہیں اور دھرنا 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرے، مگر حکمرانوں نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رکھا ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ لوگ بھیک ملنے پر بھی خوش ہونے لگے ہیں، جو حکمرانوں کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ قوم کو خیرات نہیں، تعلیم، روزگار، سستی بجلی، سستا پٹرول اور باعزت زندگی کے مواقع چاہئیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے تاجروں سے بھی اپیل کی کہ وہ 3 ستمبر کی پرامن ملک گیر ہڑتال میں عوام کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ کل جمعہ کو فیصل آباد میں تاریخی جلسہ عام ہوگا، جبکہ احتجاجی تحریک آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گی۔


