میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سیاسی و مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، مولانا فضل الرحمان

سیاسی و مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، مولانا فضل الرحمان

جرات ڈیسک
منگل, ۲۵ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے

قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں،

صوبوں کو توڑنے کی بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، بیان

آئین ٹوٹ گیا تو نئی آئین ساز اسمبلی بنانی پڑے گی، پھر انشار پھیلے گا جسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے،قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، صوبوں کو توڑنے کی بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ سیرت النبی ۖ کے اجتماعات سے انسانیت کیلئے رسول اللہ ۖ کے پیغام کو تازہ کیا جاتا ہے، قرآن کریم کے ساتھ حکمت کا ذکر ہے، حکمت سے مراد رسول اللہ ۖکی سنت بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ۖ کا ہر قول و فعل کتاب و سنت کا حصہ ہے، صحابہ کرامکی زندگی ہمارے لیے معیار ہے، انہیں حق نہ سمجھنے والا گمراہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق مکلف بنایا ہے، کامیابی یا ناکامی ہماری ذمہ داری نہیں، دین کے لیے محنت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ظلم و جبر کے مقابلے میں عدل و مساوات کا نظام رسول اللہ ۖکی تعلیم ہے۔ اہوںنے کہاکہ حکمرانوں کو اللہ اور رسول ۖ کے فیصلوں اور احکامات کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی دنیا قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ۖ پر گفتگو کافی نہیں، ہمیں رسول اللہ ۖ کے اخلاق، تعلیمات اور طرز حکمرانی کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ دینی مدارس کی تعلیم کو جرم بنانا قابلِ قبول نہیں، پاکستان میں اسلام اور اسلامی قانون سازی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے قانون سازی کرنا آئین اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی دفاع کے لیے مضبوط ادارے ضروری ہیں، لیکن ہر ادارے کے اختیار کی ایک آئینی حد اور دائرہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نظام میں اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن ضروری ہے،پارلیمنٹ میں ہماری آواز قوم تک نہیں پہنچنے دی جاتی۔ انہوں نے کہاکہ طاقت کی بنیاد پر کسی کو مسلط کرنا رسول اللہ ۖ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف 20 سال سے زائد عرصے سے آپریشنز کے باوجود مسئلہ بڑھ رہا ہے، حکمت عملی پر نظرثانی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرض بڑھتا جائے تو سمجھنا چاہیے کہ حکمت عملی میں کہیں نقص ہے، ریاست ماں ہے تو ماں اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، تقسیم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہاکہ قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، صوبوں کو توڑنے کی بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ صوبوں کے حقوق اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی نہیں ہونی چاہیے، آئین ختم ہوا تو ملک کو دوبارہ سمیٹنا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم ملکی خیرخواہی چاہتے ہیں، آئین اور پارلیمنٹ کو ان کے اصل راستے پر چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کے لیے موجود نظام کو درست سمت میں چلانا ہوگا، رسول اللہ ۖ کی سیرت کا تقاضا ہے کہ عدل، انصاف اور مساوات کے اصول اپنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم اب حلق کا کانٹا بنی ہوئی ہے،این ایف سی معاہدہ کے تحت وسائل صوبوں کے پاس جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین ٹوٹ گیا تو نئی آئین ساز اسمبلی بنانی پڑے گی،پھر انشار پھیلے گا جسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا،ہر ادارے کا اختیار متعین ہے۔انہوں نے کہا  کہ ،ریاست بھی ماں ہے، ماں تو سب کو جوڑتی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں کہتا ہوں کہ ریاست کو ماں بناو،قوم کو ایک بنائو۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے دفاع کو ہم ناگزیر سمجھے ہیں،تیس سال سے ملک میں دھشتگردی کے خلاف اپریشن چل رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دہشتگردی کم نہیں ہورہی ہے بلکہ بڑھ رہی ہے،اس کا مطلب ہماری حکمت عملی ناکام ہے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں جاتا چاہیے ،اس کے اثرات دفاقی اداروں پر پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیر خواہی یہ ہے کہ ہم کھل کر بات کریں،ہم پارلیمنٹ میں جو بات کرتے ہیں وہ عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ معلوم نہیں آج الیکٹرانک میڈیا ہماری آواز عوام تک پہنچا رہا ہوگا ؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں