میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہماری عادتوں کی کہانی

ہماری عادتوں کی کہانی

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہم برسوں سے ایک ہی سوال پوچھتے آئے ہیں،پاکستان کو کس نے نقصان پہنچایا؟جواب بھی تقریباً ہربارایک جیسا ہوتا ہے، کبھی دشمن کا نام لیا جاتا ہے ، کبھی سیاست دان کا، کبھی حکمران کا، کبھی نظام کا،کبھی فوج کا اورکبھی حالات کا۔۔مگرایک دن میں نے سوچا، اگر یہ سب لوگ
اپنی جگہ درست بھی ہوں تو پھر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے ۔ہم خود کہاں کھڑے ہیں؟ ہم قطارتوڑنے کو معمولی بات سمجھتے ہیں، ٹریفک سگنل توڑنے کو بہادری، سفارش کو حق، جھوٹ کو حکمت، ملاوٹ کو کاروباراورسرکاری چیزکو اپنا مال سمجھتے ہیں۔ہم بچے کو نصیحت کرتے ہیں کہ جھوٹ مت بولنا، پھراسی بچے کے سامنے فون پرکہتے ہیں،‘‘ کہہ دینا ابوگھر پرنہیں ہیں ’’۔ہم اسے ایمانداری کا سبق دیتے ہیں، مگرجب وہ بڑا ہوکر ایمانداری سے کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ہم خود اسے سمجھاتے ہیں ۔ ‘‘ بیٹا، دنیا اتنی سیدھی نہیں ہے ’’۔شاید یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں،قومیں صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بنتیں، چھوٹی چھوٹی عادتوں سے بنتی ہیں۔اورشاید ہم نے اپنی سب سے بڑی جنگ باہرنہیں، اپنے اندرہاری ہے ،ہمیں یقین ہے کہ اگر حکمران بدل جائیں تو سب بدل جائے گا، مگراگرحکمران بدل جائیں اورہم وہی رہیں؟ اگرکرسی پر بیٹھنے والا شخص بدل جائے ، لیکن کرسی کے نیچے کھڑا معاشرہ وہی رہے تو کیا واقعی ملک بدل سکتا ہے ؟ شاید اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں کون چلا رہا ہے ، اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود کس چیز کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ کہانی دشمنوں کی نہیں، یہ ہماری عادتوں کی کہانی ہے ۔ اورشاید اس کہانی کا سب سے خطرناک کردارکوئی دوسرانہیں ‘‘ ہم خود ہیں’’۔
ہماری ایک عجیب عادت ہے ،ہم ہرمسئلے کا ذمہ دارکوئی دوسرا شخص تلاش کرلیتے ہیں، مگراپنے حصے کی ذمہ داری سے ایسے بچتے ہیں جیسے وہ کوئی قرض ہو۔بجلی مہنگی ہے ؟ حکومت ذمہ دار۔ مہنگائی ہے ؟ حکومت ذمہ دار۔ سڑک پرٹریفک کا نظام خراب ہے ؟ حکومت ذمہ دار۔ ادارے کام نہیں کر رہے ؟ نظام خراب ہے ۔ اوراگرہم سے پوچھا جائے کہ آپ نے کیا کیا؟ تو جواب اکثریہی ہوتا ہے ‘‘ہم کیا کرسکتے ہیں’’؟ شاید یہی جملہ ہماری سب سے خطرناک عادت بن چکا ہے ، ہم نے اپنی بے بسی کو اپنی شناخت بنا لیا ہے ، ہمیں معلوم ہے کہ رشوت بری چیز ہے ، مگر کام جلدی ہو تو ہم راستہ نکال لیتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ سفارش غلط ہے ، مگراپنے آدمی کا کام ہو تو اصول اچانک یاد نہیں رہتے ، ہم کہتے ہیں ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے ، مگر جب قانون ہمارے خلاف آتا ہے تو سب سے پہلے ہم ہی اس سے بچنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں، یہ تضاد صرف سیاست میں نہیں، ہماری روزمرہ زندگی میں بھی موجود ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ہرشخص ایماندار ہو، بس ہم سے ایمانداری کی توقع نہ کی جائے ،ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ٹیکس دیں، قانون کی پابندی کریں، قطارمیں کھڑے ہوں، سڑک پر اصول مانیں اورجھوٹ نہ بولیں،مگراپنے لیے ہم نے ایک چھوٹا سا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ ‘‘ بس اس بارمجبوری ہے ’’۔۔۔۔اور یہی ‘‘اس بار ’’ کبھی ختم نہیں ہوتا،پھریہی چھوٹی چھوٹی رعایتیں ایک دن معاشرے کی بڑی بیماری بن جاتی ہیں،ایک شخص غلط پارکنگ کرتا ہے ،
دوسرا سگنل توڑتا ہے ، تیسرا سفارش کرواتا ہے ، چوتھا جھوٹ بولتا ہے ، پانچواں ٹیکس بچاتا ہے ،پھر سب شام کو بیٹھ کرکہتے ہیں۔۔۔ ‘‘ یہ ملک ٹھیک کیوں نہیں ہوتا’’؟ ملک شاید اسی لیے ٹھیک نہیں ہوتا کہ ہم اسے صرف دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتے ہیں، ہمیں لگتا ہے پاکستان کوئی الگ چیزہے ۔ اورہم اس سے الگ لوگ، حالانکہ پاکستان کوئی نقشے پربنی ہوئی لکیر نہیں۔ ‘‘ پاکستان ہم ہیں ’’۔ہماری عادتیں پاکستان کی عادتیں ہیں، ہماری دیانت پاکستان کی دیانت ہے ، ہماری بے ایمانی پاکستان کی بے ایمانی ہے ، اوراگرہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں توشاید ہمیں اگلی بار دشمن کا نام لینے سے پہلے ، اپنی ایک عادت کا نام لینا ہوگا۔
شاید ہمیں ایک دن کے لیے دشمنوں کو بھول جانا چاہیے ،نہ کسی سیاست دان کو الزام دیں، نہ کسی ادارے کو، نہ حالات کو،بس خاموشی سے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکرخود سے ایک سوال کریں، ’’ کیا میں بھی اس خرابی کا حصہ ہوں جس کی شکایت ہرروز کرتا ہوں؟ اگرجواب ہاں میں ہے تو تبدیلی کا آغازحکومت سے نہیں، ہم سے ہونا چاہیے ،کیونکہ قومیں صرف بڑے نعروں سے نہیں بدلتیں،ایک شخص جھوٹ چھوڑتا ہے ، دوسرا رشوت سے انکار کرتا ہے ، تیسرا قانون توڑنے سے رک جاتا ہے ، چوتھا اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے ۔اورپھر آہستہ آہستہ معاشرہ بدلنے لگتا ہے ،ہم دشمنوں کو شکست دینے کے خواب تو بہت دیکھتے رہے ،مگرشاید اصل فتح یہ ہوگی کہ ہم اپنی بری عادتوں کو شکست دے دیں،کیونکہ ہمیں شاید دشمنوں نے اتنا نہیں مارا،جتنا ہماری اپنی عادتوں نے مارا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں