پیکر ِ جمالِ مصطفی ﷺ
شیئر کریں
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم ترین نعمت ہیں جن کی آمد سے انسانیت کو ہدایت، رحمت، محبت اور اخلاقِ حسنہ کی
روشنی نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس محض ایک عظیم تاریخی شخصیت کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے
لیے کامل نمونہ ٔحیات ہے ۔ قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کو رحمۃً للعالمین قرار دیا اور آپ ﷺ کی زندگی کو اہلِ ایمان کے لیے بہترین اسوہ
بتایا۔ آپ ﷺ کے جمال کا ذکر صرف ظاہری حسن تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ کی شخصیت میں ظاہری خوب صورتی، باطنی پاکیزگی،
اخلاق کی بلندی، کردار کی عظمت، گفتگو کی شائستگی اور رحمت و شفقت کا ایسا حسین امتزاج موجود تھا جو اپنی مثال آپ ہے ۔ اسی لیے آپ
ﷺ کا ذکر آتا ہے تو دل محبت سے سرشار، زبان درود سے معطر اور روح عقیدت سے روشن ہوجاتی ہے ۔
حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ظاہری حسن بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے مثال نعمت تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے چہرۂ انور،
مسکراہٹ، چال، گفتگو اور اندازِ نشست و برخاست کو محبت اور عقیدت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نور سے منور اور
شخصیت نہایت باوقار تھی۔ حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چاندنی رات میں دیکھا تو کبھی آپ ﷺ
کے چہرۂ انور کو دیکھتے اور کبھی چاند کو؛ آخرکار انہیں محسوس ہوا کہ رسول اللہ ﷺ چاند سے بھی زیادہ حسین ہیں۔ یہ الفاظ محض ظاہری حسن کی
تعریف نہیں بلکہ اس نورانی کیفیت کا اظہار ہیں جو آپ ﷺ کی ذاتِ مبارک سے وابستہ تھی۔ آپ ﷺ کے چہرے پر وقار بھی تھا اور
شفقت بھی، جلال بھی تھا اور جمال بھی، ایسی کشش تھی کہ جو شخص ایک مرتبہ آپ ﷺ کی صحبت میں آتا، آپ ﷺ کی محبت اس کے دل میں
گھر کر جاتی۔
آپ ﷺ کا جمال صرف چہرۂ انور تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ ﷺ کی پوری شخصیت حسنِ اخلاق کا آئینہ تھی۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ
کے بارے میں فرمایا: "وَإِنَّکَ لَعَلَیٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ" یعنی بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔ یہی وہ مقام ہے
جہاں جمالِ مصطفیٰ ﷺ اپنی حقیقی معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے ۔ دنیا میں ظاہری خوب صورتی وقت کے ساتھ ماند پڑ سکتی ہے ، مگر حسنِ
کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق کا مظاہرہ کیا، کمزوروں کے ساتھ شفقت کی، یتیموں کے سر پر
دستِ شفقت رکھا، مسکینوں کی مدد فرمائی، غلاموں کے حقوق کی حفاظت کی اور عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے
انسان کو یہ سبق دیا کہ حقیقی خوب صورتی لباس، مال یا ظاہری شکل میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اور کردار کی بلندی میں ہے ۔
آپ ﷺ کی رحمت و شفقت جمالِ مصطفیٰ ﷺ کا ایک نہایت روشن پہلو ہے ۔ آپ ﷺ بچوں سے محبت فرماتے ، انہیں سلام کرتے
اور ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ۔ کسی بچے کو روتا دیکھتے تو اس کی تکلیف محسوس فرماتے ۔ نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو
نماز کو مختصر فرماتے تاکہ اس کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی اور بے زبان مخلوقات پر ظلم سے منع فرمایا۔
آپ ﷺ کی رحمت کسی خاص قوم، قبیلے یا طبقے تک محدود نہ تھی بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کو
تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فتح کے موقع پر بھی انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو اختیار کیا اور اپنے بدترین مخالفین کے
لیے بھی عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ اخلاقی عظمت آپ ﷺ کے جمالِ کردار کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کی گفتگو بھی حسن و جمال کا ایک منفرد نمونہ تھی۔ آپ ﷺ واضح، مختصر، بامعنی اور نرم انداز میں گفتگو فرماتے ۔ آپ ﷺ کی
زبان سے کبھی فحش، سخت اور بے مقصد الفاظ نہ نکلتے ۔ آپ ﷺ گفتگو کرنے والے کی طرف پوری توجہ فرماتے اور کسی شخص کو یہ احساس نہ
ہونے دیتے کہ وہ غیر اہم ہے ۔ آپ ﷺ مسکراتے ہوئے ملتے اور سلام کو عام فرماتے ۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی نرم گفتگو، سچائی،
امانت، صبر اور حسنِ معاشرت کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کا طرزِ گفتگو اس بات کی عملی مثال تھا کہ ایک انسان اپنی زبان کے ذریعے دلوں کو جوڑ
بھی سکتا ہے اور توڑ بھی سکتا ہے ۔ اس لیے آپ ﷺ نے زبان کی حفاظت کو ایمان اور اخلاق کا اہم حصہ قرار دیا۔
آپ ﷺ کی زندگی میں عاجزی اور انکساری بھی جمالِ مصطفیٰ ﷺ کا نمایاں پہلو تھی۔ آپ ﷺ اللہ کے محبوب اور آخری نبی ہونے کے
باوجود عام لوگوں کے ساتھ نہایت سادگی سے رہتے ۔ اپنے کام خود کر لیتے ، گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے ، صحابہؓ کے ساتھ بیٹھتے
اور مجلس میں کسی مخصوص شاہانہ انداز کا اہتمام نہ فرماتے ۔ اگر کوئی اجنبی شخص مجلس میں آتا تو اسے پہچاننے میں دشواری ہوتی کہ رسول اللہ
ﷺ کون ہیں، کیونکہ آپ ﷺ اپنے لیے امتیازی نشست یا شاہانہ طرز اختیار نہیں فرماتے تھے ۔ یہ عاجزی اس حقیقت کی عکاس تھی کہ حقیقی
عظمت انسان کو متکبر نہیں بلکہ مزید منکسر المزاج بناتی ہے ۔
رسول اکرم ﷺ کا جمالِ کردار مشکل ترین حالات میں بھی نمایاں رہا۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کو شدید مخالفت، طعن و تشنیع، معاشرتی بائیکاٹ اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپ ﷺ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ طائف کے واقعے میں جب آپ ﷺ کو شدید اذیت پہنچائی گئی تو بددعا کے بجائے ہدایت کی امید ظاہر فرمائی۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کے دلِ رحیم کی عظمت کو واضح کرتا ہے ۔ جس شخصیت کے پاس بددعا کرنے کا پورا اخلاقی جواز موجود تھا، اس نے بھی اپنے دشمنوں کے لیے ہدایت کی دعا کو ترجیح دی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی اخلاق اپنی بلند ترین سطح پر دکھائی دیتے ہیں۔
آپ ﷺ کی سیرت میں عدل و انصاف بھی جمالِ مصطفیٰ ﷺ کا بنیادی جزو ہے ۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ سابقہ قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہ طاقتور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا قانون اختیار کرتی تھیں۔ آپ ﷺ نے قانون اور انصاف کے معاملے میں کسی امتیاز کو قبول نہیں کیا۔ رنگ، نسل، خاندان، قبیلہ اور مال و دولت کی بنیاد پر انسان کی قدر متعین کرنے کے بجائے تقویٰ اور کردار کو اصل معیار قرار دیا۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس میں مختلف مذہبی اور سماجی گروہوں کے حقوق کا تعین کیا گیا اور باہمی ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا۔ یہ آپ ﷺ کی سیاسی بصیرت اور اجتماعی جمالِ کردار کی روشن مثال ہے ۔
آپ ﷺ کی عبادت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی آپ ﷺ کی شخصیت کے روحانی جمال کا عظیم مظہر تھا۔ راتوں کو قیام کرنا، اللہ تعالیٰ کے
حضور گریہ و زاری کرنا، شکر ادا کرنا اور ہر حال میں اللہ پر توکل کرنا آپ ﷺ کی زندگی کا حصہ تھا۔ آپ ﷺ نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ انسان
کی اصل عزت اس کے خالق سے تعلق میں ہے ۔ آپ ﷺ کی زندگی میں عبادت اور عمل، روحانیت اور معاشرت، محبت اور ذمہ داری،
عبادت اور خدمتِ خلق ایک دوسرے سے جدا نہ تھے ۔ آپ ﷺ مسجد میں بھی تھے ، گھر میں بھی، میدانِ جنگ میں بھی، بازار میں بھی اور
معاشرے کی اصلاح میں بھی۔ ہر مقام پر آپ ﷺ کا کردار ایک مکمل اور متوازن انسان کا نمونہ پیش کرتا تھا۔
آج کے دور میں جب انسان ظاہری حسن، شہرت، دولت اور نمود و نمائش کو کامیابی کا معیار سمجھنے لگا ہے ، جمالِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں حسن کا حقیقی مفہوم سمجھاتا ہے ۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ خوب صورت چہرے سے زیادہ خوب صورت کردار اہم ہے ، بلند منصب سے
زیادہ بلند اخلاق اہم ہیں، دولت سے زیادہ سخاوت اہم ہے اور طاقت سے زیادہ رحم و انصاف کی قدر ہے ۔ اگر ہم حقیقی معنوں میں عاشقِ رسول ﷺ ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی محبت کو صرف جذبات اور الفاظ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اپنی زندگی، اخلاق، معاملات، گفتگو اور معاشرت میں سنت ِنبوی ﷺ کی روشنی پیدا کرنی چاہیے ۔
پیکرِ جمالِ مصطفیٰ ﷺ کا تصور دراصل انسانیت کے لیے ایک مکمل اخلاقی اور روحانی پیغام ہے ۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں اللہ تعالیٰ
نے حسن، رحمت، حکمت، شجاعت، عفو، عدل، سخاوت، صبر، عاجزی اور محبت کو اس انداز میں جمع فرمایا کہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے
لیے آپ ﷺ بہترین نمونہ بن گئے ۔ آپ ﷺ کا ذکر دلوں کو سکون دیتا ہے ، آپ ﷺ کی سیرت زندگی کو سمت عطا کرتی ہے اور آپ ﷺ
کی سنت انسان کو انسانیت کا حقیقی شعور بخشتی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم درود و سلام کے ساتھ ساتھ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ کریں، آپ
ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اپنائیں اور اپنے کردار سے دنیا کو یہ پیغام دیں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ
زندگی کا عملی عہد ہے ۔ یہی پیکرِ جمالِ مصطفیٰ ﷺ سے حقیقی وابستگی اور آپ ﷺ کی محبت کا سب سے خوب صورت تقاضا ہے ۔
٭٭٭


