دہلی میں بدلتی دنیا کا اجلاس
شیئر کریں
اِس وقت دنیا ایک ایسے دورسے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست کے پُرانے پیمانے بدل چکے، ایک طرف اگر امریکہ اور اُس کے
اتحادی اپنی سیاسی،معاشی اور دفاعی برتری برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں تو چین ،روس اور اُبھرتی معیشتیں بھی ایک ایسے نئے عالمی نظام کی
تشکیل چاہتی ہیں جس میں طاقت کامرکز ایک نہ ہو یا صرف چند مغربی ممالک کے دارالحکومتوں تک محدودنہ رہے۔ دونوں طرف کی
کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں اِس کا فیصلہ تو مستقبل میں سامنے آئے گا لیکن دونوں طرف کوششیں عروج پر ہیں۔ ایسے بدلتے عالمی منظر
نامے میں دہلی میں ہونے والا برکس سربراہی اجلاس غیر معمولی اہم ہو گیا ہے ۔
2026 کے لیے برکس کی صدارت بھارت کے پاس ہے۔ آئندہ ماہ بارہ اور تیرہ ستمبرکے دوروزہ سربراہی اجلاس کی وہی میزبانی کرے گا۔دہلی برس برکس اجلاس کا موضوع لچک،جدت،تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر رکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ الفاظ اقتصادی اور ترقیاتی نوعیت کے لگتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی تبدیلیوں کے تناظرمیں یہ اجلاس محض معیشت تک محدودرہتا دکھائی نہیں دیتا، بلکہ عالمی محاذوں کا بھی جائز ہ لیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت کو برکس صدارت کے باوجودجس عالمی تنہائی کا سامنا ہے۔ اِس حوالے سے وہ کوشش کریگا کہ اجلاس میں شامل ممالک اُس کے ہم خیال نظرآئیں۔
برکس کاا بتدائی سفر خاصادلچسپ ہے ابتدامیں روس،برازیل،بھارت اور چین اِس تصور کا باعث بنے مگر جنوبی افریقہ کی شمولیت نے وسعت دی بعد میں مصر،ایتھوپیا،متحدہ عرب امارات،ایران،انڈونیشیا اور سعودی عرب سمیت مزید ممالک کی رُکنیت نے بڑی عالمی تنظیم بنادیارہ رُکنی ممالک کی یہ تنظیم آبادی اورمعیشت کے حوالہ سے اب غیر معمولی اہمیت اختیارکرچکی ہے ۔بڑھتی اہمیت کی وجہ عالمی معیشت میں طاقت کی منتقلی ہے۔ ترقی پذیر ممالک طویل عرصے سے عالمی مالیاتی اِداروں میں اپنے محدود اثر ورسوخ پر تحفظات کااظہار کرتے رہے ہیں برکس اِسی احساس کی اجتماعی شکل ہے۔ اِس کا بظاہر مقصد کسی ایک ملک کے خلاف محاذ بنانا ہر گز نہیں، بلکہ عالمی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو زیادہ موثر بناناتھا لیکن اب یہ تنظیم بڑی حد تک امریکہ مخالف محاذ میں بدل رہی ہے۔
دہلی اجلاس معاشی پہلو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ حالیہ دنوں میں برکس ممالک کے درمیان تیز رفتار ادائیگی کے نظام اور مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کو آپس میں مربوط کرنے کے امکانات پر گفتگو ہوچکی ۔اب اگر یہ تصور عملی شکل اختیار کرتا ہے تو مستقبل میں رُکن ممالک کے درمیان تجارت کے لیے ادائیگیوں کو آسان اور کم خرچ بنانے میں مددملے گی۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے تناظرمیں یہ بحث بہت اہم ہے ۔
برکس کی سب سے بڑی آزمائش خود اِس کے اندرموجود اختلافات ہیں ۔بھارت اور چین دنیا کی دوبڑی طاقتیں ہیں ،لیکن آپس میں شدید نوعیت کے سرحدی اور تزویراتی اختلافات رکھتی ہیں، جبکہ روس سے اگر بھارت کے اچھے اور دیرینہ تعلقات ہیں توامریکہ سے بھی بھارت دفاعی،اقتصادی اور تزویراتی تعلقات مضبوط بنارہا ہے۔ امریکی قیادت میں بننے والے دفاعی اتحاد کواڈ میں شمولیت اور جوہری معاہدہ اسی اعتماد کی شکل ہے۔ مگر دہلی کا برکس کو ترک کرنے کی بجائے اِس کے اندر اپنے کردار کو وسیع اور مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ہر طرف تعاون کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، تاکہ کسی ایک پر انحصار کی نوبت نہ آئے، مختلف طاقتوں سے تعلقات رکھنا اور ہر فورم کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ہی بھارتی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو ہے ۔
روس کے لیے دہلی کااجلاس بہت اہمیت کاحامل ہے۔ مغربی دباؤ اور پابندیوں کے ماحول میں برکس کوماسکو ایک ایسا پلیٹ فارم سمجھتا ہے جہاں وہ غیر مغربی دنیا کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط کو وسعت دے سکتا ہے۔ چین بھی عالمی اِداروں میں اصلاحات اور کثیر قطبی دنیا کے تصور کو آگے بڑھانے میں برکس کو اہم تصورکرتاہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ بھارت،روس اور چین اِس تنظیم کوکہاں تک اپنے اپنے مفادکے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ بظاہر تینوں کی الگ الگ ترجیحات اور حاوی ہونے کی جدوجہد تنظیم کی اہمیت کم کر سکتی ہیں۔
دہلی اجلاس کاایک اہم پہلو ایران کی شرکت ہے۔ مسعود پزشکیان کی دہلی اجلاس میں شرکت کی اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی خطے میں کشیدگی کے بادل ہیں ایران کے لیے برکس نہ صرف اقتصادی تعاون بلکہ سفارتی روابط کو وسعت دینے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے ۔اسی بناپر توقع ہے کہ دہلی اجلاس میں ایران کی موجودگی مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کو عالمی اقتصادی اورسفارتی گفتگو کا حصہ بنا سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی برکس اہم ہے، اِس لیے اجلاس کے حوالے سے کئی سوالات پیداہوتے ہیں۔ پاکستان بھلے اِس کا رُکن نہیں لیکن اِس کے سب سے اہم تزویراتی اور اقتصادی شراکت دار چین کاشمارمذکورہ تنظیم کے بنیادی اراکین میں ہوتا ہے ۔گزشتہ عشرے سے روس کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ ایران بھی ہمسایہ ہے۔ علاوہ ازیں اہم خلیجی ممالک کی شمولیت سے پاکستان کے اردگرد کاایک بڑاجغرافیائی اور معاشی حلقہ برکس سے منسلک ہوچکاہے ۔لہٰذا بدلتی ہوئی دنیا کو صرف یہ دیکھنے کی بجائے کہ کون امریکہ کے ساتھ ہے اور کون روس اور چین کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، پاکستان کو اپنی معاشی ضرورتوں کے مطابق متوازن خارجہ اور تجارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اگر برکس مقامی کرنسیوں ،ڈیجیٹل ادائیگیوں ،تجارت،توانائی ،ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے قابلِ عمل راستے کھولتا ہے تو پاکستان کومواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ابھی سے ہی حکمتِ عملی بنالینی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا یک قطبی نظام سے آگے بڑھ رہی ہے، اب طاقت کے نئے مراکز جنم لے چکے ہیں ۔بر کس اسی تبدیلی کی علامت ہے ۔دہلی کا اٹھارواں سربراہی اجلاس صرف چندسربراہان مملکت کی ملاقات ہی نہیں،بلکہ اِس سوال کامرحلہ ہے کہ اب دنیا کے فیصلے کہاں اور کیسے ہوں گے؟ دہلی ملاقاتیں اگر رُکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجوداقتصادی تعاون ،باہمی تجارت ،ڈیجیٹل معیشت اور عالمی اِداروں میں اصلاحات کے حوالے سے کوئی قابلِ عمل راستہ نکالنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ عالمی سیاست میں ایک اہم اور بڑی پیش رفت ہوگی۔ اگر پاکستان نے اِس بدلتی دنیا کی سمت کو بروقت سمجھ لیا تو محض تماشائی کی بجائے اِس نئے معاشی اور سفارتی منظر نامے کا فعال حصہ بن سکتاہے۔
٭٭٭


