میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سلیم حبیب یونیورسٹی، ارم آفاق کا سلیم حبیب سے نکاح کا دعویٰ حلالہ میں تبدیل

سلیم حبیب یونیورسٹی، ارم آفاق کا سلیم حبیب سے نکاح کا دعویٰ حلالہ میں تبدیل

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

فارما کمپنی سے لے کر فاؤنڈیشن تک قبضہ کے لیے نکاح نامہ کی دستاویز استعمال کی گئی

ارم آفاق کا عدالتی کارروائی میں ڈاکٹر سلیم حبیب کو والد کی مانند ماننے کا بھی اعتراف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر سلیم حبیب کے قائم کردہ تعلیمی و فلاحی ادارے سلیم حبیب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے قابضین میں شامل ارم آفاق کا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (1) ، کراچی ساؤتھ کی عدالت میں بیان بنیادی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ارم آفاق نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا ڈاکٹر سلیم حبیب سے نکاح حلالہ کی غرض سے ہوا تھا، اُنہوں نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈاکٹر سلیم حبیب نے ان کی عزت اور پردے کا خیال رکھتے ہوئے انہیں سات روز کے لیے اپنی اہلیہ بنایا، جس کے بعد انہوں نے عدت مکمل کی اور بعد ازاں سال 2008میں شیخ آفاق سے دوبارہ نکاح کرلیا۔واضح رہے کہ مذکورہ نکاح نامہ کی دستاویز فارما کمپنی بیریٹ ہاڈسن سے لے کر فاونڈیشن کے مختلف فلاحی پراجیکٹس پر قبضے کے لیے استعمال ہوتی رہی۔قانونی طور پر یہ تعین بعد میں ہو سکے گا کہ ارم آفاق نے جس نکاح کو بغرض حلالہ قرار دیا ہے وہ کمپنی کے معاملات میں کس طرح استعمال ہوا ہے؟ اور اس کی قانونی گنجائش موجود تھی یا نہیں۔ جب کہ عدالتی کارروائی کے دوران ارم آفاق نے ڈاکٹر سلیم حبیب کے بارے میں یہ بھی کہا کہ وہ ان کے لیے والد کی مانند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بیریٹ ہاڈسن کی سی ای اوتھیں اور آج بھی خود کو کمپنی کی سی ای اوقرار دیتی ہیں۔نکاح نامے اور اس سے متعلق دستاویزات کے حوالے سے ارم آفاق نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر سلیم حبیب کی جانب سے پیش کیے گئے بعض کاغذات سی بی سی کراچی/کلفٹن کے ریکارڈ سے چوری کروائے گئے ۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ سلطان مسجد کے قاری منیر صاحب سے دباؤ اور دھمکی کے ذریعے ایسا بیان حاصل کیا گیا جس میں مبینہ نکاح پڑھانے سے انکار کیا گیا تھا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور یہ اس مرحلے پر ایک فریق کا عدالتی مؤقف ہیں۔دوسری جانب ڈاکٹر سلیم حبیب کی طرف سے ارم آفاق کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ اگر مذکورہ نکاح ہوا تھا اور بعد میں ختم ہوگیا تو اس سے متعلق طلاق نامہ عدالت میں پیش کیا جائے ۔ ارم آفاق نے جواباً کہا کہ وہ طلاق سے متعلق دستاویز عدالت میں جمع کرا رہی ہیں۔ کارروائی میں قاری منیر سے منسوب ایک دوسرے بیان کا بھی ذکر سامنے آیا، جس کے مطابق مبینہ طور پر نکاح پڑھانے کی تصدیق کی گئی اور متعلقہ دستاویزات کے گم یا چوری ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔ اس بیان کی صحت، اس کے حصول کے حالات اور مختلف بیانات میں موجود اختلافات کا فیصلہ عدالتی ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔ عدالت نے مزید سماعت کے لیے کیس ہفتہ، 29اگست 2026کو دوبارہ مقرر کردیا ہے ۔ آئندہ سماعت میں طلاق نامے ، نکاح سے متعلق دستاویزات اور قاری منیر سے منسوب بیانات سمیت دیگر شواہد پر مزید پیش رفت متوقع ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ نکات فریقین کی جانب سے عدالتی کارروائی میں پیش کیے گئے دعوؤں اور مؤقف پر مبنی ہیں۔ کسی بھی الزام کو عدالت کے حتمی فیصلے تک ثابت شدہ حقیقت تصور نہیں کیا جاسکتا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں