سوات؛ کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکا، 14 افراد جاں بحق
شیئر کریں
دھماکے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں اور جاں بحق افراد میں عام شہری بھی شامل ہیں، پولیس
……………………………..
خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکے میں 14 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو1122 خیبرپختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اب تک 14 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جن میں 9 شہدا کے جسد خاکی سینٹرل اسپتال سیدو شریف اور 5 شہدا کے جسد خاکی کی تصدیق کبل اسپتال کے ڈاکٹر صاحبان کی جانب سے کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 شاہ فہد کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات شعیب منصور کی نگرانی میں ریسکیو 1122 سوات امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے اور ریسکیو1122 سوات کی 13 ایمبولینسز اور 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو1122 نے 15 سے زائد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا ہے جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
اس سے قبل ڈی پی او سوات عمر گنڈاپور نے کہا تھا کہ کبل تھانے کے گیٹ کے قریب دھماکا ہوا، جس میں 4 پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت 9 افراد شہید ہوگئے ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مالاکنڈ سید فدا حسین نے بتایا کہ کبل پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب دھماکا ہوا ہے اور دھماکے کے وقت مقامی نوجوانوں کا احتجاج بھی جاری تھا تاہم احتجاج والا مقام دھماکے کی جگہ سے دور تھا۔
انہوں نے بتایا کہ خودکش بمبار نے تھانہ کبل میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس اہلکار نے خود کش کو اندر داخل ہونے سے روکا، جس پر خودکش بمبار نے تھانے کے گیٹ پر خود کو اڑایا۔
ان کا کہنا تھا کہ تھانے کے قریب پولیس لائن اور حساس عمارتیں واقع ہیں، ابتدائی طور پر چار پولیس جوان شدید زخمی ہوئے اور واقعے میں دو شہری بھی زخمی ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی نے کہا کہ کبل میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوع کی جانب روانہ کر دی گئیں۔
سوات دھماکے پر اظہار مذمت
سوات میں کبل تھانے کے باہر ہونے والے دھماکے پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر حکام نے اظہار مذمت کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تھانہ کبل کے قریب خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اور شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا اور اپنی زندگیاں قربان کرکے دوسروں کی زندگیاں بچانے والے پولیس اہلکاروں نے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور دھماکے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی ہونے والے اہلکاروں اور دیگر افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پولیس کو نشانہ بنانے والے امن دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، پوری قوم اپنے بہادر پولیس اہلکاروں اور افواج پاکستان کے جوانوں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے، جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن کے قیام کو یقینی بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنے بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور نہ ہی امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب ہوں گے۔
گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے سوات کے علاقے کبل میں مبینہ دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اے ایس آئی سمیت تمام شہدا کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمام شہدا کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ انتظامیہ اور اسپتالوں کو ہدایت ہے کہ تمام زخمیوں کو بروقت، بہترین اور بلا تاخیر طبی سہولیات فراہم کی جائیں، اور زخمیوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔


