میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 امریکی ٹیرف ختم یا کم کرانے کی ضرورت

 امریکی ٹیرف ختم یا کم کرانے کی ضرورت

جرات ڈیسک
جمعرات, ۳۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا کے کم وبیش 60 ممالک پر 10سے12.5 فیصد کی شرح سے  ٹیرف عاید کرنے کا اعلان کیا ہے،ٹرمپ نے اس ٹیرف کا جواز یہ پیش کیاہے کہ امریکہ مختلف ممالک میں مبینہ جبری مشقت کے خلاف یہ  ٹیرف عاید کررہاہے۔ایسے ممالک جنھوں نے جبری مشقت کے ذریعہ تیار کرائی جانے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عاید کررکھی ہے یا ایسی  پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیاہے ان پر 10 فیصد ٹیرف عاید کیاگیاہے ان میں کینیڈا،یورپی یونین اور برطانیہ اور ترقی پذیر ممالک میں  پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش شامل ہیں ۔امریکہ نے چین،جاپان ،جنوبی کوریا ،ناروے اور درجنوں دیگر ممالک پر 12.5 فیصد کی شرح  سے ٹیرف عایدکرنے کااعلان کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایمرجنسی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دنیا بھریکطرفہ طورپرٹیرف عاید  کردیاتھا لیکن امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عاید کردہ سابقہ ٹیرف اور محصولات کو کالعدم قرار دیدیاتھا ،جس کے بعد  عارضی 10 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیاگیا جس کی میعاد24 جولائی کو ختم ہوگئی جس کے بعد جبری مشقت کا بہانہ بنا کردوبارہ کم  وبیش 60 ممالک پر 10سے12.5 فیصد کی شرح سے ٹیرف عاید کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے سابقہ
محصولات کو کالعدم قرار دئے جانے کے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے ٹیرف یا محصولات کو اس انداز میں تیار کیاگیاہے کہ قانونی چیلنجز کی
صورت میں امریکی حکومت کیلئے اپنے صدر کے اقدامات کا دفاع کرنا آسان ہو۔قبل ازیں ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ
امریکہ کے تجارتی شراکت دار اس کو لوٹ رہے ہیں ،ٹرمپ کی اس منطق کی وجہ سے ناقدین یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ
جنگ میں ہونے والے بھاری اخراجات کی وجہ سے امریکی خزانے پر پڑنے والے بھاری بوجھ کو کچھ کم کرنے کیلئے اس طرح کے ٹیرف عاید
کررہی ہے اور اس کیلئے نت نئے جواز تراش رہی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جبری مشقت ایک عالمگیر مسئلہ ہے ،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جبری مشقت کے ذریعے امریکہ برطانیہ
اور دیگر یورپی ممالک کی معیشت کو مضبوط کیا گیاہے ،جبری مشقت کی وجہ وہ نیو لبرل عالمی تجارتی نظام ہے خود امریکہ گزشتہ کئی دہائیوں تک
اس کی سرپرستی کرتا رہاہے ،جبری مشقت کے ذریعے مختلف ممالک اپنی برآمدی اشیا کی پیداواری لاگت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس
طرح ان ممالک کی تیار کردہ اشیا کیونکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے اس لئے ان کو عالمی منڈی میں پذیرائی ملتی ہے اور اس
طرح ان کی برآمدی آمدنی میں اضافہ ہوتاہے جس سے ان کی معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ محنت کشوں کے حقوق
کے بارے میں اتنے بے چین کیوں ہورہے ہیں جبکہ خود ان کے اپنے ملک کے مختلف صوبوں میں اب بھی محنت کشوں کو ان کی محنت کا
مناسب یہاں تک کہ خود حکومت کا مقرر کردہ کم از کم معاوضہ بھی نہیں ملتا اور بعض امریکہ سرمایہ کار کم اجرت کی ادائیگی کیلئے غیرقانونی تارکین
وطن کا استحصال کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس استحصال کو برداشت کرتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔دنیا کی ریزرو کرنسی یعنی
ڈالر امریکہ ہی جاری کرتاہے اس طرح امریکہ کو برآمدات کرنے والے ممالک یعنی اس کے تجارتی شراکت دار جو اضافی زرمبادلہ کماتے ہیں اس کے بڑا حصہ دوبارہ امریکی ڈالر بانڈز اور دیگر امریکی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی صورت میں واپس امریکہ ہی چلاجاتاہے۔تیل
پوری دنیا کی اولین ضرورت ہے اور تیل کی قیمت ڈالر میں ہی مقرر کی جاتی ہے اور پیٹروڈالر کی اصطلاح کو اب عالمی معیشت میں نمایاں
حیثیت حاصل ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ ٹرمپ محض پوری دنیا پر اپنی بالادستی ظاہر کرنے کیلئے جس کی چولیں ہل چکی ہیں اب ایسے
اقدام کررہے ہیں جو ان ہی بنیادوں کو کھودنے کی کوشش کے مترادف ہیں جنھوں نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنادیاتھا۔

ٹرمپ کی جانب سے عاید کئے جانے والے یہ ٹیرف دنیا بھر میں صنعتی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں گے جبکہ ٹرمپ خود کو
پوری دنیا میں صنعتی بحالی کا سرخیل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کوصنعتی بحالی کے پرجوش حامی کے طورپر پیش کرتے ہیں ،ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اس طرح کے ٹیرف کے نفاز سے خود امریکی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اضافی ٹیرف کی ادائیگی
کی صورت میں امریکہ کی درآمد کردہ اشیا کی لاگت بڑھ جائے گی اور یہ اضافی قیمت بہرطورپر امریکہ کے عام آدمی کوہی برداشت کرنا پڑے
گی۔ٹرمپ کی جانب سے اضافی ٹیرف کے نفاذ کی صورت میں امریکی عوام اپنی ضروریات محدود کرنے کی کوشش کریں گے جس سے
امریکی منڈی پر انحصار کرنے والے ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے کی امریکہ کیلئے برآمدات میں کمی ہوگی جس سے نہ صرف متعلقہ
ممالک کی افرادی قوت کے روزگار کے مواقع محدود ہوں گے بلکہ ان ملکوں کی اپنی معاشی ترقی بھی متاثر ہوگی اور ٹیرف کی زد میں آنے
والے ممالک امریکہ سے درآمد میں کمی کرنے پر مجبور ہوں گے اس طرح نقصان کم یا زیادہ سب ہی کو اٹھانا پڑے گا۔ٹرمپ کے اس طرح
کے یکطرفہ اقدامات سے ایک دفعہ پھر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اب پوری دنیا کو امریکہ اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کیلئے ڈالر کے
مقابلے میں دنیا کی کوئی زیادہ مضبوط کرنسی کو اپنے کی زیادہ سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے ،تاہم کوئی بھی ملک تنہا یہ کام نہیں کرسکتا اس مقصد
کیلئے عالمی سطح پر موثر تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی بھی متبادل کرنسی کے حوالے سے وہ شفافیت اور اعتماد پیداکیاجاسکے جو
امریکہ کبھی عالمی منڈی کو فراہم کرتا تھا۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان کی برآمدات کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ پاکستان کی ایک بڑی برآمدی منڈی ہے
مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی مجموعی 33 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے کم وبیش 6 ارب ڈالر کی مصنوعات امریکہ کو برآمد کی گئی
تھیں۔ان اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان کی کم وبیش 18 فیصد برآمدات امریکہ کیلئے تھیں ،امریکہ پاکستان سے ٹیکسٹائل ،
ملبوسات ،بسترکی چادریں ،تولئیے،سرجیکل آلات اور چمڑے کی مصنوعات درآمد کرتاہے ۔اس ظاہرہوتاہے کہ امریکی تجارتی پالیسی میں
معمولی سی تبدیلی بھی پاکستان کی برآمدات پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے ۔پاکستان کی برآمدات پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں ،برآمدات میں
اضافے سے متعلق حکومت کے تمامتر دعووں کے باوجود ملک کی مجموعی برآمدی آمدنی 33 ارب ڈالر سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے جبکہ اس کے
مقابلے میں ویتنام کی برآمدات400 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں ،بھارت اور بنگلہ دیش پر عاید کئے گئے ٹیرف پاکستان کے برابر ہیں لیکن
پاکستان کیلئے ان دونوں کا مقابلہ کرنے میں سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی،گیس اور نقل وحمل کے اخراجات کی وجہ سے
اشیا کی پیداواری لاگت ویتنام اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے،اس کے علاوہ بھارت اپنے برآمدکنندگان کو برآمدات کی مد
میں بھاری سبسڈی دیتا ہے جس کے باعث ان کی پیداواری لاگت کم ہوجاتی ہے اور وہ پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر اشیا
فروخت کرسکتے ہیں۔ تیل کی غیر مستحکم قیمتیں ،بجلی کی بھاری قیمتیں خام اور تیار شدہ مال کے نقل وحمل پر آنے والے بھاری اخراجات یہ سب
مل کر پاکستان کی تیار کردہ اشیا کو عالمی منڈی میں گراں تربنادیتے ہیں اور ظاہرہے کہ جب اسی معیار کی بنگلہ دیش ،ویتنام یا بھارت کی بنی
ہوئی شے جب کم قیمت پر دستیاب ہوگی تو پاکستان کی تیار کردہ اشیا کی کھپت میں اضافہ کیسے ممکن ہوسکتاہے۔

موجودہ صورت حال سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عاید کردہ ٹیرف کے بعد پاکستان کی تیار کردہ اشیا کو عالمی منڈی
میں زیادہ سخت مقابلے کا سامنا کرنا ہوگا،جبکہ مقابلے کے اس ماحول میں برآمدات میں معمولی سی کمی بھی ملکی معیشت کیلئے سم قاتل ثابت
ہوسکتی ہے ،کیونکہ مختلف ممالک میں کام کرنے والے پاکستان ملک کی معیشت کیلئے بھاری زرمبادلہ وطن بھیج کر برآمدی آمدنی کی کمی کو پورا
کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کا انداہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ بیرون ملک ملازمت یا کاروبار کرنے والے پاکستانی ہر سال کم وبیش 40 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں،اور اس رقم کا کم وبیش نصف حصہ خلیجی ممالک سے آتاہے ،اب اگر اس خطے میں کشیدگی طول
پکڑتی ہے تو اس کے اثرات یقینی طورپر پاکستانی کارکنوں پر بھی پڑے گے جس سے ترسیلات زر متاثر ہوسکتاہے۔ خلیج کی جنگ کا ایک پہلو
یہ بھی ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے خلیج کے کم وبیش تمام ممالک کی معیشت پر اثرات ڈالے ہیں جس کے نتیجے میں خلیج میں افرادی قوت کی کھپت میں نمایاں کمی کے ساتھ ہی موجود ملازمین کی نوکریاں اور آمدنی بھی خطرے سے دوچار ہے۔اب اگر اس خطے میں کشیدگی طول پکڑتی
ہے ،تو وہاں چھانٹیاں بھی شروع ہوسکتی ہیں جس سے پاکستانی بھی متاثر ہوسکتے ہیں اور خلیج میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی بیروزگاری
براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوگی۔ موجودہ قیادت کے دعووں کے موجودہ امریکہ ایران جنگ بند کرانے کیلئے سفارتی کردار کی ادائیگی
کی وجہ سے صدر ٹرمپ سے ان کے قریبی تعلقات استوار ہوچکے ہیں اور ٹرمپ بھی اس کی تصدیق کرچکے ہیں ،اس لئے اب ضرورت اس
بات کی ہے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت براہ راست ٹرمپ سے رابطہ کرکے ٹیرف ختم کرانے یا اسے علاقے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کم
کرانے کی کوشش کرے کیونکہ ملک کی معیشت کو سہارا دینے کا یہی ایک راستہ ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں