آزاد کشمیر، معاملے کے حل کیلئے پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف)متحرک
شیئر کریں
راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں وفد کی راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کے اراکین سے ملاقات، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں معاملات کافی حد تک حل ہونے کی توقع، بلاول بھٹواور مولانا فضل الرحمن اہم کردار اداکررہے ہیں، ذرائع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف)متحرک ہو گئے،
اس ضمن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں وفد نے مذاکرات کے حامی عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی جس میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہےـ
بدھ کی صبح سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں ایک وفد بذریعہ ہیلی کاپٹر مظفرآباد سے راولاکوٹ پہنچا جہاں ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذکرات کا ایک دور ہوا جس میں مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی آئندہ چوبیس گھنٹوں میں متوقع ہےـ
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بریف دی ہےـ یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں موجود ہیں جو مذاکرات کی نگرانی خود کررہے ہیں۔
ـدوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جنہوں نے گزشتہ روزفریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی وہ بھی مذاکرات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بہت سے اراکین مذاکرات کے حامی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل ہوـ
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں مثبت اشارے ملے ہیں جس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گےـ
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاج تاحیات کیلئے نہیں ہوتے آئیں مل کر بیٹھیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیرمیں مطالبات کے حق میں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے احتجاج شروع ہوا جس دوران عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات بھی ہوئے تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے جس کے باعث معاملات کشیدگی کی طرف چلے گئے تھے ـ


