میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قومیں کیسے بنتی ہیں؟

قومیں کیسے بنتی ہیں؟

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۵ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

قومیں کسی فرمان، کسی مذہبی نعرے، کسی ایک نسل، کسی ایک زبان یا کسی ایک حکمران کے اعلان سے وجود میں نہیں آتیں۔ قومیں صدیوں کے تجربات،
مشترکہ یادداشت، مشترکہ دکھ، مشترکہ امید، مشترکہ جغرافیہ، مشترکہ تہذیب اور مشترکہ مستقبل کے خواب سے جنم لیتی ہیں۔ قوم دراصل خون کا نہیں بلکہ
شعور کا رشتہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہیں جنہوں نے اپنی شناخت کو زمین، ثقافت، زبان، اداروں اور اجتماعی اخلاقیات
سے جوڑا، جبکہ وہ معاشرے جو صرف وقتی نعروں یا جذبات پر کھڑے ہوئے، وقت کی گرد میں گم ہو گئے۔
جدید سماجی علوم کی دنیا میں قوم کے تصور پر سب سے زیادہ تحقیق دنیا کی ممتاز جامعات، خصوصاً ہارورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی، کیمبرج
یونیورسٹی، اسٹینفورڈ یونیورسٹی، پرنسٹن یونیورسٹی اور لندن اسکول آف اکنامکس (ایل ایس ای) کے محققین نے کی ہے۔ ان تحقیقات کا خلاصہ حیرت انگیز
طور پر ایک ہی نتیجے پر پہنچتا ہے: قوم ایک سماجی اور تاریخی تعمیر (Social Construction) ہے جو مشترکہ شناخت، اجتماعی اعتماد اور مضبوط اداروں  سے وجود میں آتی ہے، نہ کہ محض نسلی یا مذہبی وابستگی سے۔مشہور سیاسی مفکر Benedict Anderson نے اپنی شہرہ آفاق کتاب امیجنڈ کمیونٹی( Communities Imagined )میں لکھا کہ قوم دراصل ایک Community” "Imagined ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قوم
خیالی چیز ہے، بلکہ یہ کہ ایک قوم کے زیادہ تر افراد کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے، لیکن اس کے باوجود وہ خود کو ایک ہی اجتماعی خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی مشترکہ احساس قوم کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی طرح Gellner Ernest ، جن کی تحقیق کو کیمبرج یونیورسٹی میں خاص اہمیت دی جاتی ہے، کہتے ہیں کہ  جدید قومیں اس وقت وجود میں آتی ہیں جب تعلیم، زبان، معاشی نظام اور ریاستی ادارے لوگوں میں ایک مشترکہ شناخت پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق  اگر ادارے کمزور ہوں تو قوم بھی کمزور رہتی ہے، چاہے مذہبی یا نسلی نعرے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں۔دوسری طرف Smith ‘Anthony Dنے
ثابت کیا کہ ہر کامیاب قوم اپنی قدیم تہذیبی یادداشت، تاریخی علامات، اجتماعی روایات اور آبائی سرزمین سے طاقت حاصل کرتی ہے۔ جس قوم کا اپنی
تاریخ سے رشتہ ٹوٹ جائے، اس کا مستقبل بھی غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے سیاسی ماہرین کی تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مضبوط قومیں  صرف اس وقت بنتی ہیں جب ریاست کے اندر مختلف گروہ خود کو برابر کا شہری محسوس کریں، قانون سب پر یکساں لاگو ہو، اور ریاست کسی ایک طبقے، نسل  یا گروہ کی جاگیر نہ بن جائے۔

اعتماد (Trust) وہ سرمایہ ہے جس پر ہر مضبوط قوم کھڑی ہوتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے مورخین نے اپنی تحقیق میں دکھایا کہ دنیا کی تقریباً ہر
کامیاب قوم نے اپنی تاریخ کو قبول کیا، اس سے سیکھا اور اس کی بنیاد پر مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دیا۔ انہوں نے اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا، کیونکہ سچ سے  بھاگنے والی قومیں حقیقت سے بھی دور ہو جاتی ہیں۔ فلسفے کی زبان میں قوم ایک درخت کی مانند ہے۔ اس کی جڑیں تاریخ میں، تنا ثقافت میں، شاخیں
اداروں میں اور پھل مستقبل کی نسلوں میں ہوتے ہیں۔ اگر جڑیں کاٹ دی جائیں تو سبز شاخیں بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اسی لیے قوم سازی کا
پہلا اصول اپنی مٹی، اپنی تاریخ، اپنی زبان اور اپنی تہذیب سے شعوری تعلق قائم کرنا ہے۔انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جاپان، جرمنی، جنوبی
کوریا، فن لینڈ اور سنگاپور جیسی ریاستوں نے اپنی قومی تعمیر کا آغاز نفرت سے نہیں بلکہ تعلیم، قانون، تحقیق، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری سے کیا۔ انہوں  نے اپنے شہریوں کو ایک مشترکہ مقصد دیا، اداروں کو مضبوط کیا اور میرٹ کو قومی اصول بنایا۔ نتیجتاً وہ تباہی سے ترقی کی معراج تک پہنچ گئے۔اس کے  برعکس وہ معاشرے جہاں تاریخ کو مسخ کیا گیا، اداروں کو کمزور کیا گیا، قانون کو طاقتور کے تابع بنا دیا گیا، اور شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف تقسیم کیا  گیا، وہاں قوم کمزور اور ریاست غیر مستحکم ہوتی گئی۔ قوم صرف سرحدوں سے نہیں بنتی؛ قوم انصاف سے بنتی ہے۔ قوم صرف جھنڈے سے نہیں بنتی؛ قوم  اعتماد سے بنتی ہے۔ قوم صرف نعروں سے نہیں بنتی؛ قوم کردار سے بنتی ہے۔

عظیم فلسفیRenan Ernest نے کہا تھا کہ قوم کا وجود دو چیزوں پر قائم ہوتا ہے: مشترکہ یادداشت اور ساتھ مل کر مستقبل بنانے کی مشترکہ
خواہش۔ اگر ماضی مشترک نہ ہو اور مستقبل کا خواب بھی مشترک نہ رہے، تو صرف جغرافیہ قوم نہیں بنا سکتا۔آخرکار قوم ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔ ایسا
معاہدہ جس میں ہر فرد یہ عہد کرتا ہے کہ وہ ذاتی مفاد سے پہلے اجتماعی مفاد کو اہمیت دے گا، قانون کی پاسداری کرے گا، اختلاف کے باوجود ایک
دوسرے کے وجود کو تسلیم کرے گا، اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر معاشرہ چھوڑ کر جائے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان ہجوم سے قوم بنتا ہے، اور قوم تاریخ میں اپنا مستقل مقام حاصل کرتی ہے۔اگر قوم سازی پر ہونے والی جدید جامعاتی تحقیق کو پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ  کے آئینے میں دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ دنیا کی ممتاز جامعات کی تحقیق بتاتی ہے کہ قومیں مشترکہ شناخت، مضبوط اداروں، قانون  کی بالادستی، تاریخی شعور، معاشی انصاف اور شہری برابری سے بنتی ہیں، جبکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ ان بنیادی ستونوں کی تعمیر کے بجائے اقتدار کی کشمکش، ادارہ جاتی عدم توازن، سیاسی عدم استحکام اور شناخت کے مسلسل بحران میں گزرا ہے۔پاکستان نے آزادی تو حاصل کر لی، لیکن ایک ؂ایسی مشترکہ قومی شناخت تشکیل نہ دے سکا جس میں اس کے تمام تاریخی، ثقافتی اور لسانی اکائیوں کو برابر کی جگہ ملتی۔ جب کسی معاشرے میں مختلف قومیتیں، زبانیں اور ثقافتیں خود کو ریاستی بیانیے میں مکمل طور پر شریک محسوس نہ کریں تو اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے، اور اعتماد کے بغیر قوم سازی کا عمل بھی کمزور رہتا ہے۔سیاسی اعتبار سے بھی بار بار جمہوری تسلسل کا ٹوٹنا، آئینی بحران، اقتدار کی کشمکش اور کمزور اداروں نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو متاثر کیا۔ دنیا کی کامیاب قوموں نے اداروں کو افراد سے بڑا بنایا، جبکہ پاکستان کی سیاست میں اکثر افراد اور گروہوں کی اہمیت اداروں سے زیادہ ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل پیدا نہ ہو سکا۔معاشی میدان میں بھی ایک مضبوط قوم کے لیے ضروری ہے کہ ترقی کے مواقع نسبتاً منصفانہ ہوں، تعلیم اور صحت تک رسائی وسیع ہو، اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ لیکن جب وسائل کی تقسیم غیر متوازن ہو، کرپشن اور اقربا پروری غالب آ جائیں، اور عوام کی بڑی تعداد بنیادی سہولتوں سے محروم رہے، تو قومی یکجہتی بھی متاثر ہوتی ہے۔ معاشی ناانصافی صرف غربت پیدا نہیں کرتی، بلکہ ریاست پر اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔

سماجی سطح پر بھی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ قومیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے  معاشرتی تنوع کا حصہ مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں کئی مواقع پر سیاسی، لسانی اور صوبائی اختلافات مکالمے کے بجائے محاذ آرائی میں بدلتے رہے، جس سے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان میں قوم بننے کی صلاحیت موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں بے پناہ انسانی وسائل، نوجوان آبادی، متنوع ثقافتیں، زرخیز زمین، قدرتی وسائل اور ایک مضبوط تاریخی ورثہ موجود ہے۔ مگر ان صلاحیتوں کو ایک مشترکہ قومی منصوبے میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے مضبوط ہوں، تعلیم کو ترجیح دی جائے، تاریخ کا مطالعہ دیانت داری سے کیا جائے، اور ہر شہری کو مساوی احترام اور مواقع میسر ہوں۔انسانی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی قوم ہمیشہ کے لیے ناکام یا ہمیشہ کے لیے کامیاب نہیں رہتی۔ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے بعد کھنڈر تھا، جاپان ایٹمی حملوں کے بعد تباہ تھا، جنوبی کوریا غربت کا شکار تھا، اور سنگاپور محدود وسائل رکھتا تھا۔ لیکن ان معاشروں نے مضبوط اداروں، تعلیم، قانون، تحقیق، محنت اور اجتماعی نظم کے ذریعے اپنی تقدیر بدلی۔پاکستان کے لیے بھی اصل سوال یہ نہیں کہ ماضی میں کیا غلطیاں ہوئیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست، سیاسی قیادت، ادارے اور عوام مل کر ایک ایسا سماجی معاہدہ تشکیل دے سکتے ہیں جس میں انصاف، میرٹ، آئین، شہری برابری اور مشترکہ مستقبل کو بنیاد بنایا جائے۔قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ انصاف سے بنتی ہیں۔

قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، بلکہ اعتماد سے بنتی ہیں۔ اور جب ریاست اپنے تمام شہریوں کو برابر کا شریک سمجھے، تاریخ کو دیانت داری سے
قبول کرے، اختلاف کو برداشت کرے، اور قانون کو سب پر یکساں نافذ کرے، تب ہی ایک حقیقی، مضبوط اور پائیدار قوم وجود میں آتی ہے۔ یہی وہ
راستہ ہے جس پر چل کر کوئی بھی ریاست اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی بحرانوں سے نکل کر استحکام اور ترقی کی منزل حاصل کر سکتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں