سندھ بلڈنگ، غیر قانونی تعمیرات، وسیم شمشاد کے لیے بڑا امتحان
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 5کے پلاٹس A4/33اور E9/21پر نمائشی انہدامی کارروائی
ازسرنو دکانیں اور کمرشل یونٹس تعمیرات دوبارہ شروع، انتظامیہ کی کارکردگی مشکوک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان واضح تضاد سامنے آ گیا ہے،
جہاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد کے لیے شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے ۔
جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ناظم آباد نمبر 5میں واقع پلاٹس A4/33اور E9/21پر گزشتہ دنوں نمائشی نوعیت کی انہدامی کارروائی کی گئی تھی،تاہم اس کارروائی کے بعد انہی مقامات پر دوبارہ دکانوں اور کمرشل یونٹس کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہدام محض رسمی کارروائی ثابت ہوئی، جبکہ تعمیراتی سرگرمیاں پہلے سے زیادہ تیزی سے جاری ہیں۔
علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ افسران کو متعدد تحریری درخواستیں اور شکایات جمع کرانے کے باوجود کسی مؤثر کاروائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بااثر عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی صرف فوٹو سیشن اور وقتی مظاہرے تک محدود رہی تو شہر میں تعمیراتی قوانین کی حیثیت مزید کمزور ہو جائے گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ پلاٹس پر جاری تعمیرات فوری طور پر بند کرائی جائیں،
ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس معاملے میں مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے ذمہ دار افسران کا بھی تعین کیا جائے۔
شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنائیں تاکہ سرکاری اداروں کی ساکھ بحال ہو سکے اور شہر میں قانون کی بالادستی قائم رہے ۔
(نمائندہ جرات)


