بڑھتی ہوئی گرمی اور بدلتے موسم ۔۔۔ہیٹ ویوز میں مسلسل اضافہ ایشیا برصغیر کے لیے خطرناک!
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
٭ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے ، جس کے اثرات دنیا بھر میں روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں
٭ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی اس صورتحال کی اہم وجوہات ہیں، جن کے باعث دنیا کے مختلف خطوں کی طرح پاکستان بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں آ رہا ہے
٭پیروکے ماہی گیر دسمبر کے مہینے میں سمندر کے نسبتاً گرم پانیوں کے ایک مخصوص بہاؤ کو "ایل نینو”کہتے تھے ، کیونکہ یہ کیفیت کرسمس کے زمانے میں ظاہر ہوتی تھی
٭ایل نینو بعض خطوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھا سکتا ہے ، تاہم ہر ہیٹ ویوز کی وجہ صرف ایل نینو نہیں ہوتی۔ موسمیاتی تبدیلی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے
٭ایشیا کو ان خطوں میں شامل کیا جا رہا ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی گرمی اور خشک سالی زراعت، بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شدید گرمی کی لہریں، غیر معمولی موسمی تغیرات اور بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ زمین کا موسمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے روایتی انداز بدل رہے ہیں، کہیں گرمی کی شدت نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے تو کہیں بارشوں اور خشک سالی کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں۔ ان بدلتے حالات نے انسانی صحت، زراعت، پانی کے ذخائر اور معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے ، جس کے اثرات دنیا بھر میں روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔شدید گرمی اور درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔
موسم کے بدلتے ہوئے رجحانات کے باعث گرمی کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے ، جس کے نتیجے میں ہیٹ ویوز کے واقعات بھی زیادہ بار اور شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ہیٹ ویوز نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ پانی، زراعت اور توانائی کے شعبوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی اس صورتحال کی اہم وجوہات ہیں، جن کے باعث دنیا کے مختلف خطوں کی طرح پاکستان بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں آ رہا ہے ۔ایل نینو بعض خطوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھا سکتا ہے ، تاہم ہر ہیٹ ویوز کی وجہ صرف ایل نینو نہیں ہوتی۔ موسمیاتی تبدیلی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ایل نینو (El Nino)ہسپانوی زبان کا لفظ ہے ۔ لغوی طور پر اس کے معنی "بچہ”یا "ننھا لڑکا”ہیں، جبکہ ہسپانوی ثقافت میں یہ لفظ خاص طور پر "مسیحِ طفل”(حضرت عیسیٰؑ کے بچپن) کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔تاریخی طور پر جنوبی امریکہ کے ساحلی علاقوں، خصوصاً پیروکے ماہی گیر دسمبر کے مہینے میں سمندر کے نسبتاً گرم پانیوں کے ایک مخصوص بہاؤ کو "ایل نینو”کہتے تھے ، کیونکہ یہ کیفیت کرسمس کے زمانے میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعد میں یہی نام ایک اہم موسمی اور سمندری مظہر کے لیے اختیار کر لیا گیا۔ایل نینو کی تاریخ انیسویں صدی سے جڑی ہوئی ہے ۔ جنوبی امریکہ کے ملک پیرو (Peru)کے شمالی ساحل پر ماہی گیروں نے مشاہدہ کیا کہ ہر سال دسمبر کے قریب سمندر کا پانی غیر معمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے ۔ چونکہ یہ کیفیت کرسمس کے موسم میں ظاہر ہوتی تھی، اس لیے انہوں نے اسے ہسپانوی زبان میں "ایل نینو” (مسیحِ طفل یا ننھا بچہ) کا نام دیا۔ بعد ازاں پیرو کے سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ بعض برسوں میں یہ گرم پانی معمول سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے اور شدید بارشوں، سیلابوں اور موسمی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے ۔ بیسویں صدی میں ماہرینِ موسمیات نے ثابت کیا کہ یہ صرف مقامی نہیں بلکہ ایک عالمی موسمی مظہر ہے جو بحرالکاہل کے وسیع علاقے اور دنیا کے موسموں کو متاثر کرتا ہے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق ایل نینو سے منسلک غیر معمولی بارش کا پہلا تحریری ذکر 1525ء میں ہسپانوی مہم جو فرانسسکو پزارو (Francisco Pizarro) نے پیرو کے ساحلی علاقوں میں پہنچا اور اس نے صحرائی علاقوں میں غیر معمولی بارشوں اور سبزے کا مشاہدہ کیا۔ جسے بعد میں ایل نینو سے منسلک موسمی مظاہر کی ابتدائی تاریخی شہادتوں میں شمار کیا گیا۔دنیا اس وقت ایک ایسے موسمی خطرے کے سائے میں کھڑی ہے جسے ماہرین ایل نینو (El Nino) کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی مظہر ہے جو موسموں کے توازن کو بگاڑ کر بارشوں، گرمی کی شدت اور قدرتی آفات میں غیر معمولی اضافہ کر دیتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس کا ماضی بہت خطرناک رہا ہے اور اس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارے جیسے نازک پہاڑی علاقے اس خطرے سے کہیں زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مری کی پہاڑیاں صرف سیاحت کا مرکز نہیں بلکہ ایک حساس ماحولیاتی نظام بھی ہیں، جہاں معمولی تبدیلی بھی بڑے نقصانات کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔ ایل نینو کے باعث متوقع غیر معمولی بارشیں، اچانک موسمی شدت اور درجۂ حرارت میں اضافہ ان پہاڑوں کے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے ۔ ایسے میں اگر ترقیاتی کاموں کے نام پر پہاڑوں کی کٹائی، درختوں کی بے دریغ تلفی اور زمین کی ساخت میں چھیڑ چھاڑ جاری رہی تو یہ عوامل مل کر کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مری میں غیر منصوبہ بند تعمیرات اور تیزی سے ہونے والی ترقی نے پہلے ہی ماحولیاتی مسائل میں اضافہ کیا ہے ۔
بحرالکاہل میں سرگرم ایل نینوایک ایسا قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث دنیا بھر کے موسموں کے توازن کو متاثر کرتا ہے ۔ پاکستان میں اس کے اثرات عام طور پر شدید نوعیت کے ہوتے ہیں، جن میں گرمی کی شدت میں اضافہ، ہیٹ ویوز کی طوالت اور بارشوں کے نظام میں بے ترتیبی شامل ہے ۔ بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشیں خشک سالی اور پانی کی قلت کو بڑھا سکتی ہیں، جبکہ دوسری طرف غیر متوقع اور موسلا دھار بارشیں شہری سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ مون سون کے پیٹرن میں تبدیلی کے باعث زرعی پیداوار بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے ، جس سے غذائی تحفظ کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر ایل نینو پاکستان کے موسم کو زیادہ غیر مستحکم، شدید اور غیر یقینی بنا دیتا ہے ، جس کے اثرات معیشت اور روزمرہ زندگی دونوں پر محسوس کیے جاتے ہیں۔
بحرالکاہل اور ایل نینو کا تعلق براہِ راست اور بنیادی نوعیت کا ہے ، کیونکہ ایل نینو خود اسی سمندر کے اندر پیدا ہونے والا موسمیاتی رجحان ہے ۔
سادہ الفاظ میں، بحرالکاہل (خصوصاً اس کا وسطی اور مشرقی حصہ) وہ علاقہ ہے جہاں عام حالات میں سمندر کی سطح نسبتاً ٹھنڈی رہتی ہے اور
تجارتی ہوائیں (Trade Winds)وہ مستقل ہوائیں ہیں جو استوائی علاقوں میں مشرق سے مغرب کی جانب چلتی ہیں۔ بحرالکاہل میں یہ ہوائیں گرم سطحی پانی کو مغربی بحرالکاہل کی طرف دھکیلتی رہتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں تو گرم پانی وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کی طرف پھیلنے لگتا ہے ، جس کے نتیجے میں ایل نینو کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔یعنی ایل نینو کوئی الگ چیز نہیں بلکہ بحرالکاہل کے درجہ حرارت اور ہواؤں کے نظام میں آنے والی غیر معمولی تبدیلی کا نام ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایل نینو بحرالکاہل کے ’’مزاج‘‘ میں آنے والا وقتی بگاڑ ہے ، جو پھر پوری دنیا کے موسموں کو متاثر کرتا ہے ۔
ایل نینو دراصل ایک عالمی موسمیاتی نظام کا حصہ ہے جسے ENSO (El NioSouthern Oscillation) کہا جاتا ہے ۔ یہ رجحان بنیادی طور پر وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے سمندری پانی کے غیر معمولی حد تک گرم ہونے سے شروع ہوتا ہے ، لیکن اس کے اثرات صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کے موسموں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا، بشمول پاکستان، میں بارشوں کے نظام میں تبدیلی، بعض علاقوں میں خشک سالی اور بعض میں غیر معمولی بارشیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف حصوں میں گرمی کی شدت، طوفانی بارشیں اور موسم کی بے ترتیبی بھی اسی نظام سے جڑی ہوتی ہے ۔ اس لیے سائنسی طور پر کہا جاتا ہے کہ اگرچہ ایل نینو کی ابتدا بحرالکاہل سے ہوتی ہے ، لیکن یہ ایک عالمی موسمیاتی اثر رکھنے والا رجحان ہے ، جو مختلف براعظموں کے موسموں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے ۔
بحرالکاہل (Pacific Ocean)دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے جو زمین کی سطح کے تقریباً ایک تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے ۔ یہ شمال میں آرکٹک سمندر سے لے کر جنوب میں انٹارکٹیکا تک اور مشرق میں شمالی و جنوبی امریکا سے لے کر مغرب میں ایشیا اور آسٹریلیا تک وسیع ہے ۔بحرالکاہل کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کی بے پناہ وسعت اور گہرائی شامل ہیں۔ اس میں دنیا کی سب سے گہری سمندری خندق ماریانا ٹرینچ واقع ہے جو سمندری جغرافیہ میں انتہائی اہم مقام رکھتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ سمندر ہزاروں چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل ہے جو اسے جغرافیائی طور پر مزید متنوع بناتے ہیں۔
بحرالکاہل کے فرشِ سمندر میں ٹیکٹونک پلیٹس کی مسلسل حرکت پائی جاتی ہے ، جس کے باعث یہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں عام ہیں۔ اسی وجہ سے اسے Ring of Fire کے نام سے جانا جاتا ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ متحرک جغرافیائی خطوں میں شمار ہوتا ہے ۔
یہ سمندر عالمی آب و ہوا پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کی سطحی درجہ حرارت میں تبدیلیاں (جیسے ایل نینو اور لا نینا) دنیا بھر کے موسموں کو متاثر کرتی ہیں۔بحرالکاہل عالمی تجارت اور بحری راستوں کے لیے بھی انتہائی اہم ہے ، کیونکہ ایشیا اور امریکا کے درمیان زیادہ تر بین الاقوامی تجارت اسی سمندر کے ذریعے ہوتی ہے ۔ایل نینو زیادہ تر بحرالکاہل کے خطِ استوا کے وسطی اور مشرقی حصے میں بنتا ہے ۔ اسی لیے اسے ایک سمندری و موسمیاتی رجحان سمجھا جاتا ہے جو خاص طور پر اسی خطے سے شروع ہوتا ہے ۔البتہ اہم بات یہ ہے کہ ایل نینو خود کسی دوسرے سمندر میں پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کے اثرات دنیا کے تقریباً تمام سمندروں اور علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں بھی اس کے موسمی اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں جیسے بارشوں میں تبدیلی، طوفانوں کی شدت یا گرمی میں اضافہ یہ پورا نظام جس میں ایل نینو اور اس کے مخالف مرحلے (لا نینا) شامل ہیں، اسے ENSO (El NioSouthern Oscillation)کہا جاتا ہے ۔ال نینو کو بعض اوقات اس قدرتی مظہر کا گرم مرحلہ جبکہ لا نینا کو سرد مرحلہ کہا جاتا ہے ۔ عام حالات میں بحرالکاہل کے مغربی حصے میں سطحی سمندری پانی نسبتاً زیادہ گرم جبکہ مشرقی حصے میں ٹھنڈا ہوتا ہے ۔ اس دوران تجارتی ہوائیں مشرق سے مغرب کی جانب چلتی ہیں، جس کے باعث گرم پانی بحرالکاہل کے مغربی حصے میں جمع رہتا ہے ۔ تاہم ال نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور بعض اوقات ان کی سمت عارضی طور پر تبدیل ہو جاتی ہے ، جس کے نتیجے میں گرم پانی مشرقی اور وسطی بحرالکاہل کی طرف پھیل جاتا ہے اور وہاں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے ۔
لا نینا ہسپانوی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چھوٹی لڑکی یا ننھی بچی کے ہیں۔ موسمیات میں یہ اصطلاح بحرالکاہل کے استوائی خطے میں اس کیفیت کے لیے استعمال ہوتی ہے جب سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے کم ہو جاتا ہے ۔ لا نینا کو عام طور پر ایل نینو کی مخالف کیفیت سمجھا جاتا ہے اور یہ عالمی موسمی نظام، بارشوں اور درجہ حرارت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے ۔ایل نینو اور لا نینا بحرالکاہل کے استوائی خطے میں رونما ہونے والے قدرتی موسمیاتی مظاہر ہیں جو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت اور فضائی گردش میں تبدیلیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ بحرالکاہل میں مشرق سے مغرب کی جانب چلنے والی مستقل ہوائیں (Trade Winds)سمندری پانی کی نقل و حرکت کو متاثر کرتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں تو گرم پانی مشرقی اور وسطی بحرالکاہل میں پھیل جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں ایل نینو کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ، جو دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، خشک سالی اور موسمی عدم توازن کا سبب بن سکتی ہے ۔ اس کے برعکس جب یہی ہوائیں معمول سے زیادہ مضبوط ہو جائیں تو سمندر کی گہرائیوں سے ٹھنڈا پانی سطح پر آ جاتا ہے اور لا نینا کی کیفیت جنم لیتی ہے ، جو بعض خطوں میں بارشوں اور سیلاب کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے ۔ یہ دونوں مظاہر ال نینوجنوبی ارتعاش (El NioSouthern Oscillation: ENSO) نامی موسمی نظام کا حصہ ہیں اور دنیا بھر کے موسموں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
لا نینا کسی ایک مخصوص موسم تک محدود نہیں ہوتا، تاہم اس کے اثرات اور شدت مختلف موسموں میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔عام طور پر لا نینا کی ابتدا اکثر گرمیوں (جون تا ستمبر) کے دوران ہوتی ہے ، جبکہ یہ اپنی زیادہ واضح شدت خزاں اور سردیوں (اکتوبر تا فروری) میں دکھاتا ہے ۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ لا نینا سردیوں میں وقوع پذیر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات اس موسم میں زیادہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت اور ہواؤں میں تبدیلی آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے ، جس کے اثرات چند مہینوں بعد دنیا کے مختلف خطوں کے موسموں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ال نینو اور لا نینا دراصل ایک بڑے موسمیاتی نظام ای این ایس او (ENSO)، جس کا پورا نام El NioSouthern Oscillation اور اردو میں "ایل نینوجنوبی ارتعاشی نظام”ہے ۔
(ایل نینوجنوبی ارتعاشی نظام) کا حصہ ہیں، جو عالمی موسم پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔ ان دونوں کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ نہ صرف بحرالکاہل کے علاقے بلکہ پوری دنیا کے درجہ حرارت، بارشوں، خشک سالی اور سیلابی صورتحال کو متاثر کرتے ہیں؛ ایل نینو کے دوران کئی خطوں میں شدید گرمی اور خشک سالی جبکہ لا نینا کے دوران غیر معمولی بارشیں اور سردی میں اضافہ دیکھا جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں زراعت، پانی کے ذخائر، خوراک کی پیداوار اور معیشت براہِ راست متاثر ہوتی ہے ۔ اسی وجہ سے ماہرین موسمیات ان مظاہر کی نگرانی کر کے قبل از وقت موسم کی پیش گوئی کرتے ہیں تاکہ حکومتیں اور کسان ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کی حکمتِ عملی بنا سکیں۔اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم کے مطابق، سنہ 2015-16میں ال نینو کے نتیجے میں آنے والی خشک سالی اور سیلاب نے چھ کروڑ سے زائد افراد کی خوراک کو متاثر کیا تھا۔جب کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ال نینو کے عالمی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مستقبل میں یہ اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
آئی پی سی سی (IPCC) Intergovernmental Panel on Climate Change / بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی) اقوامِ متحدہ کا ایک سائنسی ادارہ ہے جو 1988 میں قائم کیا گیا تھا۔ (2021) کی رپورٹ کے مطابق اب تک دستیاب مشاہداتی سائنسی شواہد یہ واضح طور پر ثابت نہیں کرتے کہ 1950 کے بعد ال نینو اور لا نینا (ENSO) کے واقعات کی شدت یا تعداد میں کوئی مستقل یا قابلِ اعتماد اضافہ ہوا ہو۔ تاریخی موسمیاتی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ENSO کی سرگرمی مختلف ادوار میں قدرتی طور پر کم یا زیادہ رہی ہے ، تاہم چودھویں صدی یا اس سے پہلے کے ادوار کے بارے میں معلومات زیادہ تر بالواسطہ (غیر مستقیم) شواہد، جیسے درختوں کے حلقوں اور مرجان کے ریکارڈز پر مبنی ہیں، اس لیے وہ محدود اور غیر یقینی ہیں۔ آئی پی سی سی میں 1850 تا 1900 کے عرصے کو عموماً صنعتی دور کے ابتدائی حصے کے طور پر ایک حوالہ جاتی (ریفرنس) دور سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ اسی کے بعد سے باقاعدہ سائنسی اور آلاتی (انسٹرومنٹل) موسمیاتی ریکارڈ دستیاب ہونا شروع ہوا۔
موسمیاتی ماڈلز کے مطابق مستقبل میں عالمی حدت کے ساتھ بعض صورتوں میں شدید ال نینو اور لا نینا واقعات کے امکانات میں معمولی تبدیلی ممکن ہے ، تاہم اس حوالے سے سائنسی اعتماد ابھی کم درجے کا ہے ۔ مجموعی طور پر، موسمیاتی تبدیلی اور ENSO کے درمیان تعلق ابھی مکمل طور پر واضح اور حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔ اقوامِ متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کی چھٹی اسیسمنٹ رپورٹ (AR6, 20212022) کے مطابق اس بات پر کم درجے کا اعتماد (Low Confidence) موجود ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اب تک ال نینوجنوبی ارتعاش (ENSO) کی مجموعی تغیر پذیری کو واضح طور پر تبدیل کیا ہے ۔ اسی طرح مستقبل میں ENSO کے رویّے ، اس کی شدت یا تعدد (frequency) میں تبدیلی کے بارے میں بھی سائنسی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ، کیونکہ مختلف موسمیاتی ماڈلز یکساں نتائج فراہم نہیں کرتے ۔ تاہم رپورٹ کے مطابق عالمی حدت کے باعث ENSO سے منسلک شدید موسمی اثرات، خصوصاً شدید بارشوں اور خشک سالی کی شدت میں اضافہ ممکن ہے ، اگرچہ ENSO کے بنیادی پیٹرن میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی مضبوط سائنسی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
اسپارکو سمیت قومی اور بین الاقوامی موسمیاتی تجزیوں کے مطابق اس رجحان کے اثرات پاکستان کے موسم پر بھی پڑ سکتے ہیں، جن میں مون سون کے رویے میں تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور گرمی کی شدت میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح زرعی پیداوار اور آبی وسائل بھی موسمی تغیرات کے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔سائنسدانوں کے مشاہدات کے مطابق ال نینو کے دوران فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO) کے اضافے کی شرح میں عارضی اضافہ دیکھا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرم اور خشک موسمی حالات کے باعث پودوں کی نشوونما اور فوٹوسنتھیسز کم ہو جاتی ہے ، جس سے زمین کا قدرتی کاربن جذب کرنے والا نظام کمزور پڑ جاتا ہے ۔ اسی دوران بعض خطوں خصوصاً جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے ، جو بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ال نینو خود کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا نہیں کرتا بلکہ یہ زمین کے قدرتی کاربن توازن میں تبدیلی کے ذریعے فضا میں اس کی مقدار میں اضافے کا باعث بنتا ہے ۔بعض اوقات ایل نینو معمول سے کہیں زیادہ طاقتور صورت اختیار کر لیتا ہے ، جسے ماہرین موسمیات "سپر ایل نینو” (Super El Nio) کہتے ہیں۔ سپر ایل نینو کوئی الگ موسمی مظہر نہیں بلکہ ایل نینو کی ہی انتہائی شدید صورت ہے ، جس کے دوران وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت معمول سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور اس کے موسمی اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی واضح ہو رہے ہیں، اور اب ماہرین ایک اور بڑے موسمی رجحان سپر ایل نینو پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو 2026 میں عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے ۔ اس ممکنہ صورتِ حال نے سائنسدانوں اور موسمیاتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ، کیونکہ یہ نہ صرف گرمی کی شدت بڑھا سکتا ہے بلکہ بارشوں کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے ۔ گارڈین کی 24 اپریل 2026 کی رپورٹ کے مطابق سائنس دان اور موسمیاتی ادارے بحرالکاہل میں پیدا ہونے والی ان تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جو ایک ممکنہ سپر ایل نینو کی تشکیل کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ابھی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے ، تاہم ابتدائی شواہد اور بعض موسمیاتی ماڈلز اس امکان کو ظاہر کرتے ہیں کہ اگر سپر ایل نینو تشکیل پاتا ہے تو یہ ریکارڈ کے طاقتور ترین واقعات میں شمار ہو سکتا ہے ۔ گارڈین کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت کے ساتھ اس کے اثرات مل کر دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بعض موسمیاتی ماڈلز کے مطابق عالمی اوسط درجۂ حرارت عارضی طور پر صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے ، جبکہ بعض ماڈلز یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ درجۂ حرارت عارضی طور پر 2 ڈگری سیلسیس سے بھی تجاوز کر سکتا ہے ۔ تاہم رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ اندازے موسمیاتی ماڈلز اور سائنسی پیش گوئیوں پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں حتمی حقیقت نہیں بلکہ ممکنہ منظرنامے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔ڈگری سیلسیس (C) درجۂ حرارت ناپنے کی اکائی ہے جس سے زمین یا ماحول کی گرمی اور سردی کو ماپا جاتا ہے ، اور جب سائنس دان کہتے ہیں کہ عالمی اوسط درجۂ حرارت 1.5 یا 2 ڈگری سیلسیس بڑھ سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صنعتی دور (1800 کے بعد) کے مقابلے میں پوری زمین کا مجموعی اوسط درجۂ حرارت اس حد تک بڑھ سکتا ہے ، یہ اضافہ کسی ایک شہر یا وقتی موسم کی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مجموعی موسمی نظام میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں گرمی کی لہریں، بارشوں کے پیٹرن، خشک سالی اور دیگر موسمی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے ، اسی لیے 1.5C کو ایک اہم موسمیاتی حد سمجھا جاتا ہے جبکہ 2C یا اس سے زیادہ اضافہ زیادہ شدید اور وسیع ماحولیاتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے ، تاہم یہ تمام اندازے سائنسی ماڈلز پر مبنی امکانات ہیں نہ کہ یقینی نتائج۔
گارڈین 5 جون 2026 کی رپورٹ کے مُطابق اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ال نینو کی جلد واپسی اور اس کے ساتھ آنے والے بلند عالمی درجہ حرارت اور شدید موسمی اثرات کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ یہ طاقتور قدرتی موسمی نظام ستمبر سے پہلے بننے کا 80فیصد امکان رکھتا ہے ، جبکہ نومبر سے پہلے اس کے بننے کا امکان 90 فیصد ہے ، یہ بات ورلیڈ میٹرلو جیکل آرگنائزیشن نے بتائی۔ایشیا کو ان خطوں میں شامل کیا جا رہا ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی گرمی اور خشک سالی زراعت، بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے ۔اصل تشویش یہ ہے کہ ال نینو گرمی کی شدت میں اضافہ کر سکتا ہے اور آنے والے مون سون کو کمزور کر سکتا ہے یعنی وہ مہینے جن میں ہر سال جون کے آس پاس شدید بارشیں ہوتی ہیں اور پہلے ہی یہ پیشگوئی کی جا چکی ہے کہ بارشیں معمول سے کم رہیں گی۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال بھارت اور پورے برصغیر کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے ، جو پہلے ہی مہلک ہیٹ ویوز اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث توانائی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
اگر ال نینو کی وجہ سے بارشیں دیر سے آتی ہیں تو حالیہ ہفتوں سے جاری شدید گرمی کی لہر مزید طویل ہو سکتی ہے ، جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہوگی اور ممکنہ طور پر ہزاروں اموات تک کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ بارشوں کی کمی خاص طور پر کسانوں کے لیے تباہ کن ہوگی، کیونکہ وہ اپنی اگلی فصل کی کاشت کے لیے ان بارشوں پر انحصار کرتے ہیں۔ مئی کی گرمی کی لہر پہلے ہی گندم اور سرسوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا چکی ہے ، اور خدشہ ہے کہ ال نینو خشک سالی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور ملک میں غذائی تحفظ (food security) پر تشویش ناک اثر ڈال سکتا ہے ۔
دی گارڈین کی رپورٹ 24 اپریل 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں اس وقت پاکستان اور بھارت کے خطوں میں کئی شہر غیر معمولی طور پر شروع ہونے والی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔مختلف شہروں میں درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور رات کے اوقات میں بھی گرمی معمول سے زیادہ برقرار ہے ۔ ماہرین کے مطابق جون تک گرمی کی شدت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے ۔اسی پس منظر میں عالمی سطح پر سائنسدان بحرالکاہل میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جو ایل نینو کے ایک طاقتور مرحلے ، یعنی سپر ایل نینو میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ مختلف موسمیاتی ماڈلز کے مطابق یہ رجحان گزشتہ ایک صدی کے طاقتور ترین واقعات میں شامل ہو سکتا ہے ، اور 2026 کے دوران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے وسط تک موسمی حالات ایل نینو کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ سپر ایل نینو کی شکل اختیار کر گیا تو اس کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔سپر ایل نینو کی صورت میں گرمی کی لہر طویل اور زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے ، خاص طور پر رات کے وقت درجہ حرارت میں اضافہ لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ اس کے علاوہ مون سون کی بارشیں کم ہو سکتی ہیں، جس سے خشک سالی اور زرعی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ پہلے ہی سال کے ابتدائی مہینوں میں بارشیں معمول سے 60 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کے باعث پانی کی قلت اور بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی پیشگوئیوں میں کچھ غیر یقینی صورتِ حال موجود ہے ، لیکن اپریل کے بعد اندازے زیادہ واضح ہو جائیں گے ۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ اگر سپر ایل نینو واقع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کے موسم، معیشت اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے ۔طاقتور ال نینو کے نتیجے میں جنوب مشرقی ایشیا میں شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور فضائی آلودگی میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کے ذخائر میں کمی اور توانائی و صحت کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے ۔ زرعی پیداوار اور ہائیڈرو پاور کے شعبے اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہ ممالک جو اپنی معیشت کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ خشک سالی کے باعث چاول اور پام آئل جیسی اہم فصلوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ، جس سے خوراک کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے ۔ دیہی علاقوں میں جہاں پانی کے ذرائع پہلے ہی محدود ہیں، صورتحال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے اور آلودہ پانی کے استعمال سے صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے ، جبکہ خشک موسم جنگلاتی اور زرعی آگ کو بھڑکا کر بڑے شہروں تک دھوئیں اور آلودگی کے اثرات پہنچا سکتا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ عالمی موسمی دباؤ کے تناظر میں ال نینو کے اثرات زیادہ وسیع اور شدید ہو سکتے ہیں۔
٭٭٭


