سندھ بلڈنگ، ضلع وسطی میں پرانی عمارتوں پر اضافی منزلوں کا بوجھ
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 3کے پلاٹس F-11/6اور C-12/28پر غیر قانونی تعمیر ات
ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی مبینہ چشم پوشی سے تعمیراتی ٹھیکیداروں کے حوصلے بلند
کراچی کے علاقے وسطی، خصوصاً ناظم آباد نمبر 3 میں پرانی اور خستہ حال عمارتوں پر غیر قانونی طور پر اضافی منزلیں تعمیر کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے ، جس سے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔
روزنامہ جرأت سروے کے دوران کی گئی زیر نظر تصاویر میں زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر F-11/6 اور C-12/28 سمیت متعدد عمارتوں کی کمزور بنیادوں پر بالائی منزلوں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے ، جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیاں پرانی ان عمارتوں کی بنیادیں اضافی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، اس کے باوجود تعمیراتی ٹھیکیدار مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے نئی منزلیں تعمیر کر رہے ہیں۔
شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو کسی بھی وقت انسانی جانوں کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے ۔
موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کی مبینہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث غیر قانونی تعمیرات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی مبینہ عدم توجہی سے تعمیراتی ٹھیکیداروں کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں اور وہ بلاخوف و خطر قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
مکینوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ عمارتوں کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے ، غیر قانونی تعمیرات رکوائی جائیں اور ذمہ دار افسران و ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے قبل شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔
سندھ بلڈنگ


