پاکستان کے معاملات میں بھارتی مداخلت
شیئر کریں
گزشتہ چند روز سے ہندوستان بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ فاروق آباد شیخوپورہ میں سکھ برادری کے گوردوارے کو پاکستانیوں نے گرا کر قبضہ کر لیا ہے جبکہ حقیقتِ یہ ہے کہ یہ دھرم شالہ بیٹھک گزشتہ قیامِ پاکستان سے پہلے کی جس حالت میں تھی، اسی طرح قائم ہے اور اس کی ایک دیوار خستہ حال ہونے کی وجہ سے گر گئی تھی جس کو آج پاکستان کے تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کے قائدین نے جا کر دوبارہ تعمیر کے لیے افتتاح کر دیا۔پاکستان کے تمام مسالک اور مذاہب کے قائدین نے فاروق آباد کے دورہ پر یہ اعلان کیا کہ دھرم شالہ جس طرح دیوار کے گرنے سے پہلے تھی، اسی طرح باقی رہے گی اوگرے ہوئے حصے کی تعمیرِ نو ہوگی۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور پاکستان میں غیر مسلموں کو جو حقوق حاصل ہیں وہ دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔ پاکستان کے مسلمان اپنے غیر مسلم بھائیوں کے حقوق کے پاسبان ہیں اور حکومتِ پاکستان ہر طرح سے غیر مسلم برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی اور ان کی عبادات اور مقدس مقامات کا تحفظ ہر صورت کیا جائے گا۔
بھارت میں سکھوں کے ساتھ سلوک ایک پیچیدہ اور کثیر الجہت مسئلہ ہے۔ سکھ برادری بھارتی آبادی کا تقریباً 1.72 فیصد ہے اور وہ ملکی معیشت، زراعت اور فوج میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم، تاریخی اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے انہیں کئی چیلنجز کا سامنا بھی رہا ہے۔1984 میں ‘آپریشن بلیو اسٹار’ اور اس کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات سکھوں کی تاریخ کے دو انتہائی دردناک واقعات ہیں۔ ان واقعات میں جانی نقصان اور سکھوں کے مقدس ترین مقام ‘ہری مندر صاحب’ (گولڈن ٹیمپل) کی بے حرمتی کے اثرات آج بھی سکھ برادری کے ذہنوں پر تازہ ہیں۔ بہت سی عالمی تنظیمیں ان واقعات کو سکھوں کی نسل کشی قرار دیتی ہیں۔حالیہ برسوں میں، خالصتان تحریک کی حمایت کرنے والے سکھ کارکنوں پر ریاستی کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ عالمی کمیشن برائے مذہبی آزادی (USCIRF) اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔ بیرونِ ملک سکھ رہنماؤں، جیسے کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل، نے بھی بھارت اور سکھوں کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کیا۔آئینی طور پر سکھوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے، لیکن مذہبی قوانین (جیسے بے حرمتی کے نئے قوانین) پر سکھ تنظیموں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بعض اوقات اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ 1947 میں پاکستانی پنجاب میں اپنا گھر بار چھوڑ کر انڈیا جانے والے سکھ خاندانوں نے واپس پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ 50 سکھ خاندانوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں پاکستانی پنجاب میں رہنے کے لئے جگہ اوریہاں آنے کے لیے ویزے دیئے جائیں۔سیالکوٹ سے اپنا گھربار چھوڑ کر بھارت جانے والوں میں گربخش سنگھ کے آباؤاجداد بھی شامل تھے، یہ لوگ بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر کے علاقہ لطیف پورہ میں آباد ہوئے تاہم اب 74 برسوں بعد جالندھر امپورومنٹ ٹرسٹ نے سکھ خاندانوں کے 50 سے زائد گھر مسمار کردیئے اور گزشتہ ایک ماہ سے بزرگ، خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔شدید سردی کے موسم میں گھروں کے ملبے پر بیٹھے سکھ خاندانوں نے پاکستان حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں پاکستان کا ویزا دیا جائے اور وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی انہیں گھر بنانے کے لئے جگہ فراہم کریں۔گربخش سنگھ نے کہا کہ ان کے پاس رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، ان کی اوران کے بچوں کی پیدائش یہاں ہوئی اور اب یہ کہہ کر ان کے گھر مسمار کردیئے گئے ہیں کہ یہ جگہ ٹرسٹ کی ہے، بھارتی حکومت اگر ہمیں گھر نہیں دے سکتی تو ہمیں واپس پاکستان بھیج دیا جائے جہاں سے ان کے آباؤ اجداد آئے تھے۔
بھارتی حکومت کی طرف سے سکھ خاندانوں کے گھر مسمار کیے جانے کے بعد سے یہ لوگ احتجاجی دھرنا دیئے ہوئے ہیں اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہیں۔خالصہ ایڈ نے متاثرہ خاندانوں کو چند خیمے اورکھانے پینے کاسامان فراہم کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بھارتی پنجاب کی حکمران جماعت عام آدمی پارٹی کے سیاسی مخالفین بھی متاثرہ سکھ خاندانوں سے اظہاریکجہتی کررہے ہیں۔بھارت میں سکھوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک کے باعث یہ پہلا موقع ہے جب بھارتی سکھ خاندانوں نے واپس پاکستان آنے کی خواہش کااظہار کیا ہے۔
٭٭٭


