منجھی تھلے ڈانگ
شیئر کریں
پنجاب کی وزیر اطاعات نے کے پی کے میں نئی قانون سازی اور من پسند صحافیوں کے اسمبلی میں داخلے پر تبصرہ فرمایا تو مجھے وزیر اعظم
میاں شہبازشریف صاحب کا وہ منجھی تھلے ڈانگ پھیرنے والاتاریخی جملہ یاد آگیا جو انہوں نے فلور آف دی ہاؤس کہا تھا ۔میڈم وزیر کے
جملے سے پہلے کے پی کے اسمبلی کی قانون سازی پر بات کریں تو تحریک انصاف نے جب سیاست میں قدم رکھاتھا اس کا سب سے بڑا نعرہ
”تبدیلی”، ”شفافیت” اور ”اظہارِ رائے کی آزادی” تھا۔ کپتان بارہا کہتا رہا کہ ایک مضبوط جمہوریت میں آزاد میڈیا ریاست کی آنکھ اور
کان ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لاکھوں نوجوانوں نے ان کی سیاست کو امید کی علامت سمجھامگر آج جب خیبر پختونخوا میں ایسی قانون سازی
سامنے آ رہی ہے جس پر صحافی تنظیمیں، میڈیا ادارے اور انسانی حقوق کے حلقے سوال اٹھا رہے ہیں تو ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے ۔کیا واقعی
یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب عمران خان نے دکھایا تھا؟اگر کوئی قانون صحافیوں میں خوف پیدا کرے، اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کا
تاثر دے یا تنقید کو جرم بننے کے قریب لے جائے تو اس پر سوال اٹھانا ہر جمہوری شہری کا حق ہے۔ قانون سازی کا مقصد ریاست کو مضبوط
بنانا ضرور ہونا چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے یہ حقیقت ہے کہ جھوٹی خبریں،
کردار کشی اور غیر ذمہ دارانہ صحافت ایک مسئلہ ہیں لیکن ان کا حل ایسے قوانین نہیں ہونے چاہئیں جن سے آزاد صحافت دباؤ کا شکار محسوس
کرے ایک جمہوری حکومت کا حسن تنقید برداشت کرنے میں ہوتا ہے نہ کہ تنقید سے گھبرانے میں۔تحریک انصاف نے ہمیشہ دوسری
حکومتوں پر میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے الزامات لگائے۔ اگر آج اسی جماعت کی حکومت میں ایسے قوانین پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو پھر اس کا
جواب بھی اسی معیار پر دینا ہوگا جس معیار کا مطالبہ ماضی میں کیا جاتا تھا۔ اصول اگر اقتدار میں بدل جائیں تو وہ اصول نہیں رہتے ،صرف
سیاسی مؤقف بن جاتے ہیں۔
عمران خان آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ایک مقبول سیاسی رہنما ہیں ان کے حامی یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے نام پر بننے والا ہر قانون آزادی، انصاف اور شفافیت کی علامت ہوگا نہ کہ نئے تنازعات کو جنم دینے کا سبب۔جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے، سوال سننے اور جواب دینے کا بھی نام ہے۔ اگر صحافی خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، اگر میڈیا پر غیر ضروری قدغنوں کا تاثر پیدا ہو، تو اس سے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت تمام صحافتی تنظیموں، وکلا، سول سوسائٹی اور متعلقہ ماہرین کو اعتماد میں لے، متنازع شقوں پر کھلی بحث کرے اور ایسا قانون تشکیل دے جو نہ صرف جھوٹی معلومات کی روک تھام کرے بلکہ آئین کے تحت حاصل اظہارِ رائے اور آزادیِ صحافت کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ کرے اس قانون پر ازسرِنو غور کیا جائے کیونکہ اسی پر وزیرِ اطلاعات پنجاب نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں صحافیوں کے داخلے سے متعلق پابندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صرف پسندیدہ صحافیوں کو اسمبلی میں داخلے کی اجازت دی جائے اور ناپسندیدہ صحافیوں پر پابندی لگا دی جائے تو یہ آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہوگا۔ یہ بات سن کر یقیناً ہر وہ شخص خوش ہوگا جو آزاد صحافت پر یقین رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی ایک سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہی اصول پنجاب میں بھی نافذ ہیں؟
یہ کہنا آسان ہے کہ خیبر پختونخوا میں آزادی صحافت خطرے میں ہے لیکن مشکل کام اپنے گریبان میں جھانکنا ہے۔ کے پی کے حکومت نے تو صحافیوں کے اسمبلی میں داخلہ پر پابندی پر قانون سازی کی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں اسی طرح کی پابندی بغیر قانون سازی کے ہی چل رہی ہے۔ پسندیدہ صحافیوں کو آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے جبکہ باقی سب کا داخلہ بند ہے۔ حالانکہ پرانی بلڈنگ میں ایسا نہیں تھا ۔اصول کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ وہ ہر جگہ یکساں ہو۔ اگر پسند اور ناپسند کی بنیاد پر صحافیوں میں فرق کرنا خیبر پختونخوا میں آزادی صحافت پر حملہ ہے تو پھر یہی پیمانہ پنجاب پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ آزادی صحافت کا کوئی صوبائی ورژن نہیں ہوتا۔ صحافی کا حق پشاور میں بھی اتنا ہی مقدس ہے جتنا لاہور میں۔ مگربدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومتیں اپوزیشن میں ہوں تو صحافیوں کے حقوق کی سب سے بڑی علمبردار بن جاتی ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی تنقیدی سوالات ناگوار گزرنے لگتے ہیں۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات توباقی صوبوں کے وزرائے اطلاعات سے بھی بازی لے گئی ہیں کہ سب صحافی دوستوں کے سامنے سینئر صحافی کو باہر نکال دیتی ہیں جو کسی اور صوبے میں نہیں ہوتا۔یہی دوہرا معیار جمہوریت کو کمزور کرتا ہے حقیقت میں صحافت کا کام حکومتوں کی تعریف کرنا نہیں بلکہ عوام کے سوال ایوانوں تک پہنچانا ہے، اگر وزیرِ اطلاعات پنجاب واقعی آزادی صحافت کے لیے فکرمند ہیں تو انہیں صرف دوسرے صوبوں پر تنقید کرنے کے بجائے پنجاب
اسمبلی میں بھی ایسا ماحول یقینی بنانا چاہیے جہاں ہر صحافی کو بلا امتیاز رسائی حاصل ہو، چاہے اس کی رپورٹ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف، آزادی صحافت کا دفاع بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوتا ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں ایک مشترکہ اصول اپنائیں کیونکہ اسمبلی عوام کا ایوان ہے اور صحافی عوام کی آنکھ اور کان ۔ان کی رسائی کو پسند و ناپسند کی بنیاد پر محدود کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
اگر پنجاب اس اصول پر مکمل عمل درآمد کی مثال قائم کرے تو پھر خیبر پختونخوا سمیت کسی بھی دوسرے صوبے سے یہی مطالبہ زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد ہوگا لیکن اس سے پہلے وزیر اعظم کا منجھی تھلے ڈانگ پھیر والا جملہ بھی یاد رکھا جائے تاکہ آپ کی بات میں وزن ہو ۔
٭٭٭


