تعمیراتی لاقانونیت کی سرپرستی، اورنگ رضی ملوث
شیئر کریں
پارکنگ کے لیے مخصوص پلاٹ پر لطیف آباد یونٹ نمبر 7میں حبیب بینک کی عمارت تعمیر
قانونی تقاضے نظرانداز، شہریوں کا اصل لے آؤٹ پلان منظر عام پر لانے کا مطالبہ
لطیف آباد یونٹ نمبر 7میں قائم حبیب بینک کی عمارت ایک مرتبہ پھر عوامی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ پلاٹ ابتدائی ماسٹر پلان اور لے آؤٹ کے مطابق پارکنگ کے لیے مختص تھا، تاہم بعد ازاں اس کے استعمال میں تبدیلی کرکے کمرشل تعمیر کی اجازت دی گئی۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام حقائق سامنے آسکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پارکنگ کے لیے مختص اراضی کی حیثیت تبدیل کی گئی تو یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ یہ تبدیلی کن قانونی ضوابط، منظوریوں اور سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر عمل میں آئی۔
ان کے مطابق اصل لے آؤٹ پلان، کمرشلائزیشن کی منظوری، زمین کی الاٹمنٹ، بلڈنگ پلان کی منظوری اور دیگر متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔
اس معاملے پر مختلف شہری حلقے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، بلدیہ حیدرآباد اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عوامی مطالبات میں ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول اورنگزیب رضی کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ بھی شامل ہے ۔
اورنگ زیب رضی کا نام حیدر آباد میں تعمیراتی لاقانونیت کے سرپرست کے طور پر انتہائی بدنام ہو چکا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق رہائشی یا پارکنگ کے لیے مختص اراضی کا استعمال تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ قوانین کے تحت باقاعدہ منظوری، این او سی، نقشہ پاس کرانا اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، نیب، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کسی مرحلے پر کوئی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔
(نمائندہ جرأت)


