ملکی قرضوں میں 5 ہزار 904 ارب کا اضافہ ریکارڈ
شیئر کریں
مجموعی حجم 81 ہزار 949 ارب تک پہنچ گیا،آڈیٹر جنرل نے سوالات اٹھا دیے
رواں مالی سال سود کی ادائیگی 8 ہزار 54 ارب روپے رہنے کا تخمینہ،اسٹیٹ بینک
……
ملک کے مجموعی سرکاری قرضوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 5 ہزار 904 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،
جس کے بعد وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا قرضوں کا مجموعی حجم بڑھ کر 81 ہزار 949 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
قرضوں میں اضافے اور ان کے انتظام کے حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال مئی کے اختتام پر مجموعی سرکاری قرضہ 76 ہزار 45 ارب روپے تھا، جو ایک سال کے دوران بڑھ کر 81 ہزار 949 ارب روپے ہو گیا۔
رواں مالی سال حکومت کی جانب سے قرضوں پر سود کی مد میں تقریباً 8 ہزار 54 ارب روپے ادا کیے جانے کا تخمینہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقامی قرضوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 4 ہزار 647 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کا حجم 53 ہزار 460 ارب روپے سے بڑھ کر 58 ہزار 107 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
اسی عرصے میں بیرونی قرضوں میں بھی ایک ہزار 257 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کے ذمے شارٹ ٹرم بیرونی قرضہ ایک سال قبل 201 ارب روپے تھا، جو بڑھ کر 2 ہزار 692 ارب روپے تک جا پہنچا۔ اس طرح صرف ایک سال کے دوران قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں 2 ہزار 491 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضوں، خصوصاً قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں تیز رفتار اضافے سے مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کے پائیدار انتظام اور مستقبل کی ادائیگیوں کے حوالے سے چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


