موبائل سروسز کا بحران اور مہنگے پیکجز، کمزور انٹرنیٹ ورک کا عذاب۔۔ موبائل کمپنیوں کی من مانیاں
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
٭ جدید دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ محض رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ یہ تعلیم، تجارت، بینکاری، صحت، سرکاری خدمات، روزگار، آن لائن کاروبار اور سماجی روابط کا بنیادی ستون بن چکے ہیں
٭مصنوعی ذہانت، فائیو جی ٹیکنالوجی، ای گورننس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہو رہا ہے ، لیکن پاکستان میں عام صارف اب بھی انٹرنیٹ سہولتوں کے حصول کے لیے پریشان نظر آتا ہے
٭موبائل کمپنیوں کی جانب سے پیکجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور خدمات کے معیار میں مسلسل گراوٹ نے صارفین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے
٭ مختلف کمپنیوں نے اپنے ہفتہ وار، ماہانہ اور آل اِن ون پیکجز کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کیا ہے ، کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جو پیکیج پہلے چند سو روپے میں دستیاب تھا، آج اس کی قیمت نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کے جدید دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ محض رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ یہ تعلیم، تجارت، بینکاری، صحت، سرکاری خدمات، روزگار، آن لائن کاروبار اور سماجی روابط کا بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے ، مصنوعی ذہانت، فائیو جی ٹیکنالوجی، ای گورننس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہو رہا ہے ، لیکن پاکستان میں عام صارف اب بھی بنیادی موبائل اور انٹرنیٹ سہولتوں کے حصول کے لیے پریشان نظر آتا ہے۔
ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، دوسری طرف موبائل کمپنیوں کی جانب سے پیکجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور خدمات کے معیار میں مسلسل گراوٹ نے صارفین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں گزشتہ کئی ماہ سے موبائل نیٹ ورک کی خراب صورتحال عوام کے لیے ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے ۔ کمزور سگنلز، بار بار کال ڈراپ، پہلی کوشش میں کال کا کنیکٹ نہ ہونا، انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار، ویڈیو کالز کا منقطع ہونا، فائلوں کی ڈاؤن لوڈنگ میں غیر
معمولی تاخیر اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران موبائل نیٹ ورک کا تقریباً مفلوج ہو جانا معمول بن چکا ہے ۔
متعدد علاقوں میں صارفین گھنٹوں تک انٹرنیٹ سے محروم رہتے ہیں، جس کے باعث آن لائن بینکاری، ای کامرس، تعلیمی سرگرمیاں، سرکاری آن لائن خدمات اور کاروباری لین دین شدید متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا جہاں فائیو جی ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے ، وہاں کراچی اور حیدرآبادجیسے اہم تجارتی شہروں کے شہری معیاری اور بلا تعطل فور جی سروس سے بھی محروم ہیں۔
صارفین کی شکایات صرف نیٹ ورک تک محدود نہیں بلکہ موبائل پیکجز کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی شدید تشویش کا باعث ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران مختلف کمپنیوں نے اپنے ہفتہ وار، ماہانہ اور آل اِن ون پیکجز کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کیا ہے ۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جو پیکیج پہلے چند سو روپے میں دستیاب تھا، آج اس کی قیمت نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے ، جبکہ بعض صورتوں میں ڈیٹا کی مقدار بھی کم کر دی گئی ہے ۔ یوں صارف پہلے سے زیادہ رقم ادا کرنے کے باوجود پہلے جیسی سہولت بھی حاصل نہیں کر پا رہا۔
ریچارج کارڈ پہلے عام پرچون کی دکانوں، جنرل اسٹورز اور کریانہ اسٹورز پر بآسانی دستیاب تھے ، جس سے صارفین کو موبائل بیلنس اور انٹرنیٹ پیکجز حاصل کرنے میں بڑی سہولت میسر تھی۔ مگر اب یہ سہولت محدود ہو کر فرنچائز سینٹرز تک سمٹ گئی ہے ، جہاں سے پیکجز اور ڈیٹا لوڈ کروانا پڑتا ہے ۔
بعض علاقوں میں ان فرنچائزز کا فاصلہ کافی زیادہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ معمولی سی تاخیر یا لاپرواہی کے باعث مقررہ وقت گزر جانے پر قیمتی انٹرنیٹ ڈیٹا بھی ضائع ہو جاتا ہے ، جو عوام کے لیے ایک مستقل پریشانی کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اس کے نتیجے میں خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں کے صارفین سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں فرنچائزز کی دستیابی محدود ہے اور سفری اخراجات بھی اضافی بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام صارف کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ موبائل کمپنیوں کی سروسز پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کیوں پہلے جیسی سہولت دوبارہ عام پرچون سطح تک نہیں لائی جا رہی۔
عوامی سطح پر یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ ریچارج کارڈ اور فوری پیکیج ایکٹیویشن کی سہولت دوبارہ مقامی دکانوں تک بحال کی جائے تاکہ صارفین کو غیر ضروری پریشانی اور وقت کے ضیاع سے بچایا جا سکے ۔بازار میں ریچارج کارڈ بھی اکثر مقررہ قیمت سے زیادہ نرخ پر فروخت کیے جاتے ہیں، جبکہ مختلف ٹیکسوں اور کٹوتیوں کے بعد صارف کو اپنی ادا کردہ رقم کا مکمل فائدہ نہیں ملتا۔ ایک طرف مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے ، دوسری طرف موبائل اخراجات میں مسلسل اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک نئے مالی بوجھ کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مہنگے پیٹرول اور بڑھتے ہوئے سفری اخراجات نے موبائل فون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دی ہے ۔ پہلے لوگ معمولی کاموں کے لیے ایک دوسرے سے ملنے چلے جاتے تھے ، لیکن اب زیادہ تر رابطہ موبائل فون کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے ۔ عزیز و اقارب کی خیریت دریافت کرنا، کاروباری معاملات طے کرنا، طلبہ کا تعلیمی رابطہ، مریضوں سے متعلق معلومات حاصل کرنا، سرکاری امور نمٹانا، بینکنگ خدمات استعمال کرنا اور روزگار سے وابستہ متعدد سرگرمیاں موبائل اور انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر یہی بنیادی سہولت مہنگی بھی ہو اور ناقص بھی، تو عام آدمی کے لیے مشکلات کا بڑھنا فطری امر ہے ۔
حیدر آباد کی تاجر برادری نے بھی اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقص موبائل سروسز نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے ۔ ان کے مطابق موبائل اور انٹرنیٹ آج تجارت، بینکاری، ای کامرس، تعلیم اور صحت سمیت ہر شعبے کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ اگر نیٹ ورک بار بار بند ہو یا انٹرنیٹ سست ہو جائے تو کاروباری لین دین، آن لائن ادائیگیاں اور صارفین سے رابطہ شدید متاثر ہوتا ہے ، جس سے معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران متعدد موبائل ٹاورز کی کارکردگی متاثر ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کئی مقامات پر مناسب بیک اپ پاور کا انتظام موجود نہیں۔ نتیجتاً صارفین کو گھنٹوں تک انتہائی سست رفتار یا مکمل بند انٹرنیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ یہ صورتحال اس دور میں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں جب حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی بات کر رہی ہو۔ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ موبائل کمپنیوں نے خاموشی سے بعض پیکجز میں شامل ڈیٹا کم کر دیا ہے جبکہ قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ اسی طرح مختلف سوشل میڈیا یا مخصوص اوقات کے پیکجز کی شرائط بھی اس انداز سے تبدیل کی جاتی ہیں کہ عام صارف کو مکمل معلومات حاصل نہیں ہوتیں۔ اس کے نتیجے میں صارف توقع سے زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ شفافیت کا فقدان بھی صارفین کے عدم اطمینان کی ایک بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے ۔
پاکستان میں لاکھوں نوجوان فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، آن لائن تدریس اور دیگر انٹرنیٹ پر مبنی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کے لیے تیز رفتار اور مستحکم انٹرنیٹ کسی سہولت کا نہیں بلکہ روزگار کا مسئلہ ہے ۔ اگر انٹرنیٹ بار بار بند ہو یا رفتار انتہائی سست ہو تو ان کے بین الاقوامی منصوبے ، آن لائن اجلاس اور وقت پر کام کی فراہمی متاثر ہوتی ہے ، جس سے نہ صرف ان کی آمدنی کم ہوتی ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے ۔بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث موبائل فون پر انٹرنیٹ کا رجحان بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے طلبہ میں موبائل انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن تعلیم، ویڈیو لیکچرز، ڈیجیٹل اسائنمنٹس اور تعلیمی پورٹلز کا استعمال معمول بن چکا ہے ۔
ہزاروں طلبہ روزانہ موبائل ڈیٹا کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں، لیکن جب انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہوں اور رفتار بھی غیر تسلی بخش ہو تو ان کے لیے تعلیم جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ہر ماہ مہنگا انٹرنیٹ پیکیج خریدنا آسان نہیں، جس کا براہِ راست اثر بچوں کی تعلیم پر پڑتا ہے ۔دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے ۔ وہاں براڈ بینڈ یا فائبر آپٹک جیسی متبادل سہولتیں محدود ہیں، اس لیے لوگ مکمل طور پر موبائل ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔ جب موبائل سگنلز کمزور ہوں، انٹرنیٹ سست ہو اور پیکجز مہنگے ہوتے جائیں تو دیہی آبادی تعلیم، معلومات، صحت، سرکاری خدمات اور روزگار کے مواقع سے مزید دور ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اس طرح شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق مسلسل بڑھ رہا ہے ، جو مستقبل میں ایک بڑا سماجی اور معاشی مسئلہ بن سکتا ہے ۔
موبائل کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ بجلی کے نرخ، ڈالر کی قدر میں اضافہ، نیٹ ورک کی دیکھ بھال، اسپیکٹرم فیس، جدید آلات کی درآمد اور دیگر آپریشنل اخراجات میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں نظرثانی ناگزیر ہے ۔ یہ دلائل اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن صارفین کا بھی یہ حق ہے کہ اگر وہ زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں تو انہیں معیاری، مستحکم اور تیز رفتار سروس بھی فراہم کی جائے ۔ صرف قیمتیں بڑھانا اور خدمات کے معیار کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ایک اور اہم مسئلہ موبائل ریچارج پر مختلف ٹیکسوں اور کٹوتیوں کا ہے ۔ صارف جب اپنے موبائل میں بیلنس لوڈ کرتا ہے تو مختلف ٹیکسوں اور سروس چارجز کی وجہ سے اس کی ادا کی گئی رقم کا ایک حصہ کٹ جاتا ہے ۔ اس کے بعد جب وہ اسی بیلنس سے کوئی پیکج خریدتا ہے تو اس پر بھی مختلف شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ یوں عام صارف کو اپنی ادا کردہ رقم کا مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا، جس پر عوام کی جانب سے بارہا اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
آج پاکستان ڈیجیٹل معیشت، ای گورننس، ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن کاروبار کو فروغ دینے کی بات کر رہا ہے ۔ حکومت کی متعدد خدمات بھی آن لائن منتقل کی جا رہی ہیں، جبکہ بینکاری کا بڑا حصہ موبائل ایپس پر منتقل ہو چکا ہے ۔ ایسے میں اگر انٹرنیٹ مہنگا اور غیر مستحکم ہوگا تو ان تمام منصوبوں کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔ ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد صرف جدید پالیسیاں نہیں بلکہ سستا، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ بھی ہے ۔اس صورتحال میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے ۔ ریگولیٹری ادارے کو چاہیے کہ وہ موبائل کمپنیوں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لے ، نیٹ ورک کے معیار کی نگرانی کرے ، صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائے اور قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے مکمل شفافیت پیدا کرے ۔ اسی طرح کمپنیوں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ اپنے نیٹ ورک انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، موبائل ٹاورز کے لیے مؤثر بیک اپ پاور سسٹم نصب کریں اور سروس کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق بہتر بنائیں۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت تصور کرتے ہوئے اس شعبے پر عائد ٹیکسوں کا ازسرِنو جائزہ لے ۔ طلبہ، اساتذہ، فری لانسرز اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی رعایتی پیکجز متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح دور دراز علاقوں میں نیٹ ورک کی توسیع اور معیار کی بہتری کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ملک کا ہر شہری یکساں ڈیجیٹل سہولت سے فائدہ اٹھا سکے ۔ٹیلی کام کمپنیوں کو بھی صرف منافع پر توجہ دینے کے بجائے صارفین کے اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے ۔ پیکجز کی شرائط کو واضح بنایا جائے ، ڈیٹا کی مقدار اور قیمتوں کے بارے میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے ، پوشیدہ چارجز کا خاتمہ کیا جائے اور نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی جائے ۔ صارف ہی کسی بھی ادارے کا اصل سرمایہ ہوتا ہے ، اس لیے اس کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہر کمپنی کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ اب عیش و عشرت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ تعلیم، صحت،
کاروبار، بینکاری، روزگار اور سرکاری خدمات کا ایک بڑا حصہ انہی سہولتوں پر انحصار کرتا ہے ۔ اگر عام شہری مہنگے پیکجز خریدنے کے باوجود
ناقص سروس حاصل کرے گا تو یہ نہ صرف صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، متعلقہ وزارتیں اور تمام موبائل کمپنیوں کو اس مسئلے کو محض کاروباری معاملہ سمجھنے
کے بجائے قومی اہمیت کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے ۔ صارفین کو ان کے ادا کردہ معاوضے کے مطابق معیاری، سستی، تیز رفتار اور بلا تعطل خدمات
فراہم کرنا ہی ایک حقیقی ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ اگر بروقت اصلاحات نافذ کی جائیں تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت بھی مضبوط ہوگی، جو آنے والے برسوں میں قومی ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں
اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔
٭٭٭


