میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مایوسی یا امید؟

مایوسی یا امید؟

جرات ڈیسک
بدھ, ۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

قومیں مایوسی سے نہیں، امید سے بنتی ہیں۔ جب کسی قوم کے دل سے امید نکل جائے تو اس کے ہاتھ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں،

اس کی آنکھیں مستقبل دیکھنا بھول جاتی ہیں، اور اس کے قدم منزل کی طرف بڑھنے کے بجائے ماضی کے ملبے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ مایوسی انسان
سے صرف اس کی مسکراہٹ نہیں چھینتی، بلکہ اس کے خواب، اس کی ہمت اور اس کی جدوجہد بھی نگل لیتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے، قومیں اس وقت تباہ نہیں ہوتیں جب ان پر مشکلات آتی ہیں، بلکہ اس وقت بکھر جاتی ہیں جب وہ یقین کر لیتی ہیں کہ اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو شکایتیں بہت ہیں، مسائل بے شمار ہیں، اور پریشانیاں بھی کم نہیں۔ ہر محفل میں حالات کا رونا
ہے ، ہر گفتگو میں ناامیدی کا ذکر ہے ، اور ہر دوسرے شخص کی زبان پر یہی جملہ ہے کہ ‘‘اب اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا’’۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا
کبھی کسی قوم نے صرف شکووں سے ترقی کی ہے ؟ کیا صرف مایوسی پھیلانے سے کوئی معاشرہ سنور گیا؟ اگر جواب ‘‘نہیں ’’ہے ، تو پھر ہمیں
یہ بھی ماننا ہوگا کہ قوموں کی تعمیر کا پہلا پتھر امید ہوتی ہے ، کیونکہ امید ہی وہ طاقت ہے جو تھکے ہوئے قدموں کو دوبارہ سفر پر آمادہ کرتی ہے اور
ناممکن دکھائی دینے والے راستوں کو ممکن بنا دیتی ہے ۔

ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے ۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم کے بعد کھنڈر بن چکا تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گر چکے تھے ،
صنعتیں تباہ تھیں، معیشت زمین بوس تھی، اور دنیا سمجھ رہی تھی کہ یہ ملک شاید کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے ۔ مگر جاپانی قوم نے مایوسی کو اپنی
تقدیر ماننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے امید کا دامن تھاما، علم کو ہتھیار بنایا، محنت کو شعار بنایا، اور چند ہی دہائیوں میں دنیا کی ترقی یافتہ ترین
معیشتوں میں شامل ہو گئے ۔جنوبی کوریا کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ ایک وقت تھا جب غربت، جنگ اور تباہی اس کا مقدر سمجھی جاتی
تھی۔ وسائل محدود تھے ، مشکلات بے شمار تھیں، لیکن قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ حالات ان کی منزل کا تعین نہیں کریں گے ۔ انہوں نے تعلیم،
تحقیق اور مسلسل محنت کو اپنا راستہ بنایا، اور آج وہی ملک ٹیکنالوجی، صنعت اور اختراع کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے ۔جرمنی بھی دو
عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں سے گزرا۔ شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے ، معیشت ٹوٹ گئی، اور مستقبل دھندلا دکھائی دیتا تھا۔ لیکن جرمن قوم نے مایوسی
کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے ۔ انہوں نے نظم، دیانت داری، قانون کی پاسداری اور انتھک محنت کے ذریعے اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کیا۔

آج جرمنی دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتا ہے ۔تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے ۔ قوموں کی قسمت وسائل سے پہلے سوچ بدلتی
ہے۔ جب امید زندہ ہو، جب عزم باقی ہو، جب لوگ یہ یقین رکھتے ہوں کہ کل آج سے بہتر ہو سکتا ہے ، تب شکست بھی کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہے ۔ لیکن جہاں مایوسی دلوں میں گھر کر جائے ، وہاں بہترین وسائل بھی قوموں کو آگے نہیں لے جا سکتے ۔اب ذرا اپنے گریبان
میں بھی جھانک کر دیکھتے ہیں۔ ہم نے جانے کب سے مایوسی کو حقیقت پسندی کا دوسرا نام بنا لیا ہے ۔ اگر کوئی نوجوان کوئی نیا خواب دیکھے تو
اسے کہا جاتا ہے ، ‘‘یہاں کچھ نہیں رکھا’’۔ اگر کوئی نیکی کی بات کرے تو جواب ملتا ہے ، ایک آدمی کے کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟ اگر کوئی
ملک، معاشرے یا آنے والے کل کے بارے میں اچھی امید کا اظہار کرے تو اسے سادہ لوح سمجھ لیا جاتا ہے ۔ گویا ہم نے خود اپنے ذہنوں
پر یہ دروازہ بند کر دیا ہے کہ تبدیلی ممکن بھی ہو سکتی ہے ۔یاد رکھیے ، امید کا مطلب یہ نہیں کہ مسائل سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔ امید کا
مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر چیز کو کامل قرار دے دیا جائے ۔ امید دراصل یہ یقین ہے کہ مسئلہ جتنا بھی بڑا ہو، انسان کی نیت، محنت اور اجتماعی شعور
اس سے بڑا ہو سکتا ہے ۔ یہی یقین قوموں کو شکست کے بعد دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ایک استاد جب اپنے طالب علم کو یہ احساس دلاتا
ہے کہ تم آگے بڑھ سکتے ہو، وہ امید بو رہا ہوتا ہے ۔ ایک ماں جب اپنے بچوں کو اچھے اخلاق اور بڑے خوابوں کی تربیت دیتی ہے ، وہ امید
کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے ۔ ایک ایماندار مزدور، ایک دیانت دار سرکاری ملازم، ایک انصاف پسند جج، ایک مخلص صحافی اور ایک ذمہ دار
شہری۔ یہ سب اپنے اپنے حصے کی امید کو زندہ رکھتے ہیں۔ قومیں کسی ایک ہیرو کے سہارے نہیں بنتیں، بلکہ لاکھوں ایسے گمنام کرداروں کے
اخلاص سے بنتی ہیں جو ہر روز خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتے ہیں،اس لیے اگر ہم واقعی اپنے ملک، اپنے معاشرے اور اپنی آنے والی نسلوں
کے لیے بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں مایوسی پھیلانے کے بجائے امید پھیلانی ہوگی، شکایتوں کے بجائے کردار کو مضبوط کرنا ہوگا، اور یہ
یقین پیدا کرنا ہوگا کہ ایک اچھا قدم، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، تبدیلی کی ابتدا بن سکتا ہے ۔

آخر میں بس اتنا عرض ہے کہ قوموں کی تقدیر صرف پارلیمنٹ کی عمارتوں میں نہیں لکھی جاتی، وہ اسکولوں کے کمروں، گھروں کی تربیت،
کھیتوں، کارخانوں، عدالتوں، ہسپتالوں، دکانوں اور ان لاکھوں انسانوں کے کردار میں لکھی جاتی ہے جو ہر صبح یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ مایوسی
کا حصہ بنیں گے یا امید کا۔آج ہمیں اپنے حالات پر آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے یہ یقین
پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر تاریخ کی بے شمار قومیں راکھ سے اٹھ کر دنیا کی قیادت کر سکتی ہیں تو ہم بھی اپنا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں۔
شرط صرف ایک ہے ۔ ہم ناامیدی کو اپنی سوچ پر حکومت نہ کرنے دیں۔یاد رکھیے ! مایوسی انسان کے ہاتھ باندھ دیتی ہے ، جبکہ امید انہی
ہاتھوں میں تعمیر کی طاقت رکھ دیتی ہے ۔ مایوسی دروازے بند ہونے کا اعلان کرتی ہے ، مگر امید نئی کھڑکیاں تلاش کر لیتی ہے ۔ مایوسی شکست کو
مقدر مان لیتی ہے ، جبکہ امید ہر شکست میں ایک نئی ابتدا تلاش کرتی ہے ۔اس لیے آئیے !! آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنے حصے کی امید کو زندہ
رکھیں گے ۔ اپنے بچوں کو خواب دیکھنا سکھائیں گے ، نوجوانوں کو حوصلہ دیں گے ، اچھے کردار کو فروغ دیں گے اور ہر اس آواز کا ساتھ دیں
گے جو معاشرے میں روشنی، یقین اور مثبت سوچ پیدا کرتی ہے ۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ‘‘ قومیں مایوسی سے نہیں، امید سے بنتی ہیں ’’۔ اور
جب ایک قوم امید کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو تاریخ اس کے لیے نئے باب لکھنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں