تم بھی، بروٹس؟
شیئر کریں
کسی نے کہا، تمہیں گرانے والے وہی نمک حرام نکلیں گے ، جنہیں تم نے اپنے دسترخوان پر جگہ دی ہوتی ہے ۔
سن 44 قبل مسیح کا روم دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریہ تھا، اور اس کا سب سے طاقتور شخص جولیس سیزر تھا۔ برسوں کی خانہ جنگیوں کے بعد سیزر نے اپنے مخالفین کو شکست دی، لیکن اس کی عظمت صرف جنگی فتوحات میں نہیں تھی، اس نے شکست کھانے والوں کے لیے سیزر کی سیاسی معافی کی پالیسی اپنائی۔ وہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کی بجائے معاف کر دیتا، انہیں دوبارہ عہدے دیتا اور اپنے قریب رکھتا تھا۔ انہی معاف کیے گئے لوگوں میں بروٹس بھی شامل تھا۔ بروٹس ایک معزز رومی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ خانہ جنگی میں وہ ابتدا میں سیزر کے مخالف دھڑے کے ساتھ تھا، لیکن شکست کے بعد سیزر نے نہ صرف اسے معاف کیا بلکہ اس پر اتنا اعتماد کیا کہ اسے اہم سرکاری مناصب دیے ۔
بعض رومی مؤرخین کے مطابق سیزر اسے مستقبل کے بڑے رہنماؤں میں شمار کرتا تھا۔ لیکن روم کے بااثر سینیٹروں کا ایک گروہ سیزر کے بڑھتے ہوئے اختیار سے خوف زدہ تھا۔ انہیں اندیشہ تھا کہ وہ جمہوریہ کو ختم کرکے بادشاہ بن جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک خفیہ سازش تیار کی۔ اس سازش میں تقریباً ساٹھ افراد شامل تھے ، اور بروٹس بھی ان میں شامل ہوگیا۔ 15مارچ 44قبل مسیح، جسے رومی تقویم میں "Ides of March” کہا جاتا تھا، سیزر سینیٹ کے اجلاس میں پہنچا۔ جیسے ہی وہ اپنی نشست پر بیٹھا، سازشی اس کے گرد جمع ہوگئے ۔ پہلے ایک شخص نے درخواست دینے کے بہانے اسے پکڑا، پھر دوسرے نے خنجر نکالا، اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد سینیٹر اس پر ٹوٹ پڑے ۔ قدیم مؤرخین کے مطابق سیزر کے جسم پر 23 زخم آئے ۔ روایت ہے کہ جب سیزر نے بروٹس کو بھی خنجر اٹھائے دیکھا تو وہ حیرت سے رک گیا۔ اسی واقعے سے وہ مشہور جملہ منسوب ہوا۔ "تم بھی، بروٹس "۔ اس واقعے کی حقیقت مسلم ہے کہ سیزر نے جس شخص پر اعتماد کیا، وہی اس کے قاتلوں میں شامل تھا۔ اسی لیے "تم بھی، بروٹس؟ "آج بھی دنیا بھر میں اپنے قریبی، محسن یا دوست کی بے وفائی اور اعتماد شکنی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ سیزر نے بروٹس کو عزت، عہدہ اور اعتماد دیا۔ لیکن جب سینیٹ میں سازش ہوئی تو بروٹس بھی غداروں میں نکلا۔جس طرح کوئٹہ میں 27جون کو قتل ہونے والے کابل جان ہوٹل کے مالک کے قتل کو پولیس نے کاروباری شراکت داری کا تنازع، پیشہ ورانہ رقابت کو ممکنہ محرک قرار دیا۔
یہ ایک تلخ سماجی اور تاریخی حقیقت ہے کہ اکثر قریبی، دوست نما دشمن، یا دسترخوان پر ساتھ کھانے والے ہی بعض اوقات گہرا نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کے راز، کمزوریوں اور روزمرہ کی روٹین سے مکمل باخبر ہوتے ہیں۔ آپ کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے وہ جانتے ہیں کہ آپ کو کس جگہ پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ۔ آپ کے بہت سارے راز اور کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں۔ اکثر مفادات کی جنگ میں قریبی لوگ ہی موقع پرست نکلتے ہیں۔ وہی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں۔ تاریخ اور معاشرے میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جہاں اپنوں کی نیت بدل جانے سے بڑے بڑے نقصان اٹھانے پڑتے ہیں۔لوگ دھوکہ کیوں دیتے ہیں ؟ پہلی وجہ ضرورت سے زیادہ نرم دِل، نیک اور سادہ ہونا۔ کچھ سادہ لوح لوگ آنکھیں بند کرکے ہر بات پر یقین کرتے ہیں۔ دوسروں کی میٹھی باتوں اور جھوٹی تعریفوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اصل کامیاب انسان وہ ہوتا ہے ۔ جو ہر بات کو تاریخ، ماضی، حال کے حالات اور اپنے تجربات کی جانچ پڑتال کی نظر سے دیکھتا ہے ۔
دوسری بڑی وجہ لالچ ہے ۔ لالچ کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ جیسے بغیر محنت کے دولت مند ہونے کی خواہش،تیسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد کچھ ایسے چالاک لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں اتنی مہارت سے دھوکہ دیتے ہیں۔ کہ ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے سامنے نیکی کا ایسا چہرہ دکھاتے ہیں۔ کہ ہم ان پر دِل و جان سے اعتبار کر بیٹھتے ہیں۔
آخری اور سب سے بڑی اہم وجہ، خود کو نہ جاننا۔ ہمیں اپنے بارے میں سچی معلومات ہی نہیں ہوتی ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے ، نیک، طاقتور، خوبصورت، قابل، باصلاحیت اور اہم شخصیت ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ہماری تعریف کر دے ۔ ہم اس کے گرویدہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی عادت ہی نہیں ہوتی ہے ۔ اگر خود کو پہچان لیں۔ اپنی کمزوریوں کو جان لیں۔ تو نہ کوئی جھوٹی تعریف آپ کو بھکائے گی۔ نہ کوئی چالاک انسان آپ کو اپنی چال کے جال پھنسا سکے گا۔
٭٭٭


