میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بلدیہ عظمیٰ، 30 متنازع ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مکمل ادائیگی کا انکشاف

بلدیہ عظمیٰ، 30 متنازع ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مکمل ادائیگی کا انکشاف

جرات ڈیسک
منگل, ۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

دس دس اسکیموں کے تین تین ٹینڈرز کی شفافیت پر مختلف کنٹریکٹرز کے تحفظات

محکمہ پارک کے افسران پرخلاف قواعد منظور نظر ٹھیکیداروں کو نوازنے کے الزامات

عدالتی حکم امتناعی کے باوجود بلدیہ عظمی کراچی کے محکمہ پارک اینڈ ہارٹیکلچر کی جانب سے 30متنازع ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مکمل ادائیگی کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ پارک کے قریبی ذرائع کے مطابق 10,10اسکیموں کے تین ٹینڈرز کیے گئے تھے ٹینڈرز کی شفافیت پر مختلف کنٹریکٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے،نیب اور اینٹی کرپشن سمیت مختلف اداروں کو تحریری شکایات کیں اور عدالت سے رجوع کیا،میسرز کامران انٹرپرائز نے اپنے وکیل نہال ہاشمی ایڈوکیٹ(گورنر سندھ) اور بیرسٹر نصیر ہاشمی کی توسط سے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ پارک کے افسران پر منظور نظر ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا، خاص طور پر ایسے کنٹریکٹرز کو بھی نوازاگیا جو ایس آر بی کے نادہندہ تھے تاہم اسٹے کے باوجود محکمہ پارک نے ان اسکیموں کی مبینہ طور پر ادائیگی کردی۔ اس سلسلے میں میسرز کامران انٹرپرائززعبدالغفار کا کہنا ہے کہ الحمداللہ ہمارا اسٹے آرڈر اب بھی برقرار ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل پارک جنید اللہ خان کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ واضح رہے ان ٹینڈرز پر سنگین تحفظات کے بعد محکمہ بلدیات نے ڈی جی پارک جنید اللہ خان، ڈائریکٹر راحیل اور اکاؤنٹنٹ زوہیب مگسی کا تبادلہ کردیا تھا تاہم تینوں افسران واپس محکمہ پارک میں اپنی تعیناتی کرانے میں کامیاب ہوگئے۔
بلدیہ عظمیٰ


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں