ایف آئی اے کا ملیر پاسپورٹ آفس میں چھاپا،7 ملزمان گرفتار
شیئر کریں
کرپشن، رشوت ستانی اور غیر قانونی پاسپورٹ پراسیسنگ کا منظم نیٹ ورک بے نقاب
ملزمان شہریوں سے 4 ہزار سے 5 ہزار تک رشوت وصول کرتے تھے، ابتدائی تحقیقات
……………………………………………………..
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کراچی نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ریجنل پاسپورٹ آفس ملیر میں سرگرم کرپشن، رشوت ستانی اور غیر قانونی پاسپورٹ پراسیسنگ کے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے ملیر پاسپورٹ آفس پر کاروائی کرتے ہوئے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔ملزمان میں محمد عامر ولد محمد حسن، محمد عتیق ولد محمد رفیق، سید مختیار علی ولد سید قاسم علی، شیخ مقصود علی ولد شیخ پیار علی (ایجنٹس)، نوید علی ولد وحید علی (ڈیٹا انٹری آپریٹر، ریجنل پاسپورٹ آفس ملیر)، محمد عاطف ولد اشتیاق احمد (ایل ڈی سی؍فوٹوگرافر، ریجنل پاسپورٹ آفس ملیر) اور ظفر علی ولد افتخار (سیکیورٹی گارڈ، ڈریگن سیکیورٹی کمپنی، تعینات ریجنل پاسپورٹ آفس ملیر) شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان شہریوں سے 4 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت وصول کر کے سرکاری طریقہ کار، میرٹ اور مقررہ ضوابط کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے پاسپورٹ کے اجرا اور دیگر امیگریشن سہولیات میں غیر قانونی سہولت فراہم کرتے تھے، جبکہ سیکیورٹی گارڈ ایجنٹس سے رشوت کی رقم وصول کر کے متعلقہ اہلکاروں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا۔
ملزمان کے خلاف ایف آئی آر انسدادِ بدعنوانی سے متعلقہ قوانین کے تحت درج کر لی گئی ہے، جبکہ اس منظم کرپشن نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں، سرپرستوں اور ممکنہ طور پر ملوث عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ ایف آئی اے واضح کرتا ہے کہ سرکاری اداروں میں رشوت، کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، شہریوں کے استحصال اور قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی۔ قانون سے بالاتر کوئی شخص نہیں، اور اس نیٹ ورک کے تمام سہولت کاروں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
(رپورٹ افتخار چوہدری )


