میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جین زی کی بغاوت مودی کا گھیراؤ

جین زی کی بغاوت مودی کا گھیراؤ

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۶ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارتی معاشرے میں گھٹن بڑھ گئی ہے، کیونکہ سوال کرناغداری بنادیاگیا ہے۔ صدیوں سے ذات پات اور مذہبی تقسیم اب نفرت ، تشدداور عدم برداشت کی شکل میں ہے ۔اِس تناظر میں جین زی کی بغاوت اور مودی کے گھیراؤ کوسمجھنامشکل نہیں ۔مودی جو تین بار انتخابات میں یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ تم عظیم قوم ہو، ہماراساتھ دینے سے بھارت خالص ہندوملک بنے گا اوراکھنڈ بھارت کی راہ ہموارہو گی، جنونی ہندوایسے دلفریب اورجھوٹے نعروں پرکچھ اِس طرح یقین کر بیٹھے کہ مودی کی حمایت میں شواہد جھٹلادیتے ۔دلیل سے بات کرنے کے راستے بندکرنے کی وجہ سے آج بھارتی معاشرہ ایسے بلند مینارپر کھڑاہے ،جہاں اندھیروں اور خرابیوں کے سواکچھ نظر نہیں آتا۔ عالمی تنہائی کے شکار اِس ملک کاسب سے زیادہ عرصہ وزیر اعظم رہنے والا شخص بیرونی دوروں میں کھی کھی کرتا عالمی رہنماؤں کے زبردستی گلے ملتااور اپنی ذات کے لیے کوئی اعزاز لیکر واپس آتاہے۔ بھارت کابھلا نہ ہونے سے ہی عام شہریوں کی طرح بی جے پی کے جنونی ہندوبھی اپنی یکطرفہ اُلفت ترک کرنے پرمجبور ہیں، جو اضطراب وبے چینی کی صورت میں ظاہرہے ۔مقبول قیادت کی ناقص کارکردگی پربھارت کے طول وعرض میں موجود غم و غصہ مظاہروں کی صورت میں عیاں ہے۔

کئی عشروں سے ایسی کہانیاں سنائی جاتی رہیں کہ پاکستان اصل میں بھارت کو توڑناچاہتا ہے ،لہٰذاحل یہ ہے کہ پاکستان کو توڑ دیاجائے ایسی کہانیاں مقبولیت بڑھانے اور اقتدار دلانے کاعرصہ درازتک آسان نسخہ رہیں ، مگر 1971میں جب پاکستان دوحصوں میں تقسیم ہو گیا تویہ نسخہ اہمیت کھوبیٹھا،جو کانگریسی مقبولیت میں کمی کاباعث بنا توبی جے پی جیسے جنونی اور انتہا پسندوں نے بھارت کوخالص ہندوریاست بنانے کا نعرہ دیکر تقویت پائی۔ ہندواکثریت کے اِس نعرے پر یقین سے ملک کے طول وعرض میں ہندومسلم فسادات ہوتے رہے۔ یہ ایسا نتیجہ تھاجو ملکی وحدت وسلامتی کے لیے خطرناک تھا لیکن مقبولیت کے لیے جنونی ہندوؤں نے پرواہ نہ کی۔ آج مسلمان،سکھ اور دلت سب مذہبی تفریق کا شکار اور خود کوبچانے کی تگ ودو میں ہیں۔

بات ہورہی تھی پاکستان کے خطرناک ہونے کی مگرجب تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے کہناشروع کردیا کہ پاکستان کی معاشی کمرتوڑ کررکھ دی ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے جبکہ بھارتی زرِ مبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالرسے زائد ہیں جو معاشی طورپر مضبوط ہونے کا ثبوت ہے توپاکستان کے خطرناک ہونے کادعویٰ قدر کھو بیٹھا ،آج جب طالب علم تحریک پورے بھارت میں پھیل رہی ہے تووہی بھارتی قیادت جو کہتی تھی کہ پاکستان کاخزانہ خالی ہے وہ کارکردگی ،نفرت کے فلسفے اور عوامی تقسیم کی سازشوں سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے کہنے پر مجبورہے کہ طالب علم تحریک کی پُشت پناہی اور فندنگ میں پاکستان کاہاتھ ہے، مگرکوئی یقین نہیں کررہا۔بھارتی سمجھ گئے ہیں کہ دلیل سے جواب دینے کی بجائے دوبارہ پاکستان کا چورن پیش کیا جارہا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں ارے بھائی جس کا خزانہ خالی ہے وہ زرِ مبالہ کے سات سو ارب ڈالرذخائر رکھنے والے ملک میں کیسے رقوم بانٹ کر افراتفری پھیلا سکتا ہے؟

مودی اور اُس کی جماعت نے تو ملک میں ایسا کلچر روشناس کرایا تھا کہ وہ جو کہیں گے عوام من وعن یقین کرلیں گے، کبھی کوئی سوال نہیں ہوگا اور جب بھی انتخاب ہوگا ووٹوں ملتے رہیں گے ،اندازوں کے مطابق کچھ عرصہ تو ایسا ہوا بھی، یہاں تک کہ ممتابینرجی جیسی لبرل خاتون بھی اقتدار سے محروم ہوگئیں۔

بی جے پی کے اقتدارمیں کچھ کردار اِداروں کا ہے نہ صرف مخالف ووٹ فہرستوں سے ختم کردیے بلکہ عدالتیں تک حکومت کے خلاف مقدمات سُننے سے انکاری رہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کا دہلی مظاہروں کے دوران پولیس تشدد کی درخواست پرفوری سماعت اور پولیس تشددکی ویڈیوزدیکھنے سے انکارکرنا اِداروں کی کھلم کھلا جانبداری ہے۔ چیف جسٹس سوریاکانٹ نے درخواست پر ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں نہ ہی اِس میں کوئی دلچسپی ہے۔ لہٰذا وقت ضائع نہ کریں ۔ یادرہے کہ رواں برس مئی میں اسی چیف جسٹس کے اُس متنازع بیان پر آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی جس میں انھوں نے بے روزگارنوجوانوں کو کاکروچ اور معاشرے پر بوجھ قرار دیا، جس پر نوجوانوں کا شدید ردِ عمل آیامگر عدلیہ اور حکومت نے کوئی توجہ نہ دی ۔آج جب دہلی سے لیکر کلکتہ اور گواتک احتجاج پھیل چکاہے تو پاکستان کوذمہ دار قراردینے کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ جس میں کوئی صداقت نہیں۔

مودی کے اقتدار کے خلاف ماضی میں ایسی کوئی طاقتورتحریک کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اسی لیے واقفانِ حال اِسے جین زی کی بیداری اورمودی کے گھیراؤکی تحریک کہتے ہیں ۔

طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ داخلے اور ملازمتوں کے حوالے سے ہونے والے امتحانات کو شفاف بنایا جائے تاکہ منظورِ نظر طبقات کی بجائے پورے ملک کو یکساں مواقع حاصل ہوں جواب میں مودی حکومت کے رویے میں رعونت وتکبرہے۔ امتحانی اسکینڈل سے جنم لینے والی تحریک نے مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفے کامطالبہ کیا تو حکومت نے حقارت سے یہ مطالبہ رَد کر دیا جس پر طلبامشتعل ہوئے اور احتجاج میں شدت آئی اور حکومتی احتساب کا مطالبہ بھی ہونے لگا۔ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی۔ اب جوتحریک وزیرِ تعلیم کے استعفے کامطالبہ کررہی تھی وہ مودی استعفیٰ چاہتی ہے جس پر مودی کا گودی میڈیا حیران ہے اور اِسے مودی کے خلاف گھیراتنگ ہونا سمجھتا ہے۔ حالانکہ اِس نوبت میں زیادہ ہاتھ حکومت کاہے دراصل حکمران مقبولیت اور اقتدارمیں من مرضی کرتے ہیں اور انجام کارذلت ورسوائی کے ساتھ رُخصت ہوتے ہیں ایساہی کچھ بھارت میں ہورہاہے ۔

بھارتی اِداروں پر حکومتی غلبہ و رسوخ عیاں حقیقت ہے، فوج اورپولیس میں حکومت نواز انتہا پسندوں کا غلبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانبداری بھی حقیقت ہے جو بھارتی معاشرے کی شکست ویخت کاباعث ہے۔ لوگ جان گئے ہیں کہ خرابیوں کی جڑ حکومت ہے لہٰذا بہتری لانی ہے توحکومت کوہٹانا ہوگا۔ امتحانی طریقہ کارکو شفاف بنانے کی بات کا استعفے تک جانااور مودی کے خلاف گھیراتنگ ہونا کافی غیرمعمولی ہے۔ بھارت میں جین زی کی یہ بغاوت کامیابی سے ہمکنا ر ہوتی ہے یا نہیں۔ اِس بارے وثوق سے ابھی کچھ کہناقبل ازوقت ہوگا۔ مگراپوزیشن رہنما راہول گاندھی کی گرفتاری کو اہمیت نہ دینے والی حکومت بہت دباؤمیں ہے، شایدہی طلبا تحریک کو کُچل سکے۔ مودی کا جانا یقینی ہے ۔یہ جتنی دیر حکومت میں رہیں گے ،ملک کا نقصان کرنے کے ساتھ اپنی سرپرست جنونی جماعت بی جے پی کابھی کباڑہ کریں گے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں