میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امیرالعظیم کا جمعیت سے جماعت تک کا سفر

امیرالعظیم کا جمعیت سے جماعت تک کا سفر

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۶ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہر نظریاتی کارکن کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جہاں وہ صرف ایک طالب علم نہیں رہتا بلکہ ایک مقصد، ایک فکر اور ایک تحریک کا نمائندہ بن جاتا ہے۔

امیرالعظیم کی زندگی بھی اسی سفر کی خوبصورت مثال تھی۔ ان کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے صرف ایک تنظیمی وابستگی نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی تربیت کا آغاز تھا، جس نے آگے چل کر انہیں جماعت اسلامی پاکستان کی صف ِاول کی قیادت میں لا کھڑا کیا۔ 1958ء میں لاہور میں جنم لینے والے امیرالعظیم نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب پاکستان اپنی نظریاتی شناخت کی تعمیر کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ تقسیمِ ہند کے اثرات ابھی باقی تھے، معاشرہ فکری تبدیلیوں کی زد میں تھا اور نوجوان نسل نئے راستوں کی تلاش میں تھی۔ ایسے ماحول میں انہوں نے علم، کردار اور دین کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ابتدائی تعلیم اسلامیہ اسکول سنت نگر سے حاصل کی، پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج سول لائنز سے طبیعات اور ڈبل ریاضی کے ساتھ بی ایس سی کیا۔

بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی مگر ان کی اصل پہچان ان کی ڈگریاں نہیں بلکہ ان کا کردار، مطالعہ، نظم و ضبط اور غیر معمولی تنظیمی صلاحیت تھی ، طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت اختیار کی، اس دور میں جامعات صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ نظریاتی معرکوں کا میدان بھی تھیں۔ امیرالعظیم نے شور اور جذبات کے بجائے دلیل، برداشت، مکالمے اور کردار کی سیاست کو ترجیح دی۔ یہی اوصاف انہیں آگے لے گئے اور وہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے پھر اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ بنے اور ہزاروں نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دیا۔جماعت اسلامی پاکستان میں ان کی خدمات نصف صدی پر محیط ہیں۔ انہوں نے مختلف اہم ذمہ داریاں نہایت دیانت، اخلاص اور خاموشی سے نبھائیں۔ وہ بہترین منتظم، مدبر مقرر، اعلیٰ پائے کے لکھاری اور ایک ایسے رہنما تھے جو اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، انداز میں وقار اور فیصلوں میں اعتدال نمایاں نظر آتا تھا۔آج ہماری سیاست میں برداشت کم اور تلخی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں امیرالعظیم جیسے لوگوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کبھی ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح نہیں دی۔ وہ کارکنوں کے لیے رہنما بھی تھے، استاد بھی اور ایک شفیق بزرگ بھی۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی قیادت نعروں سے نہیں بلکہ کردار، دیانت، قربانی اور مسلسل جدوجہد سے جنم لیتی ہے۔

امیرالعظیم جب پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے تو اس دور میں طلبہ قیادت کا ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھااور جب وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے تو یہ وہ دور تھا جب ملک سیاسی اور نظریاتی کشمکش سے گزر رہا تھاسیاسی اور نظریاتی تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اصولوں پر ڈٹ جانے والوں کے حصے میں اکثر آزمائشیں، پابندیاں اور قید و بند آتے ہیں۔ امیرالعظیم کی زندگی بھی اس حقیقت کی روشن مثال تھی۔ انہوں نے اپنی جدوجہد میں ایسے ادوار بھی دیکھے جب اختلافِ رائے کی قیمت جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے گئے دنوں اور مہینوں کی صورت میں ادا کرنا پڑی مگر انہوں نے کبھی اپنے نظریے اور مؤقف سے دستبردار ہونے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔اسلامی جمعیت طلبہ اور بعد ازاں جماعت اسلامی سے وابستگی کے دوران ملک میں کئی بار ایسے سیاسی حالات پیدا ہوئے جب کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف گرفتاریاں ہوئیں۔ مختلف ادوار میں امیرالعظیم بھی زیرِ عتاب آئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سرکاری دباؤ کا سامنا کیا لیکن ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ انہوں نے کبھی تلخی، انتقام یا نفرت کی زبان اختیار نہیں کی۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ اطمینان، گفتگو میں شائستگی اور رویّے میں وقار نمایاں رہا۔جیل کی زندگی بہت سے لوگوں کے حوصلے توڑ دیتی ہے لیکن امیرالعظیم کے لیے یہی دن خود احتسابی، مطالعے، عبادت اور فکری استقامت کا ذریعہ بن گئے۔ وہ کتاب کو اپنا ساتھی بناتے، قرآنِ مجید کے مطالعے میں وقت گزارتے اور اپنے ساتھیوں کے حوصلے بلند رکھتے۔ ان کے نزدیک آزمائشیں کسی نظریے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی سچائی کا امتحان ہوتی ہیں۔قید کے ایام میں بھی انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے مگر فکر، ایمان اور عزم کو نہیں۔ ان کا یقین تھا کہ جو جدوجہد اصولوں، دیانت اور عوامی خدمت کے لیے ہو وہ وقتی مشکلات سے مرعوب نہیں ہوتی اسی لیے رہائی کے بعد بھی انہوں نے پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ تنظیمی، دعوتی اور سیاسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔امیرالعظیم کی زندگی کا یہ پہلو نوجوان نسل کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ مشکلات سے گھبرا کر راستہ بدل لینا آسان ہوتا ہے مگر اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہی اصل کردار کی پہچان ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ آزمائشیں انسان کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ اگر نیت خالص ہو تو وہ شخصیت کو مزید مضبوط اور باوقار بنا دیتی ہیں۔اسی استقامت، صبر اور قربانی نے امیرالعظیم کو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک نظریاتی کارکن، باکردار قائد اور ثابت قدم مجاہد کے طور پر تاریخ میں ممتاز مقام عطا کیا امیرالعظیم نے ہمیشہ کارکنوں کو نظم، برداشت، مکالمے اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔ ان کے نزدیک تنظیم افراد سے نہیں بلکہ کردار سے مضبوط ہوتی ہے۔ تعلیمی زندگی مکمل ہونے کے بعد ان کا سفر اسلامی جمعیت طلبہ سے جماعت اسلامی پاکستان کی طرف منتقل ہوا۔ جمعیت نے انہیں جو فکری پختگی، تنظیمی مہارت اور قیادت کا سلیقہ دیا تھا وہی ان کی آئندہ زندگی کا سرمایہ بن گیا۔ جماعت اسلامی میں انہوں نے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور ہر منصب کو خدمت کی امانت سمجھ کر نبھایا۔ امیرالعظیم نے جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل سمیت کئی اہم عہدوں پر رہتے ہوئے تنظیمی استحکام، کارکنوں کی تربیت، سیاسی حکمت ِعملی اور دعوتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایسے رہنما تھے جو کارکنوں کی بات پوری توجہ سے سنتے، اختلافِ رائے کا احترام کرتے اور فیصلے ہمیشہ مشاورت سے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ صرف ایک منتظم نہیں بلکہ ایک مربی، معلم اور مدبر کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔

جمعیت سے جماعت تک کا یہ سفر دراصل عہدوں کی تبدیلی کا نہیں بلکہ ذمہ داریوں کے بڑھنے کا سفر تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس اصول پر گزاری کہ قیادت اختیار کا نام نہیں بلکہ خدمت، قربانی، دیانت اور جواب دہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد صرف جماعت اسلامی کے کارکن ہی نہیں بلکہ مختلف سیاسی، سماجی اور دینی حلقوں نے بھی انہیں ایک باوقار، شائستہ اور اصول پسند شخصیت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔امیرالعظیم کی زندگی نوجوان نسل کے لیے یہ پیغام چھوڑ گئی کہ اگر انسان اپنے نظریے پر ثابت قدم رہے، علم کو اپنا ہتھیار بنائے اور کردار کو اپنی پہچان، تو وقت اسے عزت، احترام اور تاریخ میں ایک باوقار مقام ضرور عطا کرتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں