سماجی ناانصافی، عدم مساوات اور شہری ڈھانچے کی بربادی!
شیئر کریں
سندھ حکومت کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ سندھ کی حکومت عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مختلف ترقیاتی
منصوبوں پر کام کررہی ہے،اس کے ساتھ ہی کراچی کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں پر آواز اٹھانے والے عوام کے منتخب بلدیاتی عہدیداروں کو تنبیہ بھی کی کہ بلدیاتی نمائندوں کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہئے، تاہم انھوں نے یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کام کرنے والی سندھ کی حکومت کراچی کے شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اب تک کیا کرسکی ہے اور اگر شہر میں گراں قیمت پر پانی فروخت کرنے والے ٹینکروں کیلئے پانی موجود ہے تو یہ پانی نلکوں کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچانے میں کیا مشکلات حائل ہیں، دراصل کراچی کے شہریوں کو درپیش یہی وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے اب کراچی کے لیے نئے آئینی ڈھانچے کی ضرورت پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے اور کراچی کیلئے نئے آئینی ڈھانچے کی ضرورت ہے یا نہیں اس موضوع پر اس وقت ایک شدید بحث جاری ہے۔ اس بحث کا لہجہ زیادہ تر سیاسی ہے اور اس کی جڑیں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی تقسیم سے متعلق نہ ختم ہونے والے تنازعات میں پیوست ہیں۔ ہمیشہ کی طرح یہ سیاسی کشمکش ان حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دیتی جو اس شہر کو درحقیقت درپیش ہیں۔کراچی اس وقت ایک قابلِ رہائش شہر کی ضد بن چکا ہے۔
کراچی کو پانی، ٹرانسپورٹ، جرائم، سیوریج اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہونے کے باوجود، اس کے بیشتر اضلاع صحت، خواندگی اور آمدنی کے اشاریوں میں برتری کے باعث ملک کے بہترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں، اگرچہ خود کراچی کے بہت سے شہری ان سہولتوں سے محروم ہیں 2004 میں جاپان کی بین الاقوامی تعاون سے متعلق تنظیم جائیکاکی جانب سے کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق کراچی میں لوگوں کی اکثریت پیدل سفر کرتی ہے، اور ان میں سے بعض سفر نہایت طویل فاصلے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ لوگ زیادہ تر سڑکوں پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں، کیونکہ بیشتر سڑکوں پر فٹ پاتھ یا تو موجود ہی نہیں ہوتے،
یا انتہائی خستہ حال ہوتے ہیں، یا پھر ان پر اشتہاری بورڈز، بے ترتیب لگائے گئے درختوں اور خوانچہ فروشوں کے غیر منظم اسٹالوں نے قبضہ جما رکھا ہوتا ہے۔خصوصاً خواتین اندھیرا ہونے کے بعد پیدل سفر کے دوران خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں، کیونکہ مناسب فٹ پاتھوں اور اسٹریٹ لائٹس کا فقدان ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی کا وژن ایک ایسے شہر کا ہونا چاہیے جو پیدل چلنے والوں اور عوامی آمدورفت استعمال کرنے والوں کے لیے دوستانہ اور سہل ہو۔کراچی میں جہاں پہلے ہی پیدل سفر خاصے طویل ہوتے ہیں، اور اگر محفوظ، روشن اور معیاری فٹ پاتھ، انتظار کے لیے بنچیں اور صاف ستھرے عوامی بیت الخلا فراہم کیے جائیں تو نہ صرف ایسے سفروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ان کے فاصلے بھی مزید بڑھ سکتے ہیں۔ جو شہر ملکی معیشت کے لیے سونے کے انڈے دیتے ہیں، انہیں بھی انڈے دینے کے لیے مناسب وسائل درکار ہوتے ہیں، البتہ منصوبہ بندی اس طرح کی جانی چاہئے کہ غریب علاقوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ کراچی کی نمایاں بدحالی کا ثبوت اکانومسٹ کی 2025کی شہری درجہ بندی میں اس کا تقریباً آخری درجوں میں آنے سے نمایاں ہوتی ہے،جبکہ اس کے قریب ترین ایشیائی ہم منصب شہر، یعنی دہلی، جکارتہ، منیلا اور ممبئی، اس سے کہیں بہتر مقام رکھتے ہیں، جبکہ صرف ڈھاکہ اس سے نیچے ہے، اس صورت حال سے اس بات کیعکاسی ہوتیہے کہ کراچی کو اس کی ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دئے جاتے۔اگرچہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وفاقی ٹیکس وصولیوں میں کراچی کا حصہ 50 سے 55 فیصد ہے، لیکن یہ اعداد و شمار بندرگاہی محصولات اور ایسی کمپنیوں کی قومی سطح کی آمدنی کو شامل کرنے کے باعث بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں کراچی کا حصہ تقریباً 25 سے 30 فیصد کے درمیان بنتا ہے۔ تاہم
اس کی حقیقی معاشی برتری اس سے بھی کم ہے، کیونکہ ایسے اعداد و شمار غریب علاقوں کی قدرتی دولت، غیر رسمی معیشت اور سستی افرادی قوت کی قدر کو نظر انداز کرتے ہیں۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں کراچی اور پنجاب کے بڑے حصے کی ایک وجہ پالیسیوں میں موجود عدم مساوات بھی ہے۔ ان علاقوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا مقصد نسبتاً پسماندہ علاقوں کی مالی معاونت کرکے معاشی ناہمواری کم کرنا ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ مقصد مؤثر انداز میں حاصل نہیں کیا جا سکا۔دنیا بھر میں وفاقی نظام رکھنے والے بہت سے ممالک میں خوشحال شہر واقعی ریاستی خزانے میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ کراچی کے بہت سے شہری یہاں تک کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنما جن میں اس شہر پربرسہابرس تک کسی نہ کسی طرح حکمرانی کرنے یا حکمرانی کرنے والومیں شامل سیاسی رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، اگرچہ مستند اعداد و شمار کے بغیر اس دعوے کو ثابت کرنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مقامی شہری سہولتوں اور خدمات کے اعتبار سے کراچی اپنے ہم پلہ شہروں سے واضح طور پر پیچھے ہے۔ شہر بے ہنگم انداز میں مسلسل پھیل رہا ہے، آمدورفت کے لیے گاڑیوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے، تقریباً نصف آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے، جبکہ شہر تیزی سے اپنے سبز رقبے سے محروم ہو رہا ہے۔ یہی آج کے شہری حالات کی حقیقی تصویر ہے۔ تاہم، شہر کی زبوں حالی پر ہونے والی یہ تلخ بحثیں، اگرچہ تصادم پر مبنی ہیں، لیکن اگر انہیں درست سمت دی جائے تو یہ مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان حقیقی مسائل پر ایک نہایت ضروری اور تعمیری مکالمے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔کسی بھی ماسٹر پلان یا ترقیاتی منصوبے کے آغاز سے پہلے چند بنیادی اور اہم تقاضوں پر توجہ دینا ناگزیر ہوتاہے۔ سب سے پہلے، ایسے شہر میں جہاں آبادی کے اعداد و شمار ہی متنازع ہوں، ضروری ہے کہ شہر کی جامع، شفاف اور مسلسل بنیادوں پر دستاویز بندی کی جائے۔ اس کے نتیجے میں شہری نظم و نسق کی مناسب سطحوں پر مرکزی ڈیٹا بینک قائم کیے جا سکتے ہیں، جن تک عام
شہریوں کی بھی رسائی ہو۔ اس کے بعد سیاسی استحکام اور شفاف، مؤثر طرزِ حکمرانی کے مسائل آتے ہیں۔ شہری اصلاحات پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور مستقبل کے لیے ایک مشترکہ وژن تشکیل دینا، امن و امان کے قیام، پالیسیوں کے تسلسل، منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ منصوبے اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب شہری حکومت کو مطلوبہ قانونی حیثیت، اختیارات اور اپنے شہریوں کے سامنے جوابدہ ہونے کا عزم حاصل ہو۔منقسم شہر کبھی پائیدار شہر نہیں بن سکتا۔شہری نظم و نسق کے موجودہ ڈھانچے پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کے شہروں میں حکومت اب صرف خدمات فراہم کرنے والا ادارہ نہیں رہی بلکہ اس کا کردار زیادہ تر اس امر کی ضمانت دینے والا بن گیا ہے کہ تمام شہریوں کو ضروری سہولتیں میسر ہوں۔ اس تبدیلی سے غیر رسمی اداروں اور گروہوں کے لیے بھی حکمرانی کے عمل میں شریک ہونے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ کراچی میں، چاہے فیصلہ سازی کے اختیارات جہاں بھی موجود ہوں، ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا، جو اس وقت موجود نہیں، تاکہ نجی شعبہ، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹی گروپس حکومت کے ساتھ مل کر شہری ترقی کے لیے مؤثر شراکت داری قائم کر سکیں۔ جب ہم پائیدار تبدیلی کے لیے ضروری ابتدائی اقدامات سے آگے بڑھیں تو ہمارا نقط نظر جامع ہونا چاہیے، جبکہ اس وقت صورتِ حال منتشر ہے۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا، حال کی خوبیوں کو سراہنا اور مستقبل کو خوش آمدید کہنا ہوگا۔ اگر حال کی بات کریں تو ہمیں اپنے ثقافتی، جسمانی اور انسانی اثاثوں کا جشن منانا چاہیے۔ کراچی مختلف قومیتوں، زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے، لیکن اپنی رنگا رنگی کو طاقت بنانے کے بجائے یہ ایک منقسم شہر بن گیا ہے جبکہ یہ بات واضح
ہے کہ ایک منقسم شہر کبھی پائیدار شہر نہیں بن سکتا۔
سماجی اور ثقافتی طور پر متحرک شہر میلوں، تہواروں، خوراک، موسیقی، فنون، لباس اور دستکاری کے فروغ کے ذریعے نئی معاشی سرگرمیوں کو جنم دیتے ہیں۔شہر کو خود کو دنیا میں جاری دلچسپ معاشی تبدیلیوں کا حصہ بنانے کے لیے مزید کھولنے کی ضرورت ہے۔مستقبل کی معیشتوں میں سرمایہ کاری نہ صرف معیارِ زندگی کو بہتر بنائے گی بلکہ ملک سے بڑھتی ہوئی ذہانت اور صلاحیتوں کے انخلا (برین ڈرین) کو روکنے میں بھی مدد دے گی۔ ہمارے نوجوان، جو ہمارا مستقبل ہیں، اپنے ہی ملک میں ایسے مواقع سے محروم ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لا سکیں۔مستقبل ہمیں آواز دے رہا ہے۔ اس وقت دنیا صنعتی انقلاب کی چوتھی لہر سے گزر رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، روبوٹکس اور زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن ایسے نئے شہری ماحول تشکیل دے رہی ہیں جہاں ٹیکنالوجی زیادہ ذہین، ماحول دوست تعمیرات، بہتر سفری نظام، مؤثر سیکورٹی، جدید کچرا انتظام اور توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال کو ممکن بنا رہی ہے۔کاروبار اور مالیات کے نئے اور دلچسپ ماڈلز بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔
اسٹارٹ اپس اور کاروباری جدت (انٹرپرینیورشپ) میں اضافے سے روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور سبز معیشتوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ ہمیں ان تمام امکانات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ اگر شہر کی ترقی کو گرین ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کیا جائے تو کراچی میں ایک نئی ماحول دوست معاشی قوت جنم لے سکتی ہے۔ پیدل چلنے کے قابل شہر، متحرک عوامی مقامات اور بہتر شہری زندگی یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ماحول دوست وژن کو تکنیکی جدت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔یہ شہر سیاسی کوتاہ اندیشی، چند مفاد پرست عناصر کے ذاتی ایجنڈوں، بڑھتی ہوئی نااہلی، بدعنوانی اور مسلسل غفلت کے باعث بری طرح تباہ حال ہو چکا ہے۔
کراچی جیسے متنوع، منقسم اور پیچیدہ شہر میں کوئی بھی تبدیلی اسی وقت زیادہ سے زیادہ مثبت نتائج دے سکتی ہے جب وہ ایک ایسے مشترکہ وژن کے تحت ہو جس میں تمام اہم فریقوں کو شامل کیا گیا ہو۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک اور بے مقصد سیاسی رسہ کشی میں الجھنے کے بجائے، جو صرف مزید نقصان کا باعث بنے، شہر کے مسائل کی حقیقی تشخیص کریں اور سماجی ناانصافی، عدم مساوات اور شہری ڈھانچے کی بربادی جیسے ان ناسور زخموں کا علاج کریں جو برسوں سے کراچی کے وجود کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا ہمارے ہونہار میئر کراچی، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر بلدیات اور شہری ترقی پارٹی کے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں گے۔


