میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قاہرہ کا 4 ملکی اجلاس

قاہرہ کا 4 ملکی اجلاس

جرات ڈیسک
منگل, ۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

قاہرہ میں گزشتہ دنوں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے اجلاس کو بظاہرمعمولی تصور کرکے اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی گئی لیکن یہ اجلاس جتنا معمولی دکھائی دیا، ممکن ہے اس سے کہیں زیادہ اہم ثابت ہو۔

اس اجلاس میں ممالک نے باہمی مشاورت، رابطہ کاری اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا خیرمقدم کرکے علاقائی سوچ میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔

اس سے اجلاس میں شریک ممالک کے رہنماؤں کے اس بڑھتے ہوئے یقین کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اب بیرونی طاقتوں کے بجائے زیادہ سے زیادہ خود علاقائی ممالک کے ہاتھوں تشکیل پانا چاہیے۔ مناسب طور پر ریجنل فور (آر فور) کہلانے والے یہ چار ممالک اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے خطے کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس نے امریکی سیکورٹی ضمانتوں کے نظام میں پوشیدہ ان کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا جو طویل عرصے سے نظروں سے اوجھل تھیں۔

اس تنازع سے حاصل ہونے والے اہم اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں، جن کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اس نتیجے پر پہنچیں کہ امریکی فوجی موجودگی لازماً ان کی سلامتی میں اضافہ نہیں کرتی۔ جیسے جیسے کشیدگی بڑھی، واشنگٹن کی ترجیحات اسرائیل کے مفادات سے گہری ہم آہنگ دکھائی دیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ خطے کے وسیع تر استحکام کو اسرائیل کی سلامتی پر ترجیح نہیں دی جا رہی۔

اس کے ساتھ ہی خلیجی دارالحکومتوں کے لیے ایک غیر آرام دہ حقیقت بھی مزید واضح ہوئی کہ غیر ملکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک بعض اوقات ایسے تنازعات کا حصہ بن جاتے ہیں جنہیں نہ وہ خود شروع کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی خواہش رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) بعض خلیجی ممالک میں اپنی فوجی تنصیبات کی عملی تعیناتی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔یہ حقیقت کہ اتنے عرصے سے قائم فوجی ڈھانچے بھی اب نظرِثانی کے مرحلے میں ہیں، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے کا تزویراتی ماحول کس قدر گہرائی سے تبدیل ہو چکا ہے۔ اگر ان حالیہ پیش رفتوں نے کوئی بات واضح کی ہے تو وہ یہ ہے کہ خطے میں طاقت کا روایتی توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک ابھرتی ہوئی کثیر القطبی دنیا اور درمیانی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار پر ہونے والی بحث اب محض نظریاتی نہیں رہی۔ جنگ کے اختتام سے قبل ہی پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ جنگ پورے خطے میں سیاسی صف بندیوں کو نئی شکل دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے، اور ان کے مطابق یہ تنازع امریکی اثر و رسوخ میں مزید کمی اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ ان کی اس پیش گوئی کے ہر پہلو کے درست ثابت ہونے کا فیصلہ وقت کرے گا، تاہم ایک حقیقت پہلے ہی واضح ہو چکی ہے کہ علاقائی ممالک اب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ خلیجی خطہ، وسیع تر مشرقِ وسطیٰ، مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو ایسے نئے تعاون پر مبنی فریم ورک کی ضرورت ہے جو بڑی طاقتوں کی رقابت کے بجائے علاقائی ملکیت اور قیادت پر استوار ہوں۔پاکستان اس سلسلے میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے خطے کے مختلف اور باہم متحارب گروہوں سے تعلق رکھنے والے ممالک کے ساتھ بھی عملی اور مثبت روابط ہیں، اور اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کشیدگی کے مواقع پر وہ ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کردار کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان علاقائی سلامتی اور سفارتی تعاون کے ایسے مستقل انتظامات کے قیام میں فعال کردار ادا کرے جو مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بیرونی مداخلت پر انحصار بھی کم کریں۔وہ حلقے جو بجا طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اسرائیل کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بنی ہیں، ان کے نزدیک ان پالیسیوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی سطح پر زیادہ مضبوط ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر علاقائی ممالک حقیقی معنوں میں تزویراتی خودمختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غیر ملکی مداخلت میں کمی لانا ہوگی۔خطے کا مستقبل نہ تو مسلسل محاذ آرائی سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیرونی طاقتوں کی سرپرستی سے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا خطے کی درمیانی طاقتیں سفارتی خیرسگالی کو پائیدار اداروں، اجتماعی سلامتی اور سیاسی تعاون میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں