میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۶ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

معصوم مرادآبادی

گزشتہ ہفتہ ملک میں مسجدوں پر بلڈوزر چلانے کے لیے یاد رکھا جائے گا ، کیونکہ اس عرصے میں راجستھان اور اترپردیش تین مسجدوں کو ناجائز تعمیر قرار دے کربے رحمی سے شہید کردیا گیا ہے ۔ اترپردیش کے بنارس اور سنبھل کے بعد راجستھان کے جے پور شہر میں جس انداز میں مسجدوں پر بلڈوزر چلے ہیں ، ان سے کئی پریشان کن سوالات ایک ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ یوں تو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی ناجائز تعمیر کے بعد ہی سے ملک بھر میں مسجدوں ، مدرسوں اور مزاروں پر حملے جاری ہیں اور متعدد جگہ انھیں غیرقانی قرار دے کر منہدم کیا جا رہا ہے ، لیکن حالیہ عرصے میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت مسجدوں کو زمیں دوز کرنے کی مہم شروع ہوئی ہے ، اسے کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ، کیونکہ اس مہم کا مقصد محض ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کا انہدام نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کی زد میں وہ مندر بھی آتے جو بڑی تعداد میں سڑکوں اور سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے بنائے گئے ہیں ۔ محض مسجدوں کو ناجائز اور غیرقانونی تعمیر قراردے کر منہدم کرنا دراصل مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی سازش کا حصہ ہے ، جس کو سرکاری مشنری کی سرگرم حمایت حاصل ہے ۔
1990 کی دہائی میں جس وقت رام جنم بھومی تحریک اپنے شباب پر تھی اور بابری مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی تیاریاں چل رہی تھیں تو کچھ نام نہاد مسلم دانشورں نے کہا تھا کہ اگر ایک مسجد کی دستبرادی کے عوض امن حاصل کیا جاسکتا ہے تو یہ سودا برا نہیں ہے ۔ لیکن اس وقت بھی ہم جیسے سرپھروں نے یہی لکھا تھا کہ بابری مسجد پر رام مندر بنانے کی تحریک محض ایک مسجد کو مند رمیں بدلنے کی تحریک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی مذہبی شنا خت مٹانے کی منظم سازش کارفرما ہے ۔ بابری مسجد کا انہدام محض ایک تاریخی مسجد کا انہدام نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی سازش کارفرما تھی اور اس سازش میں کچھ ‘گھر کے بھیدی ‘بھی شامل تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگست 2019میںبابری مسجد پر سپریم کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے ایک روز قبل مسلمانوں میں موجود کچھ کالی بھیڑیں قومی سلامتی مشیر کی رہائش گاہ پر لذیذ کھانا کھانے جمع ہوئی تھیں اور باہر نکل کر انھوں نے اپنے مذہبی تشخص سے زیادہ اس کھانے کی تعریف کی تھی ، جو بے غیرتی کے خمیر سے تیار ہوا تھا۔یہاں کسی کے کردار پر انگلی اٹھانامقصود نہیں ہے بلکہ ہم آپ کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو لوگ بابری مسجد سے دستبردار ہوکر امن خریدنا چاہتے تھے ، وہ آج کہیں نظرنہیں آرہے ہیں بلکہ نظر وہ عام مسلمان آرہے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں بے بسی اور لاچاری کے ساتھ اپنی مسجدوں پر بلڈوزر چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ اس سیکولر جمہوری ملک میں ان کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی مذہبی علامتوں کو مٹانے کے اس ظالمانہ سلسلے کو روک سکیں۔
یوں تو گزشتہ ایک عرصے سے ملک کے اندر مختلف عنوانات کے تحت مسجدوں کوزمیں دوز کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے ، لیکن حالیہ دنوں میں اس میں اچانک بہت تیزی آگئی ہے ۔ اس تیزی کا اندازہ آپ یوں لگاسکتے ہیں کہ پچھلے ایک ہفتہ کے اندر کم ازکم چار مسجدوں پر بلڈوزر چلاکر انھیں زمیں دوز کیا گیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں سنبھل کی ایک مسجد پر بلڈوزر چلانے کے بعد وہاں ملنے والے ‘آئی لویو محمد ‘ کے پوسٹروں اور ایک سبز پرچم کو’ ‘خطرناک مواد’ ‘قرار دے کرمسجد کمیٹی کے آٹھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور ان پوسٹروں میں ملک دشمنی کی بو سونگھی جارہی ہے ۔ظاہر ہے جب دماغ سڑ چکے ہوں اور ناک میں ناسور ہوجائے توآپ ہر چیز میں ملک دشمنی کے جراثیم سونگھ سکتے ہیں۔ سنبھل کے کیسریاں گاوں میں مسمار کی گئی مسجد کے بارے میں انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ مسجد جس زمین پر تعمیر کی گئی تھی وہ سرکاری ریکارڈ میں قبرستان کے طورپر درج ہے ۔کوئی یہ پوچھنے والا بھی نہیں ہے کہ قبرستان کی زمین پر مسجد تعمیر کرنا جرم کیسے ہوگیا۔سنبھل میںمسجد ہی مسمار نہیں کی گئی بلکہ متولی پر سوالاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت یہ مسجد توڑی جارہی تھی تو آس پاس کی بستی میں مقیم خواتین زاروقطار رورو کر کہہ رہی تھیں کہ ہمارے علاقہ میں یہ اکلوتی مسجد ہے ، اسے مت توڑئے ے مگر کوئی ان کی سننے والا نہیں تھا، کیونکہ بلڈوزر کے کان نہیں ہوتے اور جن کے کان ہوتے ہیں انھوں نے انسانیت سے اپنا ناطہ توڑ لیا ہے ۔
سنبھل کی مسجد مسمار کرنے سے ایک دن پہلے اترپردیش حکومت کے کارندوں نے بنارس میں ایک تاریخی مسجد پر بلڈوزر چلایا تھا ۔ 200 سال پرانی ازغیب شہید مسجد 42فٹ اونچی تھی مگر اس کو پانچ بلڈوزروں نے مل کر22منٹ میں زمیں دوز کردیا ۔ یہ کارروائی رات کی تاریکی میں ایک جرم کی طرح انجام دی گئی ۔مسجد شہید کرنے والوں کے وجود میں سرایت کرگئے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے
کہ مسجد کا پورا ملبہ راتوں رات غائب کردیا گیا ۔ رات بارہ بجے ایک ہزار پولیس جوانوں کی موجودگی میں جب بلڈوزر ایکشن شروع ہوا تو
پورا علاقہ چھاونی بنا ہوا تھا اور پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں تھی ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد ریلوے کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی ۔ معاملہ
عدالت میں گیا اور عدالت نے ریلوے کے حق میں فیصلہ صادر کیا ۔ مسجد شہید کرکے اس جگہ کاشی ریلوے اسٹیشن کا ماڈل بنایا جائے گا ۔ چونکہ
وزیراعظم کے اس حلقہ انتخاب کو اسمارٹ شہر بنایا جارہا ہے ۔
کاشی کے بعد نمبر تھا جے پور کی نورانی مسجد کا جسے سڑک چوڑا کرنے کے نام پر ڈھادیا گیا ہے ۔ جے پور کے مالویہ نگر میں واقع نورانی
مسجد کو جسے چالیس برس پہلے تعمیر کیا گیا تھا ، توڑنے کے لیے پولیس کے تین ہزار جوان تعینات کئے گئے اورشہر میں انٹر نیٹ خدمات معطل
کردی گئیں تاکہ افواہوں کی گرم بازاری کوروکا جاسکے ۔ لوگوں کو گھروں میں قید کردیا گیا اور غیراعلانیہ کرفیو کی حالت میں مسجد کو زمیں دوز
کردیا گیا ۔ مالویہ نگر کے باشندوں کا کہنا ہے کہ آس پاس کے علاقہ میں تقریباً بیس ہزار مسلمان رہتے ہیں اور یہاں کوئی مسجد نہیں ہے ۔
یہاں سے کئی کلو میٹر دور مسجد کے لیے متبادل جگہ دی جارہی ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اتنی دور جاکر کون نماز پڑھے گا ۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ جہاں
متبادل جگہ دی جارہی ہے وہاںکے کاغذات نہیں دئے ے جارہے ہیں۔ یعنی وہاں اگر مسجد بنائی جائے گی تو وہ بھی غیر قانونی ہوگی جسے کسی
بھی وقت منہدم کیا جاسکتا ہے ۔اسی روز یہ خبر بھی آئی تھی کہ اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرہ دون کی یمنا کالونی میں ایک مزار کو اس لیے مسمار کردیا
گیا کہ وہ سرکاری زمین پر ‘قبضہ’ کرکے بنایا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مزار کے ناجائز ہونے کا علم انتظامیہ کو نہیں تھا بلکہ فرقہ پرست
مقامی باشندوں نے اس ‘ناجائزمزار’ کی طرف اسے متوجہ کیا تھا ۔ واضح رہے کہ اتراکھنڈ کے مختلف شہروں میں ناجائز تعمیرات کے خلاف جو
مہم چلائی جارہی ہے ، اس کا نشانہ مسجدیں ،مزار اور مدرسے ہیں ۔ وہاں سیکڑوں کی تعداد میں مسجدوں ، مدرسوں اور مزاروں کو ناجائز تعمیرات کے نام پر مسمار کیا جاچکا ہے ۔
سنبھل ، بنارس اورجے پور میں بہت مختصر وقفہ سے مسمار کی گئی ان مسجدوں کی تفصیل سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے اندر مسجدوں کو
مٹانے کی ایک منصوبہ بند مہم چل رہی ہے جس کے پس پشت سنگھ پریوار ہے ۔تاریخی مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کی مہم کے تحت
گزشتہ ماہ مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع ساتویں صدی کی کمال مولا مسجد کو باقاعدہ مندر میں تبدیل کیا جاچکا ہے اور درجنوں تاریخی
مسجدوں کو مندر میں بدلنے کی عرضیاں ملک کی مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں، جن میں بنارس کی گیان واپی مسجد، متھرا کی شاہی عیدگاہ
کے علاوہ سنبھل اور بدایوں کی جامع مسجدیں بھی شامل ہیں ۔ حالانکہ ملک میں عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق ایکٹ مجریہ1991
موجود ہے ، لیکن اس معاملے میں سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے اپنے ایک ریمارکس میں ایسا پنڈورہ بکس کھول دیا ہے جس کے
تحت ملک کی ہر مسجد کے نیچے ایک مندر کے باقیات تلاش کئے جاسکتے ہیں اور وہی ہو بھی رہا ہے ۔انھوں نے کہا تھا کہ مسجدوں کے تحفظ سے
متعلق قانون کسی مسجد کا سروے کرانے سے نہیں روکتا۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں مسجدوں کے سروے کرانے کے لیے
عرضیاں دائر کی جارہی ہیں اور باقی مسجدوں کے خلاف بلڈوزر سرگرم ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں