میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہمارے تھانے یا عقوبت خانے؟

ہمارے تھانے یا عقوبت خانے؟

جرات ڈیسک
پیر, ۱۰ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسلامی معاشرے کی تشکیل ہم سب کی خواہش اور خواب ہے بالخصوص ہمارے مذہبی رہنماؤں نے اس نظام کے لیے جدوجہد بھی کی اور
قربانیاں بھی دی لیکن ہم معصوم لوگوں پر تشدد ،ظلم ،بربریت اور غنڈہ گردی پر اپنے ہونٹ سی لیتے ہیں ۔بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس نے مظلوم
، مجبور اور محبوس لوگوں کو ننگا کرنے والوں کو نے والوں کو بلکہ پورے سسٹم کو ننگا کردیا۔ وزیرداخلہ محسن نقوی درست کہہ رہے ہیں کہ ہمارے
نظام کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے ۔پولیس کی درندگی بڑھتی جارہی ہے ۔تھانوں میں زنا ہو رہا ہے۔ مردوں سمیت عورتوں پر تشدد اور پھر موت سمیت کیا کیا ظلم ہورہے ہیں ۔ایسا تو شائد کافروں کے معاشرے میں بھی نہیں ہوتا ہوگا، جو کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ میں ہورہا ہے، لاہور میں پاکپتن کی دو بہنوں کی پولیس حراست میں مبینہ ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر پورے پولیس نظام کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے ۔ یہ واقعہ صرف دو نوجوان بہنوں کی موت کا معاملہ نہیں بلکہ اس سوال کا نام ہے کہ ریاست کے وہ ادارے جنہیں شہریوں کی جان، مال، عزت اور آزادی کا محافظ بنایا گیا اگر انہی اداروں کی تحویل میں شہریوں کی جانیں محفوظ نہ رہیں تو پھر عام آدمی کہاں جائے؟

پاکپتن سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ آمنہ اور 18 سالہ انمول لاہور میں پنسلیں فروخت کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا گزر بسر کرتی تھیں
بتایا جاتا ہے کہ دونوں بہنوں کو لاہور پولیس نے 4 اگست کو گرفتار کیا بعد ازاں دونوں کی مبینہ ہلاکت کی خبر سامنے آئی اور سخت سیکیورٹی حصار میں ان کی نعشیں پاکپتن پہنچائی گئیں، جہاں انہیں گاؤں غوث نگر میں سپرد خاک کردیا گیا۔دو نوجوان بہنیں جن کا جرم اگر کوئی تھا بھی تو اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا تھا۔ پولیس کے پاس نہیں قانون نے پولیس کو تفتیش کا اختیار دیا ہے۔ سزا دینے کا نہیں کسی شہری کو گرفتار کرنا ایک قانونی عمل ہے لیکن کسی زیرحراست شخص کی جان کی حفاظت بھی اسی ریاست اور اسی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ یہاں سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ آمنہ اور انمول کی موت کیسے ہوئی؟اگر وہ پولیس کی تحویل میں تھیں تو ان کی صحت، سلامتی اور زندگی کی ذمہ داری کس پر تھی؟ اگر انہیں کوئی بیماری لاحق تھی تو اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ اگر انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا تو پوسٹ مارٹم اور فرانزک شواہد کیا کہتے ہیں؟ اگر موت طبعی تھی تو اس کی مکمل طبی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں آئیں؟ اور اگر معاملہ پولیس حراست میں موت کا ہے تو آزادانہ تحقیقات کے بغیر محض پولیس کا داخلی مؤقف کیسے کافی ہوسکتا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب صرف پاکپتن کے ایک خاندان کو نہیں بلکہ پورے پنجاب کے عوام کو درکار ہیں پولیس کا اختیارشہری کی
زندگی سے بڑا نہیں پولیس ایک طاقتور ریاستی ادارہ ہے اس کے پاس گرفتاری کا اختیار ہے، تفتیش کا اختیار ہے، اسلحہ ہے، وردی ہے، سرکاری
وسائل ہیں اور ریاستی طاقت اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے دوسری طرف عام شہری کے پاس صرف قانون ہوتا ہے۔ اسی لیے پولیس سے توقع بھی عام شہری سے زیادہ ہوتی ہے ایک پولیس اہلکار اگر قانون توڑتا ہے تو اس کا جرم عام شہری کے مقابلے میں زیادہ سنگین محسوس ہوتا
ہے کیونکہ وردی اسے قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری دیتی ہے۔ پولیس اگر قانون شکنی کرے تو صرف ایک شہری متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا
نظامِ انصاف مشکوک ہوجاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ پنجاب میں پولیس کے رویے کے حوالے سے ایسے واقعات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہتے ہیں جنہیں محض چند کالی بھیڑوں کا فعل کہہ کر نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں اگر چند اہلکار قانون سے تجاوز کرتے ہیں تو انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے لیکن اگر شکایات بار بار مختلف اضلاع سے اور مختلف نوعیت میں سامنے آرہی ہوں تو پھر سوال صرف اہلکاروں کا نہیں بلکہ پورے تھانہ کلچر کا بنتا ہے ۔لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ایک ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کی شکایت نے بھی انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ الزام اپنی نوعیت میں انتہائی سنگین ہے۔ اگر کسی کمزور، ذہنی طور پر معذور یا اپنی حفاظت کے لیے دوسروں کی محتاج لڑکی کے ساتھ پولیس اسٹیشن میں جنسی زیادتی کا الزام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ محض ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ اس ادارے کے بنیادی تصور پر حملہ ہے، جس کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے تھانہ کسی بھی شہری کے لیے خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کی علامت ہونا چاہیے ۔خصوصاً خواتین، بچوں، معذور افراد اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے پولیس اسٹیشن وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انہیں سب سے زیادہ تحفظ ملے ۔اگر یہی لوگ پولیس اسٹیشن میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو پھر ریاست کے تحفظ کا تصور کہاں باقی رہ جاتا ہے؟

اسی طرح لاہور کینٹ میں اٹارنی جنرل کے گھر کا واقعہ بھی ایک سوال بنا ہوا ہے انکے گھر میں داخل ہوکر خواتین سے مبینہ بدتمیزی کا واقعہ
بھی پولیس کے طرز عمل کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے حالانکہ متعلقہ ایس ایچ او سمیت باقی سب اہلکاروں پر مقدمہ درج ہے ،کیا عام
شہری کے گھر داخل ہونے والوں پر بھی کبھی کوئی کاروائی ہوئی ؟اسی طرح سوشل میڈیا پر چلنے والی خبرکہ دیپالپور کے تھانے میں گریڈ 18 کے ایک افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور 18 چھتروں کی سلامی کا معاملہ بھی پولیس کلچر کے بارے میں ایک انتہائی خطرناک تصویر پیش کرتا ہے، یہ واقعہ اگر درست ہے تو سوال یہ ہے کہ ایک سرکاری افسر کو تھانے کے اندر اس طرح تشدد کا نشانہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا پولیس اسٹیشن تفتیش اور قانون کی عملداری کی جگہ ہے یا طاقت آزمائی کا میدان؟ اگر ایک گریڈ 18 کا افسر پولیس کے ہاتھوں مبینہ تشدد کا شکار ہوسکتا ہے تو ایک غریب مزدور، رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، دیہاڑی دار یا ایسا شہری جس کے پاس نہ سیاسی اثرورسوخ ہے، نہ وکیل کی فوری دستیابی اور نہ میڈیا تک رسائی۔

ذرا اندازہ لگائیں کی رات کی تاریکی بھیڑے نماانسان وردی پہنے اس کا جسم کیسے نوچتے ہونگے، نہیں یقین تو کسی ایسے فرد سے پوچھ لیں جس نے چند دن ان کی تفتیش بھگتی ہو خاص کر سی آئی اے کی پاکپتن کی دونوں بہنوں کا معاملہ اسی لیے بھی دل دہلا دینے والا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ لاہور میں پنسلیں فروخت کرکے زندگی گزارتی تھیں ۔ ایک طرف کروڑوں روپے کی کرپشن کے مقدمات برسوں عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں۔ بڑے بڑے ملزمان ضمانتیں حاصل کرتے ہیں ۔مقدمات نسلوں تک چلتے ہیں۔ دوسری طرف غریب شہری چند لمحوں میں پولیس کی گرفت میں آجاتا ہے۔ قانون کی طاقت کمزور پر پوری اور طاقتور کے سامنے کمزور کیوں دکھائی دیتی ہے؟یہ تاثر اگر معاشرے میں جڑ پکڑ گیا تو پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ختم ہوجائے گا۔

اس لیے پولیس حراست میں کسی بھی شخص کی موت کو معمولی واقعہ سمجھنا خطرناک ہے۔ حراست میں موجود شخص آزاد نہیں ہوتا۔ وہ پولیس کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ اس کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے ۔اسے کہاں رکھا جائے گا، کب کھانا ملے گا، طبی امداد کب ملے گی، کس سے ملاقات ہوگی، کس سے پوچھ گچھ ہوگی اور اسے ننگا کرکے کتنا ٹرپانا ہے۔ یہ سب پولیس کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اسی لیے حراست میں موت کی ہر صورت میں شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہونی چاہیے۔ آمنہ اور انمول کی موت کے معاملے میں بھی پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد، گرفتاری کا ریکارڈ، حراست کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، متعلقہ اہلکاروں کے بیانات، میڈیکل ریکارڈ اور دیگر تمام شواہد سامنے آنے چاہئیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں