لطیف آبا د میں متنازع تعمیرات، قواعد پامال
شیئر کریں
تعمیراتی اجازت، منظور شدہ نقشے اور سندھ بلڈنگ کی نگرانی پر سوالات اُٹھنے لگے
اورنگزیب رضی پر کرپشن کے الزامات، اعلیٰ حکام کی خاموشی، تحقیقات کا مطالبہ
……………………………
لطیف آباد یونٹ نمبر 9میں متنازع تعمیرات کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آگیا،
پرانی اور موجودہ عمارت کی تصاویر نے تعمیراتی اجازت، منظور شدہ نقشے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے۔
شہری و سماجی حلقوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی کارکردگی اور اعلیٰ افسران کی مبینہ خاموشی و سرپرستی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔شہریوں کے مطابق مذکورہ پلازہ کے حوالے سے پہلے بھی شکایات سامنے آچکی ہیں اور معاملہ میڈیا میں رپورٹ ہونے کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہیں۔
شہریوں کا سوال ہے کہ اگر تعمیرات منظور شدہ نقشے کے مطابق ہیں تو متعلقہ ادارہ ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہیں لاتا۔ذرائع اور شہری حلقوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی پر مبینہ کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرتے ہوئے تعمیراتی معاملات اور شکایات پر کارروائی نہ ہونے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اورنگزیب رضی کا اپنی نشست پر برقرار رہنا اور شکایات کے باوجود کسی واضح محکمانہ کارروائی کا سامنے نہ آنا اعلیٰ افسران کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے ۔ ان کے مطابق اگر ماتحت افسر کے خلاف شکایات موجود ہیں تو اعلیٰ حکام کو خاموش رہنے کے بجائے غیر جانبدارانہ انکوائری کرانی چاہیے۔
ذرائع نے بلڈنگ کنٹرول کے بعض اعلیٰ افسران کی مبینہ سرپرستی اور خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پلازہ کا دوبارہ معائنہ، منظور شدہ نقشے اور موجودہ تعمیر کا تقابلی جائزہ، تمام اجازت ناموں کی جانچ اور متعلقہ افسران کی کارکردگی کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔ ساتھ ہی اورنگزیب رضی پر عائد الزامات اور اعلیٰ افسران کی مبینہ سرپرستی کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کنٹرول کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی یقینی بنائی جائے تاکہ متنازع تعمیرات اور کرپشن کے الزامات کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے ۔


